
عائشہ بی
شہر کراچی کے قلب میں مشہور و معروف شاپنگ پلازہ "گل پلازہ " میں آگ لگ گئی جو چونتیس پینتیس گھنٹوں بعد بمشکل بجھائی
گئی۔ اس آتشزدگی سے 73افراد جاں بحق اور بہت سے انسان زخمی ہوئے ، کئی تاحال لاپتا ہیں۔۔۔۔ عوام پریشانی کے حالت میں اپنوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ ان کی چیخ و پکار اور رونے کی آوازیں اہل کراچی کو سنائی دےرہی ہیں ۔
? اصل واقعہ کیا ہے؟
ابھی کسی کو نہیں معلوم کہ کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں 17 جنوری کی رات کو آگ کیسے لگی جو کئی گھنٹوں تک بے قابو رہی اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے میں ناکام رہیں جس کی وجہ سے فوج سے مدد لی گئی، تب کہیں آگ بجھانے کا کام مکمل ہوا۔ لیکن غور کا مقام ہے کہ میگا سٹی سمجھے جانے والے شہر میں فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی قلت تھی ، آلات اور افرادی قوت ناکافی تھی ۔ کیوں اٹھارہ سال سے سندھ حکومت پر قابض ارباب اختیار نے صوبے کے سب سے بڑے شہر کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کر پارہے ۔
سال ہا سال سے بلدیاتی نظام چلانے والے آخر اب تک کیا کرتے رہے ۔ یہ شہر ملک کا سب سے بڑا ٹیکس ریونیو فراہم کرنے والا شہر ہے ،سالوں سے صوبائی اور شہری حکومت پر قابض جماعتوں پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم کے پاس شہر کو آتشزدگی سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں ۔۔۔۔۔ حالانکہ دنیا بھر میں آگ بجھانے والے جدید آلات اور سسٹم موجود ہیں۔ یہ کام حکومت کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک صوبوں اور شہروں میں آگ بجھانے کے لیے بہترین جدیدآلات تیار رکھیں اور اس کا منظم سسٹم تیار رکھیں ۔یہ وفاقی ،صوبائی اور شہری حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن وہ تو تماشائی بنے ہوئےتھے ۔
"کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ "کے مترادف کئی گھنٹوں بعد برائے نام جائے وقوع پر پہنچ کر بھی اپنی بوکھلاہٹ ظاہر کرکے زبانی طفل تسلیوں سے پریشان و مشتعل عوام کو بہلانے کی ناکام کوشش کی گئی ۔
یہ کیسی حکومت ہے ؟ کراچی کے ضلع جنوبی میں یہ سارا علاقہ تو میئر کراچی کے انڈر آتا ہے، ضلع جنوبی میں تو پیپلز پارٹی کی ہی بلدیاتی حکومت ہےاور صوبائی حکومت بھی ان ہی کی ہے۔ کیسے اچانک دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے گنجان آباد اور مرکز ی سمجھے جانے والے علاقے میں گل شاپنگ پلازہ کی پوری عمارت خاک بن کر ڈھے گئی ؟ ۔
جانی و مالی نقصان کم ظاہر کیا جا رہا ہے ۔۔ سو سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، اب تک ، متعدد افراد جل کر زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ 69 سے زائد افراد لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
آگ کیوں اور کس طرح پھیلی؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ یا بجلی کی خرابی سے شروع ہوئی تھی پھر رپورٹ میں اسے بچوں کے کھیل کے دوران لائٹر سے آگ لگنے کا واقعہ قرار دیا گیا ۔عمارت میں موجود جلنے والی اشیاء (جیسا کہ کپڑے، پلاسٹک اور دیگر سامان) نے آگ کو تیز کیااور ہماری گورنمنٹ کی نا اہلی آگ بجھانے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے آگ پر بروقت قابو نہ پایا جاسکا دیگر فلاحی اداروں اور الخدمت نے بھی ریسکیو کے عمل میں حصہ ڈالا، جب آگ قابو میں نہ آئی تو فوج سے مدد لی گئی توبڑی کوشش کے بعد بالاخر آگ پر قابو پالیا گیا ۔
اس ناگہانی حادثے میں تقریباً 1200 یا اس سے زائد دکانیں تباہ ہو چکی ہیں، سینکڑوں لوگوں کا روزگار ختم ہوگیا،کاروبار تباہ برباد ہوگیا انتہائی شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ مالی نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔گل پلازہ کی آتشزدگی سے تباہی ملک و قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔اللہ پاک رحم فرمائے اور اس طرح کے ناگہانی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین




































