
اسلا م آباد(ویب ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ساجد گوندل کے اغواءکے معاملے پر تحقیقات
کےلئے شہزاد اکبر کی سربراہی میں تین رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دیدی گئی ۔کمیٹی وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بیشتر نکات کی منظوری دیدی گئی ۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر اعتماد میں لیا۔ فیٹف بل کی منظوری پر حکومتی حکمت عملی پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔وزارت خزانہ کے حکام نے معاشی اعشاریوں پر بریفنگ دی ۔ اجلاس میں کابینہ کی قانون سازی کمیٹی کے دائرہ اختیار میں اضافہ کی منظوری دی گئی ۔ کابینہ نے فیڈرل انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری ، پورٹ قاسم کراچی میں ایل این جی ٹرمینلز کی منظوری دے دی۔ ایکس کیڈر پوسٹوں کے بدلے میں جوڈیشل آفیسر بھرتی کرنے ، پاکستان میں فیری سروس شروع کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ۔ اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ 2018 اور 2019 پیش کی گئی ۔کابینہ نے 27 اگست کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی۔ 27 اگست کے توانائی کمیٹی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی گئی ۔ کابینہ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دیدی گئی ۔ جبکہ کابینہ کو مارگلہ روڑ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔
ذرائع کے مطابق سیکرٹری داخلہ نے کابینہ کے سامنے ایس ای سی پی عہدیدار ساجد گوندل کے اغوءکا معاملہ رکھا۔ سیکرٹری داخلہ نے وزیر اعظم اور کابینہ کو ساجد گوندل کے معاملے پر بریفننگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی سربراہی میں تین رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری بھی شامل ہیں ۔ کمیٹی ساجد گوندل کے اغواکے معاملے پر تحقیقات کرکے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز سیکرٹری داخلہ کو ساجد گوندل کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دیا تھا ۔





































