
عبد المعیز/ کراچی
پانچ فروری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے،یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سرحد کے اُس پار ایک ایسی قوم موجود
ہے جو دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کے اندھیروں میں اپنے حقِ خودارادیت کی روشنی تلاش کر رہی ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر دراصل کشمیری عوام کے ساتھ دلوں کی وابستگی اور اصولی حمایت کا اعلان ہے۔
کشمیر کی وادیاں قدرتی حسن سے مالا مال ضرور ہیں، مگر ان کے دامن میں بہتا ہوا درد دنیا کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہاں بچوں کی آنکھیں خوابوں سے زیادہ سوالوں سے بھری ہیں، ماؤں کی دعائیں سسکیوں میں بدل چکی ہیں اور نوجوانوں کے حوصلے بندوقوں کے سائے میں بھی جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے وقتی خبروں میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ خاموشی کبھی غیر جانبداری نہیں ہوتی۔ ظلم کے مقابل کھڑا ہونا ہی انسانیت کا اصل معیار ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جانے والا یہ دن اس عزم کی تجدید ہے کہ کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا—نہ اخلاقی طور پر، نہ سفارتی طور پر، اور نہ ہی انسانی بنیادوں پر۔
یہ دن ہمیں خود سے بھی سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم صرف نعروں تک محدود ہیں یا عملی طور پر بھی کشمیریوں کی آواز بن رہے ہیں؟ قلم، زبان، سوشل میڈیا اور عالمی فورمز—ہر پلیٹ فارم پر سچ کو بیان کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ حق کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں، یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں بلکہ قربانیوں کا حاصل ہوتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد محض ان کی نہیں، بلکہ ہر اُس انسان کی جدوجہد ہے جو انصاف، وقار اور آزادی پر یقین رکھتا ہے۔
کشمیر زندہ ہے، اور کشمیر کے ساتھ یکجہتی بھی۔




































