
زہرا یاسمین/ کراچی
عمر شاہ ہنس کے ہنساکے سب کورلا کے چل دیا۔ یہ خبر کل سوشل میڈیا پر گرم تھی۔ ایک ننھے معصوم بچے کے انتقال کی خبر نے مجھے بھی دکھی
کردیا، اولاد کی جدائی والدین کے لیےسانحے سے کم نہیں ہوتی، کہتے ہیں کہ بچےتوسب کے سانجھے ہوتے ہیں عورت کی اندر اللہ نے مامتا رکھی ہے لڑکیاں گڑیوں سے کھیلتی ہیں بچوں سے پیار کرتی ہیں، یہ فطری ہے، شاید اسی لیے میں نے جب اس بچے کو دیکھا تو مجھے بھی اپنا سا لگا لیکن عمر شاہ بس اتنی ہی عمر لکھوا کر آیا تھا، گو ٹی وی اور رمضان نشریات سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہوتا ،مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم تھا کہ یہ بچہ رمضان کی نشریات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا،ان بچوں کی معصومانہ باتوں سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی بہت سے لوگ خوش ہوتے تھے۔
بچے تو ہمارا مستقبل ہیں ،سرمایہ ہیں ،یہی ہماری نسل آگے بڑھاتےہیں،بچے سب کوعزیزہوتے ہیں ان کی بہتر پرورش ضروریات پوری کرنے سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے تمام والدین اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ کسی قابل ہوں ،یہ مستقبل کے معمار ہیں، معاشرے کا بہترین فرد بنیں۔
کل ہی دو گھرانوں سےانتقال کی خبرسنی دونوں مرحومین کی عمراسی سےنوے سال کےلگ بھگ تھی لیکن عمر کے کمسنی میں بچھڑ جانے کا بہت دکھ ہے، میں اسے صرف نام اور چہرے کی حد تک جانتی تھی ،میرا اس سے کوئی جذباتی یا دلی کوئی لگاؤ یا وابستگی نہیں تھی پھر بھی دل بہت اداس ہے۔ موت تو برحق ہے ،جانا ہر کسی کو ہے کوئی جلدی جاتا کوئی دیر سے جاتا ہےیہی دنیا ہے فانی کی حقیقت ہے،عمر کیوں جلدی دنیا سے چلاگیا ؟ اس کی موت کی کئی طبعی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔کچھ لوگ نظر بد کی بات بھی کر رہے ہیں کہ بچے کو زمانے کی نظر لگ گئی۔ اس کی شہرت کی وجہ سے کوئی بری نظر اسے جلد موت کے منہ میں لے گئی۔ حقیقت کا علم صرف اللہ رب العزت کو ہے باوجود اس کے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔نظر بد بھی ہوتی ہے، یہ بھی درست ہے۔ نظر بد سے حفاظت کا طریقہ بھی قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ بچوں سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور بڑوں کو نظر بد سے بچنے کی دعائیں بھی سکھائی ہیں ۔
نظر بد بھی ہوتی ہے ،یہ ایک حقیقت ہے، اس سے پناہ مانگنااورمحفوظ رہنا بھی ضروری ہے،رسولِ کریم ﷺ کی احادیث کی روشنی میں نظربد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی دعاؤں سے آگاہ کرنا چاہوں گی۔ نظر بد کی حقیقت احادیث کی روشنی میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعود من أعين الجان وأعين الإنسان، فلما نزلت المعوذتان أخذ بهما وترك ما سواهما »
آپ ﷺ نے بچوں
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظروں سےاورانسانوں کی نظروں سےاللہ کی پناہ مانگتےتھے،پھرجب معوذتین کا نزول ہواتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا (یعنی اس کے ساتھ دم کرتے)اور دیگر کو ترک کر دیا۔“ [سنن الترمذي، رقم الحديث 2058 سنن النسائي، رقم الحديث 8271 سنن ابن ماجه، رقم الحديث 3511]
امام ترمذی نے کہا ہےکہ یہ حدیث حسن ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دم کرتے تو کہتے
أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة »
میں تم دونوں کو الله تعالیٰ کے مکمل کلمات کےساتھ پناہ میں دیتا ہوں ہرشیطان اور ہر زہریلے کیڑے سے اور ہر نظربد سے۔“[صحيح البخاري، الكبائر للذهبي ص: 16]۔
نظر بد سے بچنے کے لیے دعائیں۔
سورہ فاتحہ ،معوذتین۔
ماشاءاللہ ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
نظر بد کی دعا:
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ."
میں اللہ کے کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا/ مانگتی ہوں ہر شیطان کے شر سےہرریتیلے کیڑے سے اور نظر بد سے۔
موت کو برحق جاننے کے باوجود ہمارا اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا مدد مانگنا اور حفاظتی تدابیر کرنا بھی ضروری ہے۔





































