
نزہت ریاض
انمول عرف پنکی ایک ایسی عورت جو کوکین اور شراب بناتی ہے ,مطلب صرف سپلائر نہیں ہے
باقاعدہ منشیات پر ریسرچ کرکے ان کا ذائقہ یا نشے کی لذت کو بڑھا کر پھر بیچتی ہے۔کراچی سے گرفتار کی گئی ، اس لیے کراچی کے ارباب اختیار سے ہی سوال کرنا چاہوں گی؟؟؟
ایک عام آدمی اپنے گھر کی چھت ڈالنے کھڑا ہو تو پولیس ہی نہیں اور بھی کئی ادارے اس بندے کے گھر کا راستہ دیکھ لیتے ہیں اور وہ بندہ "چائے پانی” دے کر ہی اپنا کام آگے بڑھا پاتا ہے، جب یہ پنکی میڈم کوکین کی فیکٹری لگا رہی تھی تو ادارے کہاں سو رہے تھے ؟
سو رہے تھے یا آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی تھی ، پنکی میڈم کی دئیے ہوئے ماہانہ نذرانے والی ،جس سے آپ کو کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔سنا ہے میڈم نوازنے کی بھی عادی ہیں ،غریبوں میں کھلے عام دولت بانٹتی پھرتی ہیں تو میڈم آپ حرام کمائی بانٹنے کے بجائے ان غریبوں کے بچوں کو اس زہر کا عادی نہ بنائیں تو بھی آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ،کیونکہ اس زہر کا عادی تو ویسے ہی سڑک پر آجاتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پورے خاندان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔
کراچی کے عوام تو ویسے ہی برباد ہیں ،کبھی ٹوٹی سڑکوں کے ہاتھوں کبھی کھلے مین ہولز میں گر کر تو کبھی بے لگام دوڑتے ٹرالرز کے نیچے کچل کر یہاں کے نوجوان اور بچے مارے جا رہے ہیں۔رہی سہی کسر گیس اور بجلی کی بندش نے پوری کر دی ہے ۔اس مظلوم کراچی کے نوجوانوں کو بگاڑ کر ڈرگز کی لت لگانےکے لیے پنکی میڈم کی انٹری بھی ہو گئی ۔
نہ جانے کب سے یہ گندہ دھندا جاری تھا ،یہ توکسی کی منشیات سے موت کی وجہ سے یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئی ،ورنہ اس کا تحفظ تو پولیس میں کالی بھیڑ وں کی صورت میں موجود قانون اور انصاف کے دشمن کررہے تھے ،اسی لیے تو یہ آج تک سامنے نہیں آسکی تھی اور دھڑلے سے کام کر رہی تھی ۔اب میڈم کو اس کے کرتوتوں پر قابوکر ہی لیا ہے تو ہم ملتمس ہیں کہ اس سے اگلے پچھلے سب حساب برابر کیے جائیں ۔نسلوں کو تباہ کرنے کے جرم میں اسے کڑی سے کڑی سزادے کر نئی نسل کو منشیات کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچایا جائے ۔



































