
روزینہ خورشید / کراچی
کسی بھی ملک کے نوجوان تاریخ کا دھارابدلنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہےکہ درست سمت کی طرف ان کی رہنمائی
کی جائے ۔ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 65فیصد ہے لیکن افسوس کسی نے بھی آج تک اس قیمتی سرمائے کو وہ اہمیت نہ دی جس کے وہ حقدار ہیں ۔انھیں صرف نعروں اور بے مقصد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ جو نوجوان خوش قسمتی سے پڑھ لکھ کر ڈگری لینے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو ان پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستان سے برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ایسے میں جماعت اسلامی کا" بنو قابل" پروگرام نوجوانوں میں امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔ اپنے ملک میں رہتے ہوئے نوجوان آئی ٹی کے کورسز اور ٹریننگ کر کے باعزت روزگار کما سکتے ہیں اوراپنے والدین کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیروترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں .
اسی سلسلے میں 27 اکتوبر 2024 بروز اتوار شام سات بجے نارتھ کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم میں علم کےمتوالے بنو قابل کے ایٹیٹیوڈ ٹیسٹ کے لیے جمع تھے ۔
ہاکی اسٹیڈیم جنگل میں منگل کا سماں پیش کرتے ہوئے چہار سو اجالےبکھیر رہا تھا ۔ایک اندازے کے مطابق تقریبا 14 ہزار طلبہ وطالبات اپنے والدین کے ساتھ آنکھوں میں امید کے جگنو لیے اس ٹیسٹ میں شرکت کے لیے آئے تھے ۔اتنے بڑے مجمع کو کنٹرول کرنا یقیناً جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا لیکن نیت صاف منزل آسان کے مصداق انتہائی منظم طریقے سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کے لئے بلاشبہ جماعت اسلامی نظم ضلع شمالی ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ناظم ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، ان کی ٹیم اورجن لوگوں نے بھی اس پروگرام کے انعقاد کے لیے اپنا حصہ ڈالا اللہ پاک ان تمام کی کاوشوں کو قبول کرے۔آمین
تقریب کے مہمانوں میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعمم ظفر خان، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف ،الخدمت کراچی کے چیف ایگزیکٹیو نوید علی بیگ، معروف عالم دین مفتی نعمان سمیت معزز شخصیات شامل تھیں جنہوں نے نوجوانوں کے عزم اور ہمت کو سراہا ۔
بلا شبہ یہ علم کی تڑپ ہی ہے جس نے تمام طلبہ و طالبات کو کھینچ کر اس ہاکی اسٹیڈیم میں جمع کر دیا تھا جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ابھی ہمارے نوجوانوں میں طلب علم کی چنگاری موجود ہے اس چنگاری کو بجھنے نہیں دینا ہے ۔ نوجوانو!مایوس نہیں ہونا ہے اسی جذبے اور لگن سے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے چلے جانا ہے اور ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کر کے قائد اعظم کے پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہے انشاءاللہ
گراؤنڈ میں جہاں آٹھویں جماعت کی طالبہ ٹیسٹ کے لیے بے چین نظر آئی وہیں 45 سالہ ہاؤس وائف بھی بنو قابل کے ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ کے لیے بے قرار نظر آرہی تھیں جن کا جوش و خروش دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کے بنو قابل ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک کی صورت میں ابھر کر سامنے آئ ہے جس کا پیغام ہے
گر تجھے خود پر یقین ہے
کچھ بھی ناممکن نہیں ہے
آسماں تیرا ہے سارا
تیری ہی ساری زمین ہے
جیتنا ہے پھر جہان کو
چھونا ہے گر آسمان کو
قوت پرواز پیدا کر
اپنی دنیا آپ پیدا کر





































