
انیلا عمران
آج جس صدی میں ہم زندہ ہیں، اس میں ہماری مادی ترقی کا رازسائنس ہی ہے لیکن سائنس ظاہری علم
ہے یہ ہمیں ان چیزوں کا جواب تو دیتا ہے کہ مادے کی ہئیت اور ان کے کیمیائی فارمولے کیا ہیں؟ کائنات کا یہ نظام کیسے چل رہا ہے؟ قدرتی آفات کی کیا وجوہات ہوتی ہیں مگر یہ علم ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ سب کیوں ہوتا ہے اور اس کے پیچھے کون سی قوت یا طاقت کار فرما ہے۔
اس کیوں کا جواب ہمیں اس غور و فکر سے ملتا ہے جس کی دعوت قران انسان کو بار بار دیتا ہے ،سائنس حضرت ابراہیم پر اگ ٹھنڈی ہونے موسی کے لیے سمندر میں راستہ بننے مچھلی کے پیٹ میں یونس کے زندہ رہنے صحرا سے زم زم پھوٹنے اور واقعہ معراج کا کوئی جواب نہیں دے سکتی ۔سائنس قوم لوط پر پتھروں کا عذاب آ نے قوم شعیب قوم عاد اور قوم ثمود پر انے والی چنگھاڑ اور عذابوں کی کوئی وجہ نہیں بتا سکتی؟ سائنس جسم کی ساخت اور ماہیت پر تو بحث کر سکتی ہے مگر روح کو دریافت نہیں کر سکتی۔ سائنس نے جراثیم تو دریافت کر لیے لیکن جنات کو ثابت نہ کر سکی، اس نے علم فلکیات کے ذریعے گلیکسیز کے راز تو بتا دیے لیکن اس زندہ اور جاوید ہستی تک نہ پہنچایا جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اور جو اس کائنات کی تمام حقیقتوں کو جاننے والا ہے ،اس نے انسان کے پیدائش کے مراحل تو دریافت کر لیے مگر اس تخلیق کا آغاز کرنے والے خالق کو نہ پہچانا۔کشش ثقل کا قانون دریافت کر کے یہ تو بتا دیا کہ زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے مگر یہ نہ بتایا کہ کیوں کھینچتی ہے کیونکہ اس نے انسان کا مادی وجود تو دریافت کر لیا مگر روحانی وجود اس کی نظروں سے اوجھل رہا۔
انسانی وجود روح اور جسم کا مجموعہ ہے یہ روحانی اور مادی دو وجود رکھتا ہے، اس کا مادی وجود جو مٹی سے بنا ہوا ہے، اسے زمین کی طرف کھینچتا ہے انسان کی تخلیق چونکہ مٹی سے ہوئی ہے، اس لیے یہ اپنے اصل سے نہیں نکل سکتا اور اگر وہ اپنے کرہ ارض سے کٹ کر خلاؤں میں جاتا ہے تو وہ وہاں بے وزن ہو جاتا ہے انسان قدرت کی وہ تخلیق ہے جس میں اس نے اپنی روح پھونکی ہے، اس کا مادی وجود اسے مٹی یعنی زمین کی طرف کھینچتا ہے اور روحانی وجود اسمان کی طرف کیونکہ روح کا مرکز آسمان ہے ۔روح اپنے مرکز کی طرف جانے کے لیے بے چین رہتی ہے، اس کشمکش میں طاقت کا توازن جس پلڑے میں زیادہ ہوتا ہے وجود اسی طرف جھک جاتا ہے،روحانی وجود لطیف اور جسمانی وجود کثیف ہوتا ہے، کثیف چیزیں بھاری ہوتی ہیں اور پستی کی طرف جاتی ہیں اور ڈوب جاتی ہیں جبکہ لطیف چیزیں ہلکی ہونے کی وجہ سے تیرتی یا اڑتی ہیں اور بلندی کی طرف جاتی ہیں ۔
احسن تقویم اصل میں روحانی وجود ہے جو بلندی کی طرف پرواز کرنا چاہتا ہے اور اسفل السافلین وہ مادی موجود ہے جو پستی کی طرف یعنی مٹی کی طرف کھینچتا ہے،احسن تقویم والے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ اپنے مادی وجود پر قابو پا کر اس کی گریوٹی توڑ کر اسے لطیف بنا لیتے ہیں بالکل ایسے جیسے ایک خلائی جہاز جب زمین کے مدار سے نکلتا ہے تو اس میں موجود تمام افراد کشش ثقل سے آزاد ہو جاتے ہیں اور مادی وجود کے ہوتے ہوئے بھی وہ لطیف ہو جاتے ہیں۔
اسفل السافلین والے اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ وہ نہ تو اپنے مادی وجود کو بچا پاتے ہیں اور نہ روحانی اور بالآخر زمین کی پستیوں میں گر کر فنا ہو جاتے ہیں ،
بے شک اسلام ہی وہ راستہ ہے جن پر چل کر انسان بلندیوں کی معراج کو پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے پیچھے چلنے نہیں بلکہ دنیا کو اپنے پیچھے چلانے آیا ہے جو ماضی کا قیدی نہیں بلکہ مستقبل کا خالق ہے اور جو دنیا کے رنگ میں ڈھلنے کے لیے نہیں بلکہ اسے اپنے رنگ میں ڈھالنے آیا ہے ۔
خاک سے دور کوئی اور مقام مانگتی ہے
روح تخلیق سے پہلے کا جہاں مانگتی ہے




































