
زینت خالد
علم کا سفر فاصلے ناپنے نہیں آتا، بعض اوقات یہ دلوں کو بیدار کرنے اور سمتیں درست کرنے آتاہے ۔ ایسا ہی ایک بابرکت سفر اُس وقت شروع ہوا
جب صبح گیارہ بجے ہم صادق آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ یقیناً طویل تھامگر ہم سفر بہت زندہ دل تھے اور جب نیت میں سیکھنے کی لگن ہو تو فاصلے بھی مسکراہٹ بن جاتے ہیں۔ شام سات بج کر تیس منٹ پر ہم لاہور پہنچے۔ اسٹاپ پر مختصر قیام، واپسی کے ٹکٹ کی تیاری اور پھر منصورہ کی طرف روانگی—یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے شہر کے شور سے نکل کر کسی منظم، پُرسکون اور مقصد سے بھرپور بستی میں قدم رکھ دیا ہو۔
منصورہ میں داخل ہوتے ہی ایک خاص سکون دل میں اترنے لگا۔ سرسبز درخت، صاف ستھرا ماحول، منظم عمارتیں اور ایک خاموش وقار—یہ سب کچھ گویا بتا رہا تھا کہ یہ جگہ صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر، تربیت اور دعوت کا مرکز ہے۔ رجسٹریشن پر ڈاکٹر ثمینہ روحی سے ملاقات ہوئی جو کہ بہت دلچسپ شخصیت ہیں ماشاءاللہ بہت اچھا لگا ان سے مل کر رجسٹریشن کے بعد بورڈ پر درج چارٹس سے اپنا کمرہ تلاش کیااور جب کمرے میں قدم رکھا تو گھریلو ماحول نے اجنبیت کا احساس ختم کر دیا۔ کمرہ صاف ستھرا، بستر آرام دہ، اور سب سے بڑھ کر ہم کمرہ ساتھی—جو بہاولنگر سے تعلق رکھتی تھیں—انتہائی ملنسار، شفیق اور محبت کرنے والی نکلیں۔ چند لمحوں میں ہی یوں لگا جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔
تازگی کے لیے وضو کیا، قضا نمازیں ادا کیں، قصر نمازوں کا ایک خاص روحانی لطف تھا—دل میں خوشی بھی تھی اور شکر بھی۔ پھر ڈائننگ ہال کا رخ کیا۔ وہاں موجود کچن اسٹاف کا خلوص قابلِ دید تھا، گرم اور باعزت انداز میں کھانا پیش کیا گیا۔ چائے کی چسکیوں کے ساتھ دن بھر کی تھکن آہستہ آہستہ اترتی چلی گئی۔ اسی سکون کے عالم میں ہم اپنے کمروں کو لوٹ آئے اور باتوں باتوں میں نیند کی آغوش میں چلے گئے۔
صبح چھ بجے الارم کی آواز نے بیدار کیا۔ فضا میں عجب خاموشی تھی، جیسے منصورہ خود عبادت میں مشغول ہو۔ اسی لمحے دل میں یہ صدا گونجی:
وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں؟
زمیں پوچھتی ہے، نمازی کہاں ہیں؟
یہ اشعار محض الفاظ نہیں تھے، ایک پکار تھے۔ وضو کیا، نماز ادا کی، اور پھر تلاوتِ قرآن پاک نے دل کو ایک نئی تازگی عطا کی۔ناشتے کے بعد عبایا پہن کر ہم آڈیٹوریم کی جانب روانہ ہوئیں۔ یہ ٹریننگ کا پہلا دن تھا۔ شرکاء کی آمد کے ساتھ ہال میں زندگی کی رمق بڑھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر حمیرا طارق صاحبہ تشریف لائیں۔ ان کی موجودگی نے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ وہ نہایت خلوص اور شفقت سے سب سے مل رہی تھیں اور ان کے چہرے سے جھلکتی مسکراہٹ اس بات کی گواہ تھی کہ یہ محض ایک ورکشاپ نہیں بلکہ ایک فکری مشن ہے۔ ماشاءاللہ قیمہ پاکستان ڈاکٹر حمیرا را طارق اتنی بڑی ہستی مگر بہت سادہ مزاج ۔
تلاوتِ قرآن پاک سے باضابطہ آغاز ہوا۔ اس کے بعد محترمہ انیلا محمود نے “خیرکم من تعلم القرآن” کی تشریح کرتے ہوئے قرآن سیکھنے اور سکھانے کی عظمت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ پھر ڈاکٹر حمیرا طارق صاحبہ نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد واضح کیے۔ ان کے الفاظ میں یقین، سمت اور وژن جھلک رہا تھا۔
مرکزی ٹرینر، شعبہ تربیہ جماعت اسلامی کے ہیڈ ڈاکٹر شاہد وارثی نے سیشن کا آغاز کیا۔ انہوں نے مختلف اضلاع کا جائزہ لیا اور دورۂ قرآن کے عملی طریقۂ کار کو نہایت علمی اور جامع انداز میں سمجھایا۔ ان کی گفتگو محض معلوماتی نہیں تھی بلکہ فکری رہنمائی لیے ہوئے تھی۔ انہوں نے 2030 تک ایک کروڑ خواتین کو جماعتِ اسلامی سے جوڑنے کے عزم کا ذکر کیا اور اس ہدف کے حصول کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مدرسہ کی صفات، ذمہ داریاں اور دعوتی شعور یہ سب نکات دل پر نقش ہوتے چلے گئے۔
ظہر و عصر اور کھانے کے وقفے کے بعد ساڑھے تین بجے دوبارہ آڈیٹوریم میں حاضری ہوئی، جہاں سیشن مکمل کیا گیا۔ عشاء اور کھانے کے بعد گروپ ڈسکشن کا مرحلہ آیا، جو اس دن کا نہایت دلچسپ اور سیکھنے سے بھرپور حصہ تھا۔ ہماری گروپ لیڈر محترمہ شازیہ سیال صاحبہ کی تھی۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنا، سننا اور سیکھنا میرے لیے اعزاز بھی تھا اور سعادت بھی۔ نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو ماشاءاللہ ۔۔
ہمیں پارہ نمبر 16 تا 20 سے مضامین اخذ کرنے کا ہدف دیا گیا۔ سب نے اپنے اپنے گروپس میں جوش و خروش سے کام شروع کیا۔ یہ محض ایک اسائنمنٹ نہیں تھا، بلکہ قرآن سے جڑنے اور اس کی فکری جہدوجہد کو سمجھنے کی ایک عملی مشق تھی۔دن بھر کی مصروفیات کے بعد ہم کمروں کو لوٹیں۔
یہ آخری رات تھی۔ کمرہ کی ساتھیوں کے ساتھ باتیں ہو رہی تھیں، آنکھوں میں نیند تھی مگر دل بیدار تھے ،اسی دوران محترمہ سعدیہ ذیشان صاحبہ تشریف لائیں چونکہ میرے کمرہ کی ساتھی بہاولنگر سے تھیں، ان کے ساتھ رپورٹ سیشن شروع ہوا۔ میں چاہتی تو آرام کر سکتی تھی مگر ان تجربات کو سن کر جو سیکھنے کو ملا، وہ نیند سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔ یوں باتوں اور سیکھنے کے اس سلسلے میں رات کے دو بج گئے۔
یہ صرف ایک دن نہیں تھا، یہ ایک آغاز تھا—دل کے اندر اترنے والی ایک روشنی کا۔




































