
روزینہ خورشید
"ثبات صرف تغیر کو ہے زمانے میں" دن مہینوں میں اور مہینے سال کا سفر اس تیزی سے طے کر رہے ہیں کہ عقل حیران ہے اور انسان پریشان ۔۔۔۔کچھ ادھورے خواب، نا تمام
آرزوئیں اور نامکمل خواہشات اور منصوبےجو پایہ تکمیل کو پہنچنے کے لیے راہ تک رہے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن وقت کا پہیہ دبے پاؤں گزرتا چلا جاتا ہے اور کیلنڈر بدل جاتا ہے یہ ہر سال کی کہانی ہے کچھ انفرادی جائزہ لے لیتے ہیں 2024 میں کون کون سے کام ادھورے رہ گئے جنہیں آنے والے سال میں مکمل کرنا ہے۔
خاتون خانہ
خاتون خانہ پرگھر شوہر اور بچوں کی بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔وہ ان کو پورا کرنے کےچکر میں اتنی گھن چکر بنی رہتی ہیں کہ بہت سے کام کل پر ٹالتی رہتی ہیں اور پھر وہ کل کبھی نہیں آتی البتہ سال گزر جاتا ہے، مثلاً کسی کو مطالعہ کا شوق ہے اور اس نے کوئی کتاب پڑھنی شروع کی تھی جو مصروفیت کے باعث مکمل نہ ہو سکی، کسی نے چند نئی سورتیں حفظ کرنے کا سوچا ہوگا جو نہ ہو سکیں ۔ کچھ رشتہ دار روٹھے بیٹھے ہوں گے جنہیں نہ منایا جا سکا۔ کپڑوں کی الماری سیٹ کرنی تھی جو نہ ہو سکی۔ کچن کی درازیں صاف کرنی تھیں۔
ڈیوائڈر اور سٹور سے فالتو سامان نکالنا تھا، کچھ کپڑوں کی سلائیاں خراب اورادھڑی ہوئی تھیں جنہیں کونے کھدروں میں رکھ دیا گیا تھا کہ بعد میں کر لیں گے اور وہ بعد پھر کبھی نہیں آیا ۔کوئی ئی ریسپی ٹرائی کرنے کے لئے سپر اسٹور سے سامان خرید کر لایا گیا تھا جو کچن کیبنٹ میں پڑا رہ گیا ۔کچن کے لیے کراکری لینی تھی یا واش روم میں استعمال ہونے والی صابن دانیاں، لوٹےاور برش تبدیل کرنے تھے، سب کے سب انتظار میں رہ گئے اور سال گزر گیا۔
کوئی بات نہیں،پریشان نہ ہوں۔۔۔ نئے سال کے شروع میں ہی ایک لسٹ بنا لیں اور ہر ہفتے ایک نظر ڈال لیا کریں اس طرح آپ کے علم میں رہے گا کہ کون سے کام مکمل ہو گئے اور کتنے باقی رہ گئے جنہیں سال ختم ہونے سے پہلے انجام دینا ہے۔
صاحب خانہ
ہمارے معاشرے میں گھر کا سربراہ عموماً "والد صاحب" ہوتے ہیں جو کہ گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر صبح منہ اندھیرے کام پر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے ہیں ۔ بہت سے افراد اپنے اہل خانہ کو بھی یقینا وقت دیتے ہوں گے لیکن اگر خدانخواستہ آپ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو صرف اے ٹی ایم مشین سمجھا جاتا ہے تو خدارا نئے سال میں اپنی ترجیحات تبدیل کریں، اگر آپ کے بچے بڑے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ کر ملکی و غیر ملکی حالات ،دفتر کے معاملات اور مختلف سماجی تقریبات کے حوالے سے گفتگو کریں اور اگر آپ چھوٹے بچوں کے والد ہیں تو بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لیں۔ ان کو تفریحی مقامات پر لے جائیں۔ان کے ساتھ اپنا بہترین وقت گزاریں کیونکہ وقت تو گزر جائے گا لیکن بچوں کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ان کے ذہنوں میں ایسی یادیں چھوڑ جائیں گے جو ان کی بہترین تربیت میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔
بچے/طالب علم
بچے گھر کی رونق ہیں اور طالب علم اسکول کی۔۔۔ بہت سے طالب علموں کے لیے 2024 یقیناً بہت اچھا گزرا کیونکہ اس میں انہوں نے کامیابیاں سمیٹیں ۔۔انہیں مبارکباد۔ آگے بھی اپنے اس سفر کو استقامت کے ساتھ جاری وساری رکھیں اور وہ طالب علم جو اس سال کسی وجہ سے ناکام رہے تو انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ نیا سال آپ کے لیے نئ امنگ اور نئی امیدوں کے ساتھ بانہیں پھیلائے کھڑا ہے۔ ہمت کر کے اٹھیں ۔نئے سرے اور نئے عزم کے ساتھ عہد کریں کہ گزشتہ سال جو کچھ حاصل نہیں کر سکے ،وہ اپنی انتھک محنت، لگن اور دعاؤں سے ان شاءاللہ 2025 میں ضرور حاصل کر لیں گے۔
سیاست دان
ہم میں سے ہر شخص انفرادی جائزہ لے کر اپنے آپ کو آنے والے سال کے لیے بہتر طریقے سےتیار کر سکتا ہے مگر اجتماعی حالات کو بدلنا ہمارے بس کی بات نہیں کہ یہ تو جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ان کو عرف عام میں سیاستدان کہا جاتا ہے۔ سیاست دانوں کے حوالے سے تو اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ خدارا پاکستان کے حال پر ترس کھائیں ۔۔۔۔ بابائے قوم قائد اعظم نے پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ اس کے حصے بخرے کیے جائیں بلکہ اس کی تشکیل کا مقصد ایک ایسی فلاحی مملکت بنانا تھا جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں، جہاں امن و امان کا بول بالا ہو ،جہاں ہر ادارہ خواہ عدلیہ ہو یا مقننہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوں مگر افسوس 2024 کا سورج ان سپنوں کو آنکھوں میں سجائے ہی ڈوب جائے گا۔
اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ہے اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف ملک و قوم کا سوچیں اور جتنے نعرے ، بہلاوےاوروعدے وعید الیکشن کے زمانے میں کیے گئے تھے ان پر عمل پیرا ہوں تو امید کی جا سکتی ہے کہ انشاءاللہ 2025 کا سورج ہمارے لیے امن و سکون اور ترقی کی نوید لے کر ابھرے گا ورنہ بزبان فیض
اےنیا سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی





































