
انیلا عمران /لاہور
اللہ رب العزت نے جب انسان کو دنیا میں اتارا تو اسے ہدایات کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
" تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی رنج و خوف کا موقع نہ ہوگا اور جو اسے قبول کرنے سے انکار کریں گے وہ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ،وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے "
یعنی خلافت کی ذمہ داریاں انسان پر ڈالتے ہی اللہ نے آئین الہیٰ بھی انسان کے سپرد کر دیا کہ دنیا کا نظام انفرادی ہو یا اجتماعی اسی ہدایت نامے کے مطابق چلے گا اور جو اس کے مطابق نہیں چلے گا ،وہی نامراد ہوگا اور جو اس کو لے کر چلے گا ،وہی فلاح پائے گا ۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام مادی اسباب اور وسائل فراہم کیے ہیں، وہیں اس روحانی وجود کی بقا اور حفاظت کے لیے بھی اسے قانون الہیٰ سے جوڑا ہے۔
قدرت کے بنائے ہوئے قوانین اور انسانی قوانین کا اگر ہم تقابلی جائزہ لیں تو یہ حقیقت ہم واضح ہو جائے گی کہ انسانی قوانین محصوص علاقوں افراد کی ذاتی خواہشات اور اکثریت کے فیصلوں کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے رہے ہیں اور ان قوانین میں ہمیں مکمل غیر جانبداری نظر نہیں آتی کبھی تو وہ کسی محصوص طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور کبھی محصوص حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔1928 میں امریکی کانگریس نے شراب کی حرمت کا بل پاس کر کے شراب پر پابندی عائد کر دی مگر چند سال میں اس قانون کی اتنی خلاف ورزی ہوئی کہ جس کانگریس نے اس قانون کو پاس کیا تھا اسی نے مجبوراً اس پر سے پابندی اٹھا کر شراب کو دوبارہ جائز کر دیا یعنی انسانی عقل اتنی محدود ہے کہ وہ چیزوں کی حقیقت کا ادراک ہونے کے باوجود ان کو قبول کرنے سے کتراتی ہے ۔
ملک پاکستان میں آئے روز بدلتے ہوئے نئے قوانین بھی اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں ڈومیسٹک وائیلیشن بل کے نام سے جو قانون متعارف کروایا گیا وہ ایک غیر حقیقی اور تخیلاتی قانون ہے جو افلاطون کی مثالی ریاست میں تو نافذ ہو سکتا ہے لیکن کسی مہذب معاشرے میں اس کی حیثیت مذاق سے زیادہ نہیں گھروں کے معاملات قانون سے نہیں بلکہ احسان عدل و صلہ رحمی سے چلتے ہیں جس کے لیے نسلوں کی تربیت کرنا مقصود ہوتی ہے
انسانی قوانین کے اندر ہمہ گیریت ممکن نہیں آج سے سو سال قبل بنائے ہوئے قوانین پرآج عمل درآمد کرانا ممکن ہی نہیں یہ الہیٰ قوانین ہیں جن کو کبھی زوال نہیں ہوتا کیونکہ یہ قوانین حق پر مبنی ہیں اور قدرت کے نظام کے مطابق اور اٹل ہیں اللہ نے اگر شہد میں شفا رکھی ہے تو قیامت تک وہ شفا ہی رہے گا اور اگر زہر میں ہلاکت رکھی ہے قیامت تک زہر ہلاک ہی کرے گا ،شراب کا نشہ ہر دور کے انسانوں کے لیے مہلک اور ہمیشہ مہلک ہی رہے گا۔
انسانیت ان قوانین کی حقانیت سے آگاہ ہے مگر اپنی خواہش نفس سے مغلوب ہو کر وہ ان قوانین کا انکار کرتی ہے، آج سے 20 سال قبل اگر پنجاب میں بسنت کو ایک بے رحمانہ اور غیر قانونی تہوار قرار دے کر اس پر بندی لگائی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے مگر آج انسانی خواہشات سے مغلوب ہو کر پابندی اٹھا لی گئی، جب تک قانون انسانی ہاتھوں میں کھیلتا رہے گا تو یہ ایک مذاق بن کر رہ جائے گا، قانون کی سب سے بڑی خوبی قانون کی حاکمیت ہوتی ہے اور اگر وہ حاکمیت موجود نہ ہو تو قانون کبھی موثر نہیں ہو سکتا۔
حدیث پاک کا مفہوم ہےکہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جہاں امیر جرم کرے تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور غریب جرم کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔آج ملک پاکستان میں غریب رکشے والا یا ریڑھی والا قانون توڑے تو اس کا چالان کیا جاتا ہے اور اگر امیر با اثر طبقہ اپنی قیمتی گاڑیوں تلے غریبوں کو روندے تو کوئی ان کے خلاف ایف ائی آر تک درج نہیں کروا سکتا۔
وہ تو امیر شہر ہے پوچھے گا اس سے کون
غریب کے سر ہی آئے گا الزام دیکھنا




































