
اسماء معظم
حیا نام تھا اس کا اورتھی بھی وہ حیا کا پیکر،خدا نےصورت اور سیرت دونوں ہی سےنوازاتھا۔ حیا انجینئرنگ کی طالبہ تھی ۔آج صبح وہ جلدی اٹھ
گئی تھی۔ یونیورسٹی میں آج سالانہ فنکشن تھا۔ اس میں مختلف سرگرمیاں تھیں، جس میں اسٹال بھی لگائے جارہے تھے ۔وہ بہت خوش تھی ۔اس نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور تیار ہوگئی۔ بس آنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے۔ اس نے اپنی کچھ ضروری چیزیں بیگ میں رکھیں۔ اسٹاپ پر پہنچی ۔تھوڑی دیر بعد یونیورسٹی کی بس آ گئ۔ یونیورسٹی پہنچتے ہی حیا بس سے اترکرتیزی سے اس مخصوص کونے کی طرف چلی، جہاں وہ روز ملتی تھیں ، اس کی سہیلیوں کا گروپ اس کا شدت سے منتظر تھا ۔یونیورسٹی میں بڑی گہما گہمی تھی۔ رنگ برنگی جھنڈیوں سے مزین یونیورسٹی کسی دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ تمام طلبہ وطالبات اپنے اپنے کاموں اور دلچسپیوں میں مصروف تھے ۔حیا نے سارے انتظامات پر ایک گہری نظر دوڑائی، اس کو سب بہت اچھا لگا۔
اعلان ہورہا تھا کچھ دیر بعد وطن کی آزادی پر ٹیبلو کا وقت ہو اچاہتا ہے ۔سب کو شرکت کی دعوت دی جا رہی تھی۔ حیا اور اس ک سہیلیاں بھی ٹیبلو دیکھنے پہنچ گئیں،جس کا انعقاد ایک بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ہال سے باہر نکل کے عفت گویا ہوئی ۔کیا زبردست ٹیبلو پیش کیا گیا تھا ۔واقعی میں سوچتی ہوں وطن کو بنے 74 سال بیت گئے اور ہم پاکستانی آ ج اسی مقام پر کھڑے ہیں وہی فرسودہ نظام تعلیم ،وہی فرسودہ نظام معیشت اور وہی فرسودہ نظام حکومت۔۔۔۔
صحیح کہ رہی ہو ۔۔۔۔تانیہ نے اس کی تائید کی ۔۔۔
ارےیہ دیکھو شفا نے سامنے والے اسٹال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ،جہاں طرح طرح کی جیولریز رکھی ہوئی تھیں۔ سب نے اپنی اپنی پسند کی جیولری خریدیں ۔برابر کے اسٹال میں خوبصورت پرس اور اسکارف تھے۔ کچھ دیر دیکھنے کے بعد حیا اورحریم نے اپنی اپنی پسند کے پرس اور اسکارف خریدے۔مختلف اسٹالز پر گھومتے گھومتے انہیں خاصی دیر ہوگئی تھی۔
"میرا تو چل چل کر برا حال ہو رہا ہے ."شفا نے کہا
" مجھے تو سخت بھوک لگ رہی ہے ۔"عفت بولی
" میرے تو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔" تانیہ نے لقمہ دیا
"پیٹ میں چوہے ۔۔۔!"یہ کہ کر سب خوب زور سے ہنسیں ۔
اب ان کے گروپ نے کھانے کے اسٹال پر دھاوا بولا۔اس موقع پر عفت نہایت جوش خروش سے ان کی قیادت کررہی تھی۔سموسوں پکوڑوں اور چھولوں سے خوب لطف اندوز ہو ئیں ۔اس معاملے میں عفت سے جیتنا مشکل تھا۔حریم نے عفت کو پکڑ کر گھسیٹا، اور بولی موٹو اب کتابوں کے اسٹال پر بھی تو چلو۔ہنستا کھیلتا باتیں بناتا یہ پورا گروپ کتابوں کے اسٹال کی طرف چلا۔مجھے تو اسکا کب سے انتظار تھا ۔حیا نے کہا۔"بےشک "تحریم بولی "کھانا پینا تو ہم روز کر لیتے ہیں ،کتابیں کم ہی ہاتھ آ تی ہیں ۔یہ کہ کر اس نے کن انکھیوں سے عفت کی طرف دیکھا ،جو ہاے واے کرتی لڑکھتی پڑکتی ان کے ساتھ چلی آ رہی تھی۔
