
روزینہ خورشید/کراچی
فون کی گھنٹی کافی دیرسےبج رہی تھی،عموماًاحمد صاحب آفس میں غیر متعلقہ نمبرسے آنے والی کال ریسیو نہیں کرتےتھےلیکن مسلسل بجتی
گھنٹی نےانہیں فون اٹھانے پرمجبور کر دیا۔ فون سنتے ہی ان کی حالت غیر ہونےلگی۔۔پاس بیٹھے ماجد صاحب نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھایا توانہوں نےلڑکھڑاتی ہوئی آواز میں پانی مانگا۔جب اوسان بحال ہوئے تو انہوں نے بتایا " تھانےسے ایس ایچ او کی کال تھی کہہ رہا تھا ہم نےآپ کے بیٹےکوچار لڑکوں کے ہمراہ ڈکیتی کےالزام میں گرفتار کیا ہےلیکن آپ کا بیٹا تو بڑا ہی معصوم لگ رہا ہے۔ لیجیے اس سے بات کیجئے۔۔۔پھر اس نے فون میرے بیٹے کوتھما دیا وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا پاپا پلیزمجھےیہاں سے لے جائیں یہ لوگ مجھے بہت مار رہےہیں ۔ پاپا میں بے گناہ ہوں ۔ میں نے کچھ نہیں کیا وہ مسلسل رو رہاتھاپھر اس نےکال ختم کردی۔
فون پر بیٹےکی آواز سنتے ہی احمد صاحب کے ہوش اڑ گئے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کریں۔ اس سےپہلے کہ ان کی طبیعت مزید خراب ہوتی ،ان کے دوست نے کہا ارے مت پریشان ہوں ۔ آج کل بہت فراڈ ہورہے ہیں ۔آپ فورآ اپنے بیٹے سےرابطہ کریں۔
احمد صاحب نے جب کال کی تو ان کے بیٹےنے فون اٹھایا۔۔۔ انہوں نے بےقرارہو کرپوچھا اسد بیٹا تم کہاں ہو۔۔۔؟ خیریت سےتو ہو نا۔۔۔جی پاپا میں ٹھیک ہوں۔ آج گھر پرہی ہوں طبیعت ٹھیک نہیں تھی تویونیورسٹی سے چھٹی کرلی تھی لیکن آپ پریشان کیوں لگ رہےہیں ۔ اس نے فکرمندی سے پوچھا۔ نہیں کوئی خاص بات نہیں۔ احمد صاحب نے مطمئن ہوتےہوئے جواب دیا ۔۔۔ پاپا کچھ دیرپہلے میرے موبائل پرآپ کے کسی دوست کی کال آئی تھی تو میں نے ان کوآپ کا نمبردے دیا ہے"اسد نے جب انہیں یہ بتایا تو ساری کہانی ان کی سمجھ میں آگئی کہ کس طرح پہلےان کے بیٹے کوکال کرکے اس کی آواز اوران کا نمبر حاصل کیا گیا پھر اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے کسی اور کی آواز کووائس چینجر کےذریعے ان کے بیٹے کی آوازمیں تبدیل کر کےانہیں سنایا گیا تاکہ وہ بھاگتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے مطلوبہ مقام پر پہنچیں تو انہیں اغوا کر لیا جائے اورپھرگھروالوں سےتاوان وصول کیا جائے۔ وہ تو بھلا ہواحمد صاحب کے دوست کا جنہوں نے گھر فون کرنے کا مشورہ دیا اوروہ کسی بڑی مصیبت میں گرفتارہونے سے بچ گئے۔
گھر پہنچ کرجب انہوں نےسارا ماجرہ سنایا توان کی بیگم بھی پریشان ہو گئیں۔۔۔۔۔۔ بیٹا جوانجینئرنگ کا طالب علم تھا کہنےلگا "ارے پاپا یہ اکیسویں صدی ہے، ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں جہاں اب ہرطرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کاراج ہوگا۔ بیسویں صدی کی ایجادات اب پرانی اور متروک ہوتی جارہی ہیں ۔ ان کی جگہ جدید اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیزلےرہی ہیں ۔ آج سے 50 سال پہلے جوچیزیں ناممکن تھیں وہ سب اب ایک کلک پرممکن ہیں ۔ایسی ایسی مشینیں بھی ایجاد ہو چکی ہیں جو انسان کےسچ اورجھوٹ کو جانچ لیتی ہیں۔ اب کسی کی بھی آواز کو کسی دوسرے شخص کی آوازمیں کنورٹ کرنایا فیک ویڈیو بنانا کچھ بھی مشکل نہیں ۔
احمد صاحب اور ان کی بیگم حیرت سےمنہ کھولے بیٹے کی باتیں سنتے رہے۔ ہمارے پردادا نے کبھی یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ چار مختلف ممالک کےرہنے والے افرادایک ہی وقت میں ویڈیو لنک کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کر سکتےہیں یا آن لائن کلاس لے سکتے ہیں ۔۔۔ اسد کی امی کہنے لگی ہاں بیٹا ترقی کا سفر تو ہر لمحے جاری ہے۔اب وہ دور گیا جب لمبی لمبی لائنیں لگا کر ہم بل جمع کیا کرتے تھے۔ اب تو بس ایک کلک پہ آن لائن بینکنگ کےذریعے سارے بلزجمع ہو جاتے ہیں، گھر بیٹھے خریداری ہوجاتی ہے۔۔۔ جی ہاں امی جان اس کے علاوہ ایسی ایسی پروگرامنگزمتعارف کروا دی گئی ہیں کہ ہم کہیں بھی ہوں وہاں سے اپنے گھر کا دروازہ ،فریج ،ٹی وی سب آپریٹ کرسکتے ہیں۔۔ ہرروز ایک نئی ایجاد پچھلی ایجاد کو پیچھےچھوڑ رہی ہے اب تو سائنس دان میٹاورس ایمیجنری ورلڈ بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جہاں پہ ہر انسان کے ایواٹارکوٹرینڈ کیا جائےگا ۔وہ اپنی اس دنیا میں اپنی مرضی سے آزادی کے ساتھ ہر وہ کام کر پائےگا جو اس دنیا میں نہیں کرسکتا ۔ اسے وہاں کبھی موت نہیں آئے گی۔
احمد صاحب کے ذہن سے اب تک صبح کا واقعہ محونہیں ہواتھا ،بیٹے کی زبانی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب کی باتیں سن کر کہنے لگے بیٹا! لگتا ہے وہ دورآہی گیاہے جس کے لئے علامہ اقبال نے کہا تھا
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی





































