
زینب نہال
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
مجھے ترانے سننے کا بہت شوق ہےاور اب تو بہت سے ترانے یاد بھی ہو گئے ہیں۔ہوا کچھ یوں کہ میں کچن میں کھڑی کوئی کام کر رہی تھی اور
یہی ترانہ گنگناتے ہوئے اچانک میرے ذہن نے اس ترانے کو سمجھا۔ میں بہت حیران ہوئی کہ اس شعر میں کتنی خوبصورت بات کہی گئی ہے۔
چلیں۔۔۔ اس کی تہہ میں چلتے ہیں۔
انسان کی تخلیق مٹی (خاک) سے ہوئی ہے۔ اس مٹی کے پتلے کو یوں ہی جنت اور جہنم میں نہیں ڈال دیا جائے گا کیونکہ پھر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ کیوں؟ ہمارا کیا قصور ہے؟اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف تخلیق نہیں کیا بلکہ اسے عمل کرنے کی توفیق بھی دی۔
عمل کیا ہے؟
آسان لفظوں میں کوئی بھی ایسا کام جو انسان اپنی چاہت سے کرتا ہے، اگر کام میں اپنی چاہ نہ ہو تو وہ عمل نہیں بلکہ محض ایک کام ہوتا ہے۔ہمارے اعمال ہی یہ طے کرتے ہیں کہ ہم جنت میں ہوں گے یا جہنم میں۔ انسان بغیر اعمال کے نہ جنتی بنتا ہے، نہ دوزخی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور دیا تاکہ وہ خود سوچ سکے کہ اسے کون سا عمل کرنا ہے اور کون سا نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ رب العالمین نے ہمیں قرآن و حدیث کے ذریعے ہماری حدیں بتا دی ہیں مگر ہمیں زبردستی ان حدود میں باندھ کر نہیں رکھا بلکہ رسی کھلی چھوڑ دی ہے تاکہ جب وقتِ مقرر آئے تو انسان کے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے کہ وہ اس وجہ سے نور (جنت) کو چھوڑ کر نار (جہنم) میں جا پڑا۔




































