
طیب عالم
کامیابی کیا ہے؟
تعارف: کامیابی
ایک گمشدہ تعریف کی تلاش
آج کے معاشرے میں "کامیابی" کا لفظ ہر طرف گونجتا ہے — کلاس رومز سے لے کر بورڈ رومز تک، سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینوں سے لے
کر خاندانی اجتماعات تک۔ ہر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے، ہر کوئی کامیابی کی دوڑ میں شامل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ کامیابی ہے کیا؟
جدید معاشرہ ہمیں کامیابی کی ایک سنگل سٹور
دیتا ہے۔ بڑی گاڑی، شاندار بنگلہ، اعلیٰ تعلیم، معاشرتی حیثیت، اور لامحدود مادی آسودگی۔ میڈیا، اشتہارات اور سماجی دباؤ نے کامیابی کو مادی اشیاء اور بیرونی نشانوں میں محدود کر دیا ہے۔ کامیابی اب نمبروں کا کھیل بن گئی ہے — بینک بیلنس کے نمبر، سوشل میڈیا فالورز کے نمبر، جائیدادوں کے نمبر۔
لیکن کیا یہی کامیابی کی اصل تعریف ہے؟ کیا وہ طالب علم جو اعلیٰ نمبر لے کر ڈگری تو حاصل کر لے مگر اندرسے خالی ہو، واقعی کامیاب ہے؟ کیا وہ تاجر جو کروڑوں کما لے مگر راتوں کو نیند کی گولیاں کھاتا ہو، کامیاب ہے؟ کیا وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ہزاروں لائکس تو پا لے مگر حقیقی زندگی میں تنہائی کا شکار ہو، کامیاب ہے؟
آئیے، اس سفر کا آغاز کرتے ہیں — کامیابی کی گمشدہ تعریف کی تلاش کا سفر۔
سب سے پہلے ہم تین بنیادی چیزوں کو سمجھیں گے۔
1) مقصد
2) سٹرگل
3) اچیومنٹ
مقصد :
مقصد وہ وجہ/ہدف ہے جو آپ کو سٹرگل کرنے پر مجبور کرتی ہے اور جس کی تکمیل پر اچیومنٹ حاصل ہوتی ہے۔
مثالیں:
· طالب علم: معزز ڈاکٹر بننا۔
· کھلاڑی: ملک کا نام روشن کرنا۔
· کاروباری: لوگوں کے مسائل حل کرنا۔
سٹرگل: (جدوجہد)
سٹرگل وہ عمل ہے جس میں آپ کسی چیز کے حصول یا کسی مسئلے کے حل کے لیے محنت، کوشش اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اا
مثالیں:
· طالب علم:روزانہ 5 گھنٹے پڑھائی۔
· کھلاڑی: روزانہ مشق، ڈائٹ، ٹریننگ۔
· کاروباری: مارکیٹ ریسرچ، فنڈز جمع کرنا، راتوں کو جاگنا۔
اچیومنٹ: (کارنامہ)
اچیومنٹ وہ نتیجہ ہے جو سٹرگل کے بعد حاصل ہوتا ہے — ایک واضح، قابلِ پیمائش اور تسلیم شدہ کامیابی۔
مثالیں:
· طالب علم: ڈگری/سرٹیفکیٹ ملنا.
· کھلاڑی: ٹرافی جیتنا.
· کاروباری: کمپنی کا رجسٹر ہو جانا.
