
ام حسن
کمرے میں ہلکی پھلکی روشنی تھی، دیوار پر قرآن کی آیات آویزاں تھیں۔ کمرے کی کل متاع دو قرآن ایک قالین اور ایک رحیل تھا۔ کمرے میں خاموشی
اور سکون تھا۔ ایسے میں رات کی گہرائی میں تنہا ایک بزرگ اپنے رب کی یاد میں قرآن پر غور و فکر کر رہے تھے۔ ساری دنیا سے بے خبر، گہری سوچ بچار میں گم تھے۔ کمرے میں خاموشی اور سکون کا راج تھالیکن دل کے اندھیرے روشنی میں تبدیل ہو رہے تھے۔ رات کے اندھیرے میں اللہ اور بندے کے درمیان کسی قاصد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کلام الٰہیٰ سے دل منور ہو رہا تھا۔
قرآن کے متعلق میں جب انسان مستغرق ہو جاتا ہے تو لگتا ہے کہ یہ کلام آپ سے باتیں کر رہا ہے۔ آپ کے دل کی آواز بن گیا ہے۔ آپ کو راستہ دکھا رہا ہے اور اس وقت یہ بزرگ اسی کلام سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ ان کو دنیا کے شورغل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے دل کو یہ خاموشی دنیا کی روشنیوں سے زیادہ منور کر رہی ہے اور دل کو سکون دے رہی ہے اور جب قرآن مجید میں غور وفکر کا مزہ انسان چک لےتو اس کی لذت کو چھوڑنا نہیں چاہتا اللہ ہم سب کے دلوں کو قرآن مجید کے نور سے منور کر دے۔آمین




































