
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)پاکستان اوربنگلہ دیش نے" سارک کووڈ 19 ایمرجنسی فنڈ" قائم اورترقی پذیر ممالک کو معاشی
سہولت کی فراہمی کا معاملہ جی 77 کے فورم پر اٹھانے کی تجویز پراتفاق کیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے منگل کو اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب اے کے عبدالمومن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب کو آگاہ کیا۔بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش بھی اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھا رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کا ہر ممکن خیال رکھا جا رہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک ایران کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے ھزاروں لوگ اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں ایران کو معاشی پابندیوں کے باعث اس صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس وبا سے نبرد آزما ہونے کیلئے استعمال کر سکیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبا کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اس لئے ہم نے درخواست کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ ہم اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لا سکیں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو معاشی سہولت کی فراہمی اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کی طرف سے اس اہم معاملے کو جی 77 کے فورم پر اٹھانے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔





