یہ تین ایسی بنیادی چیزیں ہیں جو کہ ہمیں سکسس دلواتی ہے۔اپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اچیومنٹ اور سکسس دونوں ایک ہی چیز ہے لیکن ایسا نہیں۔
مثال کے طور پر؛
1. ڈگری مل گئی لیکن نوکری نہیں۔
2. شادی ہو گئی لیکن خوش نہیں۔
3. پیسہ کما لیا لیکن صحت خراب۔
4. پروموشن مل گئی لیکن ذہنی دباؤ
ان چاروں میں سے ایک بھی کامیابی نہیں لیکن اچیومنٹ ضرور ہے۔یعنی اس صورت میں سکسس صرف کسی ظاہری چیز کو حاصل کرنا نہیں کسی ظاہری چیز کا مل جانا نہیں بلکہ ایک حالت ہے ایک احساس ہے ایک کیفیت ہے جو کہ ہونا ضروری ہے ورنہ وہ چیز سکسیس نہیں رہے گی۔
اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسی کون سی چیز ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد، اچیو کرنے کے بعد انسان ہمیشہ خوش رہتا ہے ہمیشہ سکون میں رہتا ہے۔یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا کی ہر چیز عارضی طور پر سکون دیتی ہے، خوشی دیتی ہے اور پھر وہ چلی جاتی ہے۔تو پھر وہ چیز سکسس نہیں ہو سکتی کامیابی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ سکسس میں کسی چیز کا حاصل ہونا ضروری ہے اور اس میں ہمیشہ خوش رہنا بھی ضروری ہے۔
پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سٹرگل صرف اندرونی سکون کا نام نہیں۔ جدوجہد کا نام ہے، سٹرگل کا نام ہے،کیونکہ انسان سٹرگل کے ذریعے سے چیزوں کو اچیو کرتا ہے اور اس اچیومنٹ سے اسے بار بار خوشی ملتی ہے نہ صرف اسے خوشی ملتی ہے بلکہ وہ اگے بڑھتا جاتا ہے اور ایک وقت اتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔تو اپ یہ کہیں گے کہ اس کے اندر خوشی بھی ہے اور اچیومنٹ بھی لیکن یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ یہ اب سٹرگل بن چکا ہے اور انسان سٹرگل اس لیے کرتا ہے تاکہ ایک دن ایسا آئے وہ سکون کی سانس لے پائے لیکن وہ دن اتا ہی نہیں۔
مثال کے طور پر؛
ایک نوجوان جو کہ تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ ایک بڑا ڈاکٹر بنے وہ اس کے لیے دن رات محنت کرتا ہے اچھے کالج میں اسے داخلہ ملتا ہے اس کے بعد اچھی میڈیکل یونیورسٹی میں اسے داخلہ ملتا ہے اور دن رات محنت کرتا ہے اپنے اور خواہشات کو ترک کرتا ہے اس چیز کے لیے اور اخر کار وہ ڈاکٹر بن جاتا ہے کیا یہ کامیاب ہو گیا کیا اب اسے زیادہ جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیا اس کے لیے ہر کام اسان ہو گئے نہیں بلکہ اس کی جدوجہد اور سخت ہو گئی اس کے اوپر ایک اور ذمہ داری اگئی کہ جب بھی مریضوں کو اس کی ضرورت پڑے یہ حاضر رہے خواہ رات کے تین بجے ہی کیوں نہ ہو خواہ یہ اپنی فیملی کے ساتھ ٹائم ہی کیوں سپینڈ نہ کر رہا ہے اب اس کے اوپر جو ذمہ داری ہے وہ اسے نبھانی ہے خواہ اس میں وہ خوش ہو یا نہ ہو یعنی اس کی جدوجہد میں اس کی سٹرگل میں اور اضافہ ہو گیا جبکہ بظاہر دیکھنے میں وہ کامیاب نظر اتا ہے۔اور جتنا وہ اگے بڑھتا جائے گا اس کے ذمہ داریوں میں اس کے سٹرگل میں اور اضافہ ہوتا جائے گا جب تک کہ اس کی طاقت جواب نہ دے دے۔"میں سمجھتا تھا کہ چیزوں کا ملنا بڑی کامیابی ہے۔بعد میں سمجھ ایا یہ تو ذمہ داری ہے" تو کیا اپ اس چیز کو کامیابی کہتے ہیں؟
