
کراچی (نمائندہ رنگ نو )مختلف موضوعات پر اپنی معلومات بڑھانے اور مطالعہ کی عادت سےہی انسان میں وسعت قلبی،بلند
خیالی، اعلی ظرفی اوررواداری پیدا ہوتی ہیں۔ اپنےاندر معلومات جمع کرنے کی لگن پیدا کریں۔ نونہال جو کچھ پڑھیں اُس کے متعلق اپنے والدین اور اساتذہ سے تبادلہ خیال کریں، اس طرح وہ معلومات ذہن نشین ہوجائے گی۔
ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف وائس اوور فنکار فیضان حق حقی نےکیا۔ وہ گزشتہ روزہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس بہ عنوان ’’مستقبل میں پاکستان کے ہیرو، بہترین کیریئر کا انتخاب‘‘میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھےجوہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیرصدارت دی ارینا،بحریہ ٹائون ٹاور میں منعقد ہوا۔
فیضان حق حقی نے مزید کہاکہ حب الوطنی مقدس اور پاکیزہ جذبہ ہے۔ اپنے بچوں کو اس جذبے سے سرشار کریں۔ انسان کی سب سے زیادہ تربیت گھر کے ماحول سے ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کے سوالات پر اُن کی حوصلہ افزائی کریں اور کتابیں مہیا کریں تاکہ وہ اپنے سوالات کے جواب ڈھونڈ سکیں۔اس طرح اُن میں مطالعے کا ذوق پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا والدین اوراساتذہ کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہےکہ بچوں کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئےاُن کی راہنمائی کریں۔بچےکو اتنا اعتماد دیں کہ اپنی مرضی، ذوق اور صلاحیت کے مطابق اپنے لیے کسی شعبے کا انتخاب کرسکیں۔ہمیشہ تعمیری تنقید کریں اور کوشش کریں کہ بچہ اپنی غلطی سے مثبت سبق سیکھے۔
ہمدرد نونہال اسمبلی کی قومی صدرمحترمہ سعدیہ راشد نےکہاکہ کسی بھی قوم کی تعمیر میں طلبہ کو معمارکی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ہر زمانے میں وہی اقوام سُر خرورہیں جنہوں نےاپنے زمانوں کے حساب سے علوم میں دسترس حاصل کی۔زمانہ جدید میں اپنی نئی نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی آمد سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ اس دورجدید میں ہمیں باقی اقوام کے ساتھ چلنا ہے۔
اُنہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ کوئی بھی پیشہ یا شعبہ اختیار کریں ، اس میں خدمت وطن اورخدمت خلق کےپہلووں کو نمایاں رکھیں۔ آپ سب کے لیےقائد نونہال شہید حکیم محمد سعید، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت کئی نام ور شخصیات قابل تقلید ہیں جنھوں نے مختلف شعبوں میں اوج کمال حاصل کیا اور پاکستان کی ترقی میں اہم و نمایاں کردار ادا کیا۔
نونہال مقررین بہ شمول قائد ایوان عائشہ فواد(ہمدرد پبلک اسکول)قائد حزب اختلاف سید محمد شجاع(ہمدرد پبلک اسکول)، قرینہ اعوان(دی سیوی اسکول)، لائبہ رضا(ہمدرد ولیج اسکول)، جویریہ عمران خان(پی اینڈ جی سیکنڈری اسکول)اور محمد توصیف(آیڈاریواسکول اینڈ کالج) نے موضوع پر بہترین تقاریر کیں اور معزز مہمانوں سے داد وصول کی۔
نظامت کے فرائض اسپیکر ہمدرد نونہال اسمبلی سیدہ مریم فاطمہ(ہمدرد پبلک اسکول ) نے انجام دئیے۔ اجلاس میں سندھ پریس کلب کے صدر رستم جمالی، ہمدرد یونی ورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن،فیکلٹی اوف ایسٹرن میڈیسن ہمدرد یونی ورسٹی کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر احسنہ ڈار اور ڈائریکٹر ہمدرد فائونڈیشن پاکستان سید محمد ارسلان نے بھی خصوصی شرکت کی۔





































