
انیلا عمران
کون کہتا ہے خدا نظر نہیں آتا
وہی تو نظر اتا ہے جب کوئی نظر نہیں آتا
پچھلے دنوں ایک ملحد اور ایک مفتی صاحب کا مناظرہ انکھوں کے سامنے سے گزرا جس میں مفتی صاحب خدا کے وجود کو دلائل کے ذریعے ثابت
کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کیا خدا کا وجود دلائل کا محتاج ہے ؟ایجادات اور دریافت کی اتنی وسیع دنیا میں کیا ابھی تک انسان نے کائنات کی یہ سب سے بڑی دریافت نہیں کی؟
خدا کے وجود کے دلائل دینا ایسا ہی ہے جیسا اپنے وجود کو موجود ثابت کرنا ،انسان کا وجود ہی خدا کی سب سے بڑی دلیل ہے ،خدا دلیل نہیں یقین کا نام ہے، خدا محسوسات نہیں احساسات کا نام ہے۔ سورج کی روشنی کو کبھی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خدا کو عقل دلیل اور فلسفے سے نہیں بلکہ اس کی نشانیوں سے ثابت کیا جاتا ہے۔ خدا کائنات کی حقیقت ہے ،خدا وہ حق ہے جسے ثبوت کی نہیں یقین کی ضرورت ہے ۔
اگر الحاد کی حقیقت پر غور کیا جائے تو اصل میں یہ انسان کا اپنے وجود سے فرار ہے ،یہ فرار خدا کے وجود سے نہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی کائنات اور فطرت سے بغاوت ہے الخاد خدا کی بنائی ہوئی خدوں کو توڑنے کا نام ہے ۔خدا ایک کائناتی حقیقت ہے منکر خدا اصل میں خدا کا انکار نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنی خواہش نفس کے ہاتھوں مغلوب ہوتا ہے ۔
اللہ تعالی ٰقران پاک میں فرماتے ہیں کہ" اللہ تعالی کسی منکر حق کو ہدایت نہیں دیتا "خدا ہر انسان کی ضرورت ہے ہر دورکا انسان ایک برتر وجود کی تلاش میں رہا ،اسے ایک ان دیکھے سہارے کی ضرورت ہمیشہ رہی یہ ضرورت کبھی وہ مظاہر قدرت کو خدا بنا کر پوری کرتا رہا اور کبھی پتھر کے دیوتا بنا کر تاریخ کا سب سے بڑا فلسفی افلاطون خدا کو اعلیٰ خیر کامل' ابدی اور تمام حسن و عدل کا سرچشمہ قرار دیتا ہے، انسانی عقل کی انتہا ہی خدا کی ابتدا ہے ،جہاں عقل و دلیل ختم ہوتی ہے وہیں خدا کا وجود نظر آتا ہے۔
انسان تو اب تک خدا کی بنائی ہوئی کائنات دریافت نہ کر سکا اسمان کی وسعتوں میں پھیلے جہاں اور لاکھوں نوری سال کی مسافت پر واقع گلیکسیز اس زمین کے سینے میں چھپے ہوئے راز سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپی ہوئی مخلوقات اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر چھپی ہوئی روح کو دریافت نہ کر سکا اگر خدا کی یہ خدائی ہی عقل سے ماورا ہے تو پھر خدا کو عقل سے کیسے دریافت کیا جا سکتا ہے خدا فراموشی انسان کو خود فراموشی اور احسان فراموشی کی طرف لے جاتی ہے
امام جعفر صادق فرماتے ہیں" کہ انسان تو اپنے جسم میں بہتے خون کو نہیں دیکھ سکتا خدا کو کیسے دیکھے گا" اگر انسانیت ڈی این اے "ایٹم "کشش ثقل" بلیک ہول "قوت اچھال" کوانٹم فزکس" اہرام مصر" نوح کی کشتی" سدوم کے کھنڈرات" فرعون کی سمندر برد لاش اور رحم مادر میں ایک قطرے سے قدرت کا شہکار تحلیق ہونے کے مراخل دریافت کر چکی ہے اور خدا کو تلاش نہ کر سکی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی دریافت کا سفر دوبارہ سے شروع کرنا ہوگا
دنیا کی ہر دریافت تلاش سے شروع ہوتی ہے اور دنیا کا ہر خزانہ چھپا ہوتا ہے خزانہ ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتا خزانہ اسی کا مقدر بنتا ہے جو اس کی تلاش میں نکلتا ہے اور خزانہ نقشے اور رہنما کے بغیر دریافت نہیں ہوتا
قران ہی وہ نقشہ ہے جو خدا کو دریافت کرواتا ہے اور پیغمبر ہی وہ ہستی ہے جو خدا سے ملواتی ہے میرا خدا تو اسی دن دریافت ہو گیا تھا جب اس نے میرے اندر روح پھونکی جب اس نے ابراہیم کو اگ سے نجات دی موسی سے ہم کلام ہوا یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا عیسیٰ کو زندہ آسمان پر اٹھایا اصحاب کہف کو 300 سال بعد دوبارہ زندہ کیا اور نبی مہربان سے عرش پر ملاقات کی .
خلق پہچانتی نہ تجھے حشر تک
رہنما گر نہ ہوتے رسول خدا




