پھر تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک بندہ ڈاکٹر ہے لوگوں کا علاج کر رہا ہے، خدمت کر رہا ہے۔اسے اس کام سے بار بار سکون مل رہا ہوگا لیکن وہ سکون بھی اس جدوجہد پر انحصار کر رہی ہے جب تک وہ جدوجہد کرتا رہے گا اسے وہ خوشی ملتی رہے گی اور ہم نے اوپر سمجھ لیا کہ جدوجہد کو کامیابی نہیں کہتے اور ضروری نہیں کہ بندہ لوگوں کی خدمت کرے اور وہ خوش رہیں۔ اپ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں لوگوں کے لیے اچھا سوچ رہے ہیں لیکن اپ کی کوئی قدر نہیں کر رہا اپ اپنی طرف سے پوری جدوجہد کر رہے ہیں لیکن پھر بھی اپ کو برا بھلا کہا جاتا ہے،اپ کو دکھ پہنچایا جاتا ہے، اپ کے سکون کو تھوڑا جاتا ہے،جس کے بعد وہ مایوسی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔تو کیا یہ کامیابی ہے؟جی نہیں۔تو پھر کامیابی ہے کیا؟
ان ساری چیزوں کو سمجھنے کے بعد اب ہمیں یہ واضح ہو گیا کہ کامیابی نام کی کوئی چیز اس دنیا میں موجود ہی نہیں کیونکہ اس کی ریکوائرمنٹس اس دنیا میں پوری ہی نہیں ہو سکتی جو کہ ہماری فطرت ڈیمانڈ کر رہی ہے جس کی تلاش میں ہم اپنی ساری عمر گزار دیتے ہیں اور وہ ہمیں نہیں ملتی یعنی یہ دنیا ہمیں کامیابی کے نام پر ہم سے ہماری عمر ہمارا وقت چھین لیتی ہیں اور ہمیں اس کا پتہ بھی نہیں چلتا اور ہمیں دھوکہ دے کر یعنی موت کے پاس چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔"انسان کی خواہشات ہی اسے موت تک لے جانے کے لیے کافی ہے"۔
اب ہم نے جتنا بھی سمجھا، اس میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے سٹرگل (جدوجہد)۔ سکون حاصل کرنے کے لیے بھی انسان سٹرگل کرتا ہے، خواہش کو پورا کرنے کے لیے بھی انسان سٹرگل کرتا ہے، آگے بڑھنے کے لیے بھی انسان سٹرگل کرتا ہے۔ جب وہ ہارتا ہے تو سٹرگل کرتا ہے، جب وہ جیتتا ہے تو سٹرگل کرتا ہے۔ سٹرگل کے دوران ہمیں ہماری خواہش کی کوئی چیز مل جاتی ہے تو ہم اسے "سکسیس" کہہ دیتے ہیں، لیکن ہم پھر بھی سٹرگل کر رہے ہوتے ہیں۔
مثلاً میں نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر لی، میں ڈاکٹر بن گیا، لیکن میں ہسپتال نہیں جا رہا جہاں مجھے کام کرنا ہے — کیونکہ میں تو ڈاکٹر بن گیا ہوں۔ اب میں جاؤں یا نہ جاؤں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ فرق ضرور پڑتا ہے! اگر آپ ہسپتال جانا چھوڑ دیں گے تو آپ کو وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ یعنی آپ ڈاکٹر بھی جدوجہد کی وجہ سے ہیں۔
اسی طرح انسان کی اندرونی ہر شے — خواہ وہ علم ہو، اچھا عمل ہو — یہ جدوجہد پر انحصار کرتی ہے۔ اگر آپ علم کا استعمال نہیں کریں گے تو یہ آپ سے چلی جائے گی۔ اگر آپ اچھے عمل کو نہیں اپنائیں گے تو وہ آپ سے چلا جائے گا۔
ہم نے یہ ساری باتیں دنیا کے زاویے سے کی ہیں اور اس کے ذریعے ہم نے "سکسیس" کو تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ہمیں نہیں ملی۔ اب ہم ان سارے مسائل کو سامنے رکھ کر قرآن میں اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جدوجہد کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟
سورہ البلد، آیت 4:
