
اسلام آباد(ویب ڈیسک)آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک ابرارحسین نے پنجاب کابینہ کی جانب
سے نجی تعلیمی اداروں کو آدھی فیس وصول کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہاہے کہ اس فیصلے سے نجی تعلیمی اداروں کا وجود قائم رکھنا ناممکن ہوجائے گا، کم آمدن اور کم فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو عمارات کے کرائے،یوٹیلٹی بلز اور اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہونے سے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، نجی تعلیمی ادارے کورونا جیسے موذی وبا کے خاتمہ میں تعاون کے لیے اپنے تعلیمی اداروں کو قرطینہ سنٹر بنانے سمیت تمام وسائل فراہم کرنے کو تیارہیں تاہم ا ن کے مستقبل کا فیصلہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو کہ وڈیولنک کے ذریعے کیا۔ ملک ابرار حسین کاکہنا تھاکہ اس وقت وطن عزیز سمیت دنیا بھر کو کورونا جیسے موذی مرض کا سامناہے،ان حالات میں پاکستان کے تمام طبقہ جات کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
انہو ں نے بتایاکہ کوروناکے باعث سب سے زیادہ مسئلہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش ہے جبکہ رہی سہی کسر پنجاب کابینہ کے حالیہ فیصلہ نے نکال دی ہے جس میں انہوں نے نجی تعلیمی اداروں کو بچوں سے آدھی فیس وصول کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، ان احکامات پر نجی تعلیمی ادارو ں کو شدید تحفظات ہیں کیونکہ رواں ماہ یعنی مارچ میں بھی مکمل فیسیں وصول نہیں کی جاسکی ہیں جبکہ چھٹیوں میں آدھی فیس لینے سے چھوٹے اور کم فیسوں والے نجی تعلیمی اداروں کواپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہوجائے گا۔





































