
عائشہ بی
سنتے آئے ہیں، بی پاکستانی اینڈ بائے پاکستانی ،یعنی پاکستانی بنواور پاکستانی اشیاءخریدو، پہلے یہی رواج تھا ،آہستہ آہستہ ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی
اشیا کے چکر میں پاکستانی مصنوعات خریدنا بہت کم کر چکے تھے ۔فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج میں ہم نے ملٹی نیشنل اشیاء کا بائیکاٹ کرکے پاکستانی مصنوعات خریدنا شروع کیں ۔ جب ان اشیا کی فروخت بڑھی تو تو ان کا معیار بڑھا اور پاکستانی اشیاء کی خریدو فروخت کا رجحان پیدا ہوا۔پاکستان سے محبت اس کی صنعتی ترقی اور خوشحالی اور ملٹی نیشنل اشیاء کے بائیکاٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے،گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی خصوصی ہدایت پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی اور روزنامہ جسارت کے اشتراک سے گزشتہ دنوں دوروزہ نمائش میرا برانڈ پاکستان کا اہتمام ایکسپو سینٹر کراچی میں کیا گیا ۔ یہ نمائش ملکی تشخص اور قومی خودداری اور مقامی صنعتوں کی ترقی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پاکستانی قوم باصلاحیت ہے۔۔ اس ملک میں جہاں قدرتی وسائل، ہنرمند ہاتھ اور تخلیقی ذہنوں کی کوئی کمی نہیں بس ان کو آگے بڑھانے عوام میں متعارف کروانے اور شناخت دینے کے لیے میرا برانڈ پاکستان نمائش کے ذریعے ایک اہم قدم اٹھایا گیا جو لائق تحسین ہے ۔اس کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ملک میں چھوٹے و بڑے پیمانے پر کی جانے والی صنعتی کوششوں ،صلاحیتوں کو ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ میرا برینڈپاکستان – ایکسپو سینٹر اسی خواب کی عملی تعبیر بن کر سامنے آیا ہے۔
ایکسپو سینٹر پاکستان میں میرا برانڈ پاکستان کے عنوان سےہونے والی دو روزہ نمائش نے بڑے چھوٹے اور درمیانےدرجے کےصنعتکاروں، مرد وخواتین کاروباری افراد اور خصوصا ًنوجوانوں کو ا پنی مصنوعات اور خدمات ملکی سطح پر سامنے لانے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ یہاں " میڈ ان پاکستان " یعنی پاکستان میں تیار کردہ مصنوعات کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ انہیں فخریہ طور پر عوام سے متعارف کروایا کیا گیا ہے۔
مقامی صنعتوں کا فروغ میرا برینڈ پاکستان کا بنیادی مقصد ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جاسکےتاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور ملکی معیشت مضبوط تر ہو۔ ایکسپو میں ٹیکسٹائل، دستکاری، فوڈ پروڈکٹس، زرعی اجناس، لیدر، آئی ٹی سلوشنز اور گھریلو صنعتوں کی نمائندگی دیکھنے کو ملتی ہے۔
نوجوانوں اور خواتین کے لیےمواقع :
یہ پلیٹ فارم جن کا خواتین کے لیے ام المومنین حضرت خدیجہ کی تجارتی قدرو منزلت کو مد نظر رکھتے ہوئے خدیجۃ لکبری ٰ کے عنوان سے خواتین کی مصنوعات کو پروموٹ کیا گیا، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کے لیے امید کی کرن ہے۔ وہ لوگ جو محدود وسائل کے باوجود اپنا برینڈ بنانا چاہتے ہیں، انہیں یہاں رہنمائی، نیٹ ورکنگ اور مارکیٹ تک رسائی ملتی ہے،یہ ایکسپو خود انحصاری کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔
قومی تشخص کی تعمیر:
“میرا برینڈ پاکستان” صرف ایک تجارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ نظریہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کسی سے کم نہیں۔ جب ہم اپنے برینڈز کو اپناتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ملک کی معیشت، روزگار اور خودداری کو مضبوط کرتے ہیں، اگر اس طرح کے ایونٹس کو تسلسل کے ساتھ منعقد کیا جائے تو پاکستان نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنا مضبوط مقام بنا سکتا ہے۔مستقبل میں قوی امید یہ ہے میرا برینڈ پاکستان ایکسپو سینٹر سے ایک ایسے سفر کا آغاز ہے کہ جو معاشی آزادی اور قومی وقار کی طرف لے جاسکتا ہے۔
آئیں! ہم سب مل کر اپنے برینڈز کو اپنائیں، مقامی صنعت کو سپورٹ کریں اور فخر سے کہیں:یہ میرا برانڈ ہے، یہ میرا پاکستان ہے۔
ان شاء اللہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا...... اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے۔




































