
عائشہ بی
انتہائی شدید ٹھنڈی رات اس سخت سرد موسم میں مگر کشمیر کی وادیوں میں سردی سے زیادہ ڈر اور خوف کی لہر دوڑ رہی تھی
،چہار جانب گولیوں کے آواز گونج رہی تھیں۔۔۔ کشمیر کی وادی جسے جنت نظیر کہتے تھے، اب وہاں کے خوش رنگ چنار آگ میں جلتے ہیں اور کشمیر کے باسی دشمنوں سے اپنی بقا اور آزادی کی جنگ لڑتےہوئے اپنی جان مال عزت و آبرو قربان کرکے ہیں پیلٹ گنوں سے ان کی بینائی چھین جارہی ہے ،جسمانی اعضا کو نقصان پہنچا یا جارہا ہے۔ وہیں اس سرد رات میں عامر اپنے کچے گھر کے دروازے کے اوپر کرسی پر کھڑا ا پہاڑوں، برف سے ڈھکی چوٹیاں اور درختوں سے چھلکتی چاند کی چاندنی دیکھ جو رہا تھا ،اسے ایسا لگ رہا تھے کہ یہ سب اس سےکچھ کہنا چاہتےہیں مگر زبان بند ہے اس کے ہاتھ میں ایک پرانا ریڈیو تھا، جس پر بار بار ایک ہی جملہ سنائی دیتا تھا.
“کشمیر ہمارا ہے۔”
عامر نے آہستہ سے مسکرا کر سوچنا شروع کر دیا
“اگر کشمیر ہمارا ہے تو پھر ماں کیوں رو رہی ہے؟” بابا کو کیوں ماردیا اس نے خود سے سوال کیا...
اندر کمرے میں اس کی ماں مریم چولہے کے پاس بیٹھی سوچ میں گم ماں کے ہاتھ میں ایک پرانی یادگار تصویر تھی ... عامر جانتا تھا، یہ تصویر اس کے بھائی وقار کی ہے، جو پچھلے سال ایک احتجاج کے بعد لوٹا ہی نہیں۔ انڈین فوجیوں کے ظلم و ستم اور مار پیٹ کر کےانسانیت کے دھجیاں اڑا رہے تھے. اس دوران وہ “لاپتا”ہوگیا تھا... مگر ماں کا دل روز تڑپتا ہے۔۔۔ یہ یہاں کی صرف ایک ماں کا مسئلہ نہیں نہیں بلکہ کشمیر کے ہر گھر میں ماتم بچھڑنے والوں کا ماتم ہے۔۔۔۔
صبح اسکول جاتے ہوئے عامر نے دیکھا کہ گلی کے کونے پر نیا بورڈ لگا ہے۔
“یہ علاقہ حساس ہے۔ رکیں۔”
اسے ہنسی آئی۔
اس کے لیے تو پوری زندگی ہی حساس علاقہ بن چکی تھی۔
اسکول میں استاد نے نقشہ کھولا۔ سرحدیں سرخ لکیروں سے بنی تھیں۔ عامر نے ہاتھ کھڑا کیا۔اور سوال
کیا۔۔۔۔ “سر، یہ لکیریں کس نے کھینچی ہیں؟”
کلاس کے تمام بچے خاموش ہو گئی۔ استاد نے لمحہ بھر سوچا، پھر کہا:
“بیٹا، طاقت نے۔” عامر نے کہا : سر.....! ظالموں سے ڈرنا بزدلی ہے۔۔۔۔ ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔۔۔حق کیلئے آواز بلند کرنا ہوگا۔۔۔کلاس کے تمام بچے کھڑے ہو کر "کشمیر ہمارا ہے"۔۔۔۔ کشمیر جنت نظیر کسی کافر کو نہیں ملے گا۔۔۔"
شام کو شفیق ندی کے کنارے بیٹھا پتھر پانی میں پھینک رہا تھا۔ ہر پتھر کے ساتھ لہریں بنتیں اور فوراً ختم ہو جاتیں۔ اسے لگا جیسے کشمیریوں کی آوازیں بھی ایسی ہی ہیں—اٹھتی ہیں، ٹکراتی ہیں، پھر خاموش کر دی جاتی ہیں۔
اسی لمحے اس نے زمین سے ایک چھوٹا سا پودا دیکھا، جو پتھروں کے بیچ سے نکل آیا تھا۔ سردی، پانی اور دباؤ کے باوجود وہ زندہ تھا۔
عامر نے اپنے تمام دوستوں سے کہا : "کشمیر ہمارا ہے
ہم کشمیر کے ہیں۔” ظالموں کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہےگے...... ہمیں پاکستان کے ساتھ رہنا ہے...... سارے بچوں نے" نارہ تکبر.... اللہ اکبر.... "
اور کشمیر کی وادی بلکل خاموشی کے ساتھ پہلی بار اس بات پر سر ہلایا۔
" کشمیر اے کشمیر تیرے
جنت میں آئینگے ایک دن
ستم شوار سے تجھ کو
چھڑائیں گے ایک دن
اے کشمیر..... اے کشمیر
عامر نے خوب دعا کی کہ اللہ پاک" ہمارے جنت نظیر کشمیر کے وادیوں کی حفاظت فرمائے آمین اور آزادی عطا فرمائے آ مین ثم آمین یا رب العالمین......




































