
اسلام آباد( ویب ڈیسک )اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوری اور آمدن کم ظاہر کرنے کے بڑھتے
ہوئے رجحان کے تدارک کے لیے ایک غیر معمولی اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے بڑے نجی اسپتالوں میں ان لینڈ ریونیو افسران تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ایف بی آر کے اعداد و شمار نے صحت کے شعبے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی انتہائی کمزور صورتحال کو واضح کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف ٹیکس چوری روکنا ہی نہیں بلکہ نجی اسپتالوں اور طبی اداروں کی اصل آمدن کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لانا بھی ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ملک کے 50 بڑے نجی کمرشل اسپتالوں میں ٹیکس افسران تعینات کیے جا چکے ہیں۔ ان افسران کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 175 سی کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے، جن کے ذریعے وہ اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مریضوں سے وصول کی جانے والی فیس، مالی لین دین، ادائیگیوں کے ریکارڈ اور رسیدوں کے اجرا کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔ اس عمل کا مقصد ظاہر کردہ آمدن اور اصل مالی حقائق کے درمیان فرق کا تعین کرنا ہے۔
رپورٹ میں ایف بی آر کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ادارے نے مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث تقریباً پونے دو لاکھ افراد اور اداروں کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔ اس ڈیٹا میں مختلف ذرائع سے حاصل کردہ تھرڈ پارٹی معلومات اور ابتدائی ٹیکس پروفائلز شامل ہیں، جن کی بنیاد پر ایسے افراد اور اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو قابلِ ٹیکس آمدن ہونے کے باوجود یا تو آمدن کم ظاہر کر رہے ہیں یا انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہی نہیں کروا رہے۔
حکام کے مطابق ٹیکس سال 2025 کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحت کا شعبہ، جو ایک جانب حساس اور دوسری جانب منافع بخش سمجھا جاتا ہے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے معاملے میں خاصا پیچھے ہے۔ ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار سے زائد ہے، مگر ان میں سے صرف ایک لاکھ 30 ہزار کے قریب ڈاکٹرز ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ان میں سے بھی صرف 56 ہزار سے کچھ زائد ڈاکٹروں نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اپنے گوشوارے جمع کرائے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق گوشوارے جمع کرانے والے کئی ڈاکٹروں نے بھی اپنی سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی ہے، جو نجی اسپتالوں میں وصول کی جانے والی فیس اور زمینی حقائق کے برعکس معلوم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایف بی آر نے کاغذی کارروائی پر انحصار کے بجائے عملی اور براہِ راست نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان لینڈ ریونیو افسران کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں اور اداروں کو نجی طور پر نوٹسز بھی جاری کیے جا رہے ہیں، تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی درست آمدن ظاہر کریں اور قانونی تقاضوں کو پورا کریں۔
ایف بی آر کے مطابق اس مہم کا مقصد کسی ایک شعبے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور تمام آمدن رکھنے والے طبقات کے لیے ایک منصفانہ اور یکساں ٹیکس نظام کو یقینی بنانا ہے۔





































