
عشاء بنت فاروق
ماضی ایک ایسا لفظ جو محض چار حروف پر مشتمل ہے مگر یہ اپنے اندر پوری زندگی سمیٹے ہوئے
ہوتے ہیں ۔ کچھ کے لیے یہ ہنسی کی یادوں کا خزانہ ہوتا ہے اور کچھ کے لیے آنکھوں میں نمی لانے والا دور ۔ ماضی گزر جاتا ہے لیکن اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے، ذہن پر، دل پر اور روح پر۔کہتے ہیں کہ انسان آگے بڑھنے کے لیے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کا حال اور مستقبل اکثر اُسی ماضی سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ بچپن کی معصوم مسکراہٹیں، وہ کھوئے ہوئے رشتے، وہ ان کہے الفاظ اور وہ فیصلے جو وقت پر نہ ہو سکے، سب ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔
کبھی ماضی خوشبو بن کر یاد آتا ہے، تو کبھی کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ وہ پرانی تصویریں، وہ جگنو جیسے لمحے، وہ کسی کی باتوں میں چھپا پیار سب کچھ واپس لا کر دکھ دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہوئے بھی اُن لمحوں میں واپس نہیں جا سکتے، لیکن دل ہے کہ پل پل وہیں بھٹکتا رہتا ہے۔ ماضی ہمیں سکھاتا ہے کہ کون اپنا تھا اور کون وقت کا ہمسفر۔ ماضی ہمیں شعور دیتا ہے کہ ہم نے کہاں غلطی کی اور اب کیا بہتر کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں تڑپاتا بھی ہےاور سنوارتا بھی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کو دل میں بسا لینا اور اُسی میں رہ جانا، انسان کی روح کو تھکا دیتا ہے۔ ہم جب حال کو نظرانداز کرتے ہیں، تو ماضی ایک زنجیر بن کر ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتااور تب لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اس ماضی سے سبق لے کر، حال کو سنواریں تاکہ مستقبل بہتر ہو۔اسلام ہمیں ماضی سے سبق لینے کی تعلیم دیتا ہےلیکن اُسی میں کھو جانے سے منع کرتا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: ”مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔“ یعنی ماضی کی غلطی کو دہرانا مؤمن کا شیوہ نہیں۔
ماضی چاہے جیسا بھی ہو، وہ گزر چکا ہے لیکن اگر ہم نے اُسے شعور کی آنکھ سے دیکھاتو وہ ہماری طاقت بن سکتا ہے،اگر ہم چاہیں تو ہماری لکھی ہوئی کہانی کا وہ پہلا باب جو اگلے ابواب کو خوبصورت بنا سکتا ہے۔
آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ: ماضی ایک کتاب ہے، جو بند ہو چکی ہے لیکن اُس کے اوراق سے سیکھنا، عقل مندوں کا کام ہے۔




































