
عائشہ بی
عثمان ہادی کو شہید کر دیا گیا
یہ الفاظ صرف خبر نہیں، ایک دل ہلا دینے والا نوحہ ہیں۔عثمان ہادی کی شہادت نے ہر حساس دل کو زخمی کر دیا ۔ وہ صرف ایک نام نہیں تھے، وہ امید، جرات اور حق کی گواہی تھے۔ ظلم کے سائے میں سچ بولنا آسان نہیں ہوتا مگر عثمان ہادی نے یہی راستہ چُنا—اور اسی کی قیمت اپنی جان سے ادا کی۔
شہید کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ تاریخ کے ماتھے کا وہ سنہری جھومر بن جاتے ہیں جو ایک اعلیٰ عملی مثال کے طور پر اپنے انمٹ نقوش دنیا پر ثبت کر جاتے ہیں۔
عثمان ہادی آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر نہیں مگر ان کی آواز، ان کا موقف اور ان کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ عثمان ہادی ایک سچے اور کھرے، جوشیلے بہادر نوجوان تھے ،وہ جرات و ہمت کا استعارہ تھے ،وہ ستارہ تھے، کہکشاں ہوگئے عثمان ہادی اپنی جدوجہد و قربانیوں کے ذریعے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پوری امت کے نوجوانوں کے لیے ایک بہترین رول ماڈل بن کر آئے ہیں کہ جنہوں نے حق اور سچ کے راستے میں نہ صرف صعوبتیں جھیلیں بلکہ جام شہادت نوش کیا۔ شہید کبھی نہیں مرتے وہ زندہ رہتے ہیں ،قرآن اس بات کی گواہی دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرےاور ہمیں اتنی ہمت دے کہ ہم سچ کا ساتھ دینا نہ چھوڑیں ،چاہے قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ اللہ پاک عثمان ہادی کی شہادت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو سچائی کے ساتھ کھڑے ہو نے کی توفیق عطا فرمائے۔




