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾
ترجمہ:
"یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے۔"
یہاں پر قرآن نے ایک چیز واضح کر دی ہے کہ انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے — خواہ وہ مشقت جسمانی لحاظ سے ہو یا اندرونی لحاظ سے — وہ اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ قرآن نے یہ بات ہمیں پہلے ہی سمجھا دی کہ تم سٹرگل سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے سٹرگل کرنے کی صلاحیت ہمیں دی ہے، تو کس چیز کے لیے دی ہے؟
سورہ الذاریات، آیت 56:
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
ترجمہ:
"میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔"
قرآن کی اس آیت میں موجود لفظ "عبادت" کیا ہے؟ عبادت کے معنی کو سمجھتے ہیں، اس سے ہمیں ہماری زندگی کا مقصد بھی پتہ چل جائے گا۔
عبادت
عبادت صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزارنا ہی عبادت ہے۔ "عبادت" جو کہ "عبد" سے نکلا ہے، جس کے معنی "غلام" کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مالک ہونے کا اعلان سن کر، اسے اپنا مالک تسلیم کرتے ہوئے، اپنی آزادی، خواہشات، ارادوں اور پوری زندگی کو اس کی مرضی کے تابع کر دینا — عبادت ہے۔
"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ"
ترجمہ
"حکم صرف اللہ ہی کے لیے ہے" (الانعام: 57)
· مطلب: زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا۔
· مثال: کاروبار، نکاح، عدل، اخلاق — سب میں اللہ کی مرضی کو ترجیح دینا۔
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"
ترجمہ:
"کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اورمیرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے" (الانعام: 162)
مطلب
· کھانا پینا (صحت مند رہنے کے لیے)
· سونا (عبادت کے لیے طاقت حاصل کرنے کے لیے)
· کام کرنا (حلال روزی کمانے کے لیے)
· علم حاصل کرنا (اللہ کے دین کو آگے بڑھانے کے لیے)
یہ سب عبادت ہے، اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ اگر آپ ایک طالب علم ہیں اور آپ اس نیت سے علم حاصل کر رہے ہیں کہ "میں اللہ کے دین کو پہنچاؤں گا" — تو یہ آپ کی عبادت ہے۔ اگر آپ ایک بزنس مین ہیں اور آپ کی نیت یہ ہے کہ "میں انصاف کے ساتھ اپنے معاملات چلاؤں گا اور اپنے دین کو اپنے عمل سے صحیح طور پر پیش کروں گا، اپنے دین کو طاقتور بناؤں گا" — تو یہ آپ کی عبادت ہے۔ یعنی آپ کا سارا عمل خدا کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ اپنی خواہشات کی رضا کے لیے۔ اور یہی مسلمان کا اس دنیا میں اصل مقصد ہے۔
اب اس سے ایک اور بات ظاہر ہو گئی کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ "دین الگ چیز ہے اور دنیا الگ چیز" — ایسا بالکل نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہماری دنیا کے ہر معاملات دین سے جڑے ہوئے ہیں، بس مقصد کا فرق ہے۔ اگر مقصد خدا کی رضا ہے تو وہ دین ہے جس کے اندر دنیا موجود ہے۔ اگر مقصد خواہشات ہیں تو وہ دنیا ہے جس کے اندر دین موجود نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ.