بک اسٹال پر بہت ساری کتابیں تھیں ۔نسیم حجازی کے ناولز خاک اور خون اور آخری چٹان پر نظر پڑتے ہی حیا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ،اس کے ساتھ عفت قریشی کی زرسے ذات لینے میں بھی اس نے دیر نہ لگائ ۔اس کی نظر مختلف کتابوں سے گزرتی ہوئی ایک کتاب پر جا ٹکی، جس کا سرورق دلکش اور موضوع اچھوتا سا لگا حیا نے اٹھا لی۔
"پردہ"!اس نے کتاب اٹھاتے ہوئے زیرلب نام دھرایا اور اسے کھول کر جگہ جگہ سے ورق گردانی شروع کردی ۔ایک جگہ عبارت پر اس کی نگاہیں ٹک گئیں ."۔۔۔۔اسلام اپنے مقصد کے لحاظ سے معاشرت کا ایسا نظام وضع کرتا ہے جس میں عورت اور مرد کے دو ائر(دائرے)عمل بڑی حد تک الگ کر دیئے گئے ہیں ،دونوں صنفوں کے آزادانہ اختلاط کو روکا گیا ہے اور ان تمام اسباب کا قلع قمع کیا گیا ہے جو اس نظم و ضبط میں برہمی پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں مغربی تمدن کے پیش نظر جو مقصد ہے اس کا طبعی اقتضایہ ہے کہ دونوں صنفوں کو زندگی کے ایک ہی میدان میں کھینچ لایا جائے اور ان کے درمیان سے وہ تمام حجابات اٹھا دیے جائیں جو ان کے آزادانہ اختلاط اور معاملت میں مانع ہوں اور ان کو ایک دوسرے کے حسن اور صنفی کمالات سے لطف اندوز ہونے کے غیر محدود مواقع بہم پہنچائےجائیں۔۔۔۔۔۔ "
وہ ورق الٹتی رہی ۔"۔۔۔۔۔اسلام نے عورت اور مرد کے تعلقات کو مختلف حدود کا پابند کر کے ایک مرکز پر سمیٹ دیا ہے۔۔۔۔۔"
یہ پیرا بھی خوب تھا"۔۔۔۔۔اسلامی نظام معاشرت کے اصول و قوانین کو توڑ کر کچھ رکتے ،کچھ جھجھکتے اسی راستے کی طرف اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو لیے جا رہے ہیں جو مغربی تہذیب کا راستہ ہے۔۔۔۔۔۔"اس نے کچھ دیر سوچا اور یہ کتاب بھی خریدنے کا فیصلہ کیا۔سارا وقت خوب ہلے گلے میں بسر ہوا ۔حیاتھکی ہاری سہ پہر کو گھر پہنچی ۔
امی جانتی تھیں آ ج حیا کا فنکشن ہے ،اس کو دیر ہو جائے گی، لیکن اس کے باوجود وہ زیادہ دیر اس کے بغیر نہیں رہ پاتی تھیں۔ اسی اثناء گھر کی بیل بجی، اور حیا آ ن وارد ہوئ۔ کیسی ہیں امی ؟یہ کہتے ہی وہ امی کے گلے لگ گئ ۔
یہ دیکھیں امی ۔۔۔!اس نے بیگ سے تمام چیزیں نکال کر امی کے سامنے پھیلا دیں۔ ارے واہ !امی نے اس کی خریدی ہوئی چیزوں پر دلچسپی سے نظر ڈالی ۔سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب پردہ دیکھ کر حیا سے پوچھا !یہ تم نے خریدی ہے یا تمہیں کسی نے دی ہے؟حیا یہ سوال سن کر زرا شرمندہ سی ہوگئی کیونکہ وہ پردہ نہیں کرتی تھی ۔وہ بولی "امی مجھے یہ کتاب الگ سی لگی، میں اس کو ضرور پڑھونگی۔ حیا کی امی کی عرصے سے خواہش تھی کہ حیا پردہ اختیار کر لے،انہیں یوں لگا کہ ان کی خواہش پوری ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے ۔





































