
سرینگر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر مسلسل113 ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں
کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری تعداد تعینات ہے اور دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں۔
وادی کشمیر میں انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل فون سروسز بدستور معطل ہیں۔ بھارت کے کشمیر دشمن اقدامات کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کرنے کے لیے وادی کشمیر کے عوام نے خاموش احتجاج کے طورپر اپنی دکانیں اورکاروباری ادارے بند رکھے ہوئے ہیں اورسرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے ویرانی کا منظر پیش کررہے ہیں، جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔بھارتی پولیس نے سرینگر سے درجنوں افراد کوگرفتارکرنے کا دعویٰ کیاہے۔
کشمیر کی صورتحال پر نظررکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں کا مقصد یہ تاثر دیناہے کہ لوگ خود سے احتجاج نہیں کررہے بلکہ چند شرپسندعناصر ان کو ایسا کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ بھارتی پولیس نے سرینگر سے بشیر احمد قریشی کو بالخصوص صورہ کے علاقے آنچار میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کرانے کے الزام میں گرفتارکیا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ قریشی نوجوانوں کو بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے لیے اکسارہا ہے۔





































