
نگہت پروین
کراچی روشنیوں کا شہر تھا ہرسہولت حاصل تھی۔ چین تھا، امن تھا، تعلیم تھی، سکون تھا، صحت کی سہولتیں تھیں ۔ غریب پیٹ بھرکر روٹی کھاتا تھا۔ رات کو سکون سے سوتا
تھا۔ صبح پھرخوشی خوشی روزگار پرجاتا تھا ۔ گیس بجلی کے مسائل نہیں تھے۔ مہنگائی اور بےحیائی نہیں تھی اور عورت کے لئےعزت تھی وقارتھا ۔ بچے اسکول اور لڑکیاں کالج یونیورسٹی جاتی تھیں۔ والدین بے فکر تھےماحول پر امن تھا۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ،دھماکے،موبائل چھیننا، اغوا برائے تاوان،بے روزگاری کے نتیجے میں خودکشی،جیسے گھمبیر مسائل سامنے آگئے ۔وجہ اس کی یہ تھی کہ اقتدارمیں جو لوگ تھے وہ عوام کو بھول چکے تھے اقتدار کے نشے میں عیاشیوں میں مشغول تھے۔ روٹی کپڑا مکان دینے والے نعرے غریب کو مرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ مہنگائی نے غریب کو فاقہ پر مجبور کیا ۔جب ووٹ مانگنے کا وقت تھا تو بہت وعدے کیے۔ آج سب بھول بیٹھے۔ کسی کو کسی طرح کا انصاف میسر نہیں ۔ ٹیکس پر ٹیکس لگا کر بیرون ملک جا کر ملاقات اور معاہدوں کے بہانے تفریحات کرنا
ایسے اندھیرے میں ایسے پرخطر ماحول کے بعد ناامیدی کی اس فضا کے بعد ایک روشن چراغ سامنے آتا ہے۔ ایک دیندار ایک مخلص، ایک بہادر اور نڈر عوام کا دوست، عوام کے مسائل سمجھنے والا، عوام سے محبت کرنے والا،عوام کا دکھ محسوس کرنے والا، ایسا شخص جو آپ نے آزادی اور خوشی نہیں بلکہ عوام کو خوشحال بنانے کے لیے جان لڑا رہا ہے ۔ وہ اور اس کے ساتھ ہی آزمائش کی گھڑیوں سےنبرد آزما ہوتےہوئے عوام کے لئے سردی میں دھرنا دے رہےہیں۔ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ کوئی تو ہو جو اس کراچی کو سنبھال لے۔اس کے مسائل حل کرے۔ اس کے بے حال اور مایوس عوام کے لیے امید کی کرن بنے ۔
وقت کا اہم ترین تقاضہ یہ ہے کہ جو اللہ کو مانتے ہوئے اپنے آپ کو حساب دے ۔ سمجھیے وہی معاشرے کے ناسوروں کو ختم کرنے اورعوام کی بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرنےوالا ہوگا۔ اس کے لیے جدوجہد کرنے والا ہوگا اور وہ دیانتدار نعیم الرحمان ہے۔ آپ وہ عوامی نمائندے ہیں جو عوام کی امنگوں کے ترجمان ہیں ۔ عوام کے لیےہر سطح پرترقی کے کوشاں ہیں۔ کلمے کی بنیاد پرحاصل ہونے والےملک میں حاکمیت اللہ کی نہیں وڈیرہ شاہی کی ہے۔ پورا نظام زندگی اللہ کے احکام کے خلاف ہے۔ اس وقت نوجوانوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں اور بے روزگار ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی عام ہے۔ تعلیمی معیار گر گیا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال ہو رہی ہے۔ ڈانس سکھائےجا رہے ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ صفائی اورصحت کا فقدان ہے۔ ان تمام مسائل کے باوجود یہ دیانت دارشخص ڈٹا ہوا ہے۔ اپنے موقف کو ایوانوں تک لے گیا ہے۔عوام کی طاقت اس کے ساتھ ہے۔عوام محسوس کرتے ہیں کہ اس اندھیرے میں یہ چراغ اس کی کرنیں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن عوام کی خواہشات، ضروریات، تکالیف اورمعاشی مسائل کا حل لے کر اٹھے ہیں۔ بنوں قابل جیسے پروگرام کے ذریعے نوجوانوں میں امید کی کرن پیدا کی ہے ۔آئیے ہم تمام عوام مل کر حافظ صاحب کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ ایک ایک لڑی مل کرہی زنجیر بنتی ہے۔ہم وہ زنجیر بنائیں گے اور ایک دن ترازو پرمہر لگا کر امانت کا حق ادا کریں گے۔ہمیں یقین ہے کہ اس طرح ہمیں امن ملے گا۔ انصاف ملے گا۔ ترقی ملے گی۔ درسگاہوں میں تعلیم کا معیار اونچا ہوگا۔ عورت کی عزت اور وقار اور جان و مال محفوظ ہوگئی اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حاکمیت میں چلنے والا نظام زندگی ملے گا انشاء اللہ
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سےمتفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































