
ثروت اقبال
ایک اور سال گزر گیا اور نیا سال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ہر نیا سال اپنے ساتھ امید بھی لاتا ہے اور سوال بھی۔ سوال یہ کہ کیا یہ
سال کچھ بدلے گا؟ کیا نوجوانوں کی زندگی آسان ہو گی؟ یا ہم پھر وہی مسائل، وہی وعدے اور وہی مایوسی ساتھ لے کر آگے بڑھ جائیں گے؟
سچ یہ ہے کہ آج کا نوجوان سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ تعلیم کے بعد روزگار کی فکر، مہنگائی کا بوجھ اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نے ذہن تھکا دیے ہیں۔ بہت سے نوجوان اس سوچ میں ہیں کہ شاید اس ملک میں آگے بڑھنے کا راستہ نہیں مگر نئے سال کا مطلب ہی یہی ہے کہ پرانی سوچ کو پیچھے چھوڑ کر نئی راہیں تلاش کی جائیں۔
یہ ماننا پڑے گا کہ صرف ڈگری اب کافی نہیں رہی،آنے والا وقت ہنر، ٹیکنالوجی اور تخلیقی سوچ کا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کریں۔ آن لائن کام، ڈیجیٹل اسکلز، چھوٹے کاروبار اور فری لانسنگ جیسے مواقع آج پہلے سے کہیں زیادہ موجود ہیں لیکن یہ ساری ذمہ داری نوجوانوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں، ریاست اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ تعلیمی نظام کو عملی بنانا، صنعت اور تعلیم کو جوڑنااور نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنا وقت کی ضرورت ہے۔
نئے سال میں نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اپنی آواز پہچاننا ہو گی۔ سیاست سے دور بھاگنے کے بجائے سوال کرنا سیکھیں، شعور حاصل کریں اور اپنے حق کے لیے پرامن انداز میں کھڑے ہوں، خاموشی کبھی تبدیلی نہیں لاتی۔
نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے امید کو چنیں۔ حالات مشکل ضرور ہیں مگر نوجوانوں کی صلاحیتیں اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں،اگر ہم خود پر یقین رکھیں سیکھتے رہیں اور مثبت قدم اٹھائیں تو آنے والا سال ایک نئی شروعات بن سکتا ہے۔
یہ ملک ہمارا ہے اور نیا سال بھی ہمارا امتحان ہے۔
آئیں اس سال کو شکایتوں کا نہیں۔۔۔ کوششوں کا سال بنائیں۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