ترجمہ:
"اور ان کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت تم سے ہو سکے تیار رکھو" (الانفال: 60)
یعنی تم جتنا سٹرگل کر سکتے ہو، کرو۔ جتنی صلاحیتیں تمہیں خدا نے دی ہیں، ان کا بھرپور استعمال کرو — اپنی خواہشات کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اصل مقصد (خدا کی رضا، خدا کے دین) کے لیے۔
اگر ہم مقصد کے معنی پر غور کریں — یعنی "مقصد وہ وجہ/ہدف ہے جو آپ کو سٹرگل کرنے پر مجبور کرتی ہے اور جس کی تکمیل پر اچیومنٹ حاصل ہوتی ہے" — تو اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر انسان کسی مقصد کے تحت اس دنیا میں آیا ہے، کیونکہ اس کی پوری زندگی ایک جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اب ان لوگوں کے لیے کوئی جواز نہیں بچتا جو کہتے ہیں کہ "ہم دنیا میں خود ہی سے آ گئے ہیں" — کیونکہ ان کی فطرت ہی انہیں بتا رہی ہے کہ تمہارا کوئی مقصد ہے۔
اب، جدوجہد کی تکمیل پر اچیومنٹ ملتی ہے — یہ دنیا میں ناممکن سی بات ہے۔ اب اس کو بھی قرآن کی روشنی سے سمجھتے ہیں۔
نیچے پیش کی جانے والی آیات ایک ہی سورت (سورہ الصف) کی ہیں
سورہ الصف، آیت 10:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾
ترجمہ:
"اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتلا دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟"
ہم اس دنیا میں جو سٹرگل کرتے ہیں، وہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم اپنےآپ کو ناکامی سے بچا سکیں، لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ لیکن اس آیت میں اللہ خود گارنٹی دے رہے ہیں کہ جس ناکامی کے خوف سے تم اپنی پوری زندگی لگا دیتے ہو (ایک بے مقصد چیز پر جو کہ عارضی ہے)، اس زندگی کو اس مقصد کے لیے لگاؤ جس کے لیے تمہیں بنایا گیا ہے — تو تم ضرور ناکامی سے بچ جاؤ گے اور کامیاب ہو جاؤ گے۔ اور قرآن نے اس بات کو کتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ "ناکامی" کی تعریف بھی دے دی ہے۔ یعنی وہ کیا ناکامی جس کے بعد تمہیں کامیابی نصیب ہو — تو ایسی ناکامی سے کیسے ڈر؟ اور وہ کیا کامیابی جس کے بعد تمہیں ناکامی نصیب ہو — تو ایسی کامیابی سے کیسے خوشی؟ جبکہ ہم نے اسی کو اپنی خوشی اور غم بنا لیا ہے، اور اسی کے خوف اور چاہت سے ہم اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔
سورہ الصف، آیت 11:
تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو۔"
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا لازم ہے — کیونکہ یہ وہ راستہ ہے جس کی مانگ تمہاری فطرت کر رہی ہے کہ "مجھے بنایا ہی اسی کے لیے گیا ہے تاکہ میں کامیابی تک پہنچ سکوں، اور میرے اندر وہ صلاحیتیں بھی رکھی ہوئی ہیں جو مجھے اس کامیابی تک پہنچنے کے لیے دی گئی ہیں۔" ہمیں معلوم ہے کہ کسی چیز کو پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہم سے ہماری خواہش اور ہماری زندگی کی قربانی چاہتا ہے — یعنی جو مال تمہارے پاس ہے، اسے بھی خدا کی رضا کے لیے خرچ کرو، اور اپنی جانوں سے جہاد کرو، جدوجہد کرو۔ جس بھی عہدے پر تم ہو، اس عہدے میں دل و جان سے خدا کی رضا کے لیے، خدا کے دین کے لیے، اور اپنے فائدے کے لیے(یعنی جنت کے لیے) جدوجہد کرو، تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔ اور یہی تمہارے لیے بہتر ہے — اگر تم جانتے ہو۔
سورہ الصف، آیت 12:
یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَ یُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۙ۱۲﴾
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور صاف ستھرے گھروں میں — جو جنت عدن میں ہوں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔"
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بندہ مومن کی نظر کس کامیابی پر جمی رہنی چاہیے؟ دنیا کی کامیابی پر نہیں، دین کی کامیابی پر بھی نہیں — آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نصب العین صرف آخرت۔ اگر آپ نے دنیا میں کامیابی کو نصب العین بنا لیا تو گڑبڑ ہو جائے گی — کیونکہ دنیا میں کامیابی موجود نہیں۔ اور اگر آپ کو کامیابی ملے گی نہیں، تو آپ اس کو حاصل کرنے کے لیے غلط راستے کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی اصل وجہ ہے ہماری دنیا میں ناانصافی اور برائی کرنے کی۔ ہمیں اوپر کی آیت میں بتا دیا گیا ہے کہ ہمارا کام صرف جدوجہد کرنا ہے — خدا نے جتنی بھی صلاحیتیں دی ہیں، ان کا بھرپور استعمال کرنا ہے۔
اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سکسیس کی تعریف بتا دی — جس چیز کو تم دنیا میں تلاش کر رہے ہو، وہ تمہیں کبھی بھی نہیں ملے گی سوائے جنت کے۔ اس کو ہم نے تمہاری فطرت میں ہی ڈال دیا ہے، تاکہ تم اسی کی طرف جدوجہد کرو — لیکن تم نے اپنا رخ کسی اور طرف کر لیا ہے، جس کے اندر تم بار بار پستتے جا رہے ہو۔
اس بات کی وضاحت کرتا چلوں: چند لوگ یہ سوچیں گے کہ قرآن میں موجود ہے کہ اللہ سے دنیا کی کامیابی بھی مانگو اور آخرت کی بھی۔
سورہ البقرة، آیت 201:
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾
ترجمہ:
"اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔"
اس آیت میں "فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں مال اور جائیداد وغیرہ مانگنا مراد ہے۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ ہر چیز دنیا میں "حسنہ" تب تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا تعلق مقصد سے نہ ہو جو کہ خدا نے ہمیں بتایا ہے۔
یعنی ایک شخص کے پاس مال بہت زیادہ ہے، لیکن وہ اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا، تو وہ دنیا میں "حسنہ" نہیں ہے۔ اور یہ دعا بھی جہنم سے بچنے کے لیے کی جا رہی ہے کہ: "اے اللہ! ہمیں دنیا میں ایمان اور ہدایت دیں" — جو کہ سب سے بڑی نیکی (حسنہ) ہے۔
تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہاں پر اس دنیا میں جس نیکی کی بات کی جا رہی ہے، اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہونا ضروری ہے — کیونکہ اس کا انعام اسے آخرت میں ہی مل سکتا ہے۔ اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔
اپ کو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ قران میں لفظ فلاح کا ذکر کیا گیا ہے ارشاد باری تعالی ہے۔
سورۃ المومنون (23)
(آیت 1)
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ
"بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے۔"
(آیت 2)
الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
"جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔"
(آیت 3)
وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ
"اور جو بیہودہ باتوں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔"
(آیت 4)
وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ
"اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔"
(آیت 5)
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ
"اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
اس آیت میں اللہ نے جو خصوصیات بتائی ہیں، یہ خصوصیات کامیابی نہیں، بلکہ کامیابی کی طرف لے جانے والی ہیں اور اس کی وجودیت آخرت میں ہے۔ یعنی یہ وہ ذرائع ہیں جو ہمیں کامیابی تک پہنچاتے ہیں۔
نتیجہ: انسان کی ساری سٹرگل دراصل فطری ہے لیکن اس سٹرگل کو اگر مقصدِ حیات (اللہ کی عبادت) سے جوڑدیا جائےتو یہی سٹرگل آخرت میں حقیقی اور دائمی کامیابی (جنت) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ دنیا میں "مکمل سکسیس" کا تصور محال ہے — کیونکہ انسان کی فطرت ہمیشہ کی کامیابی چاہتی ہے جو صرف آخرت میں ممکن ہے۔




































