
نگہت پروین
جس نے اللہ کی کبریائی بیان کی اللہ نےاس کا ہاتھ تھام لیا ۔
قطرنے کھیلوں کے سب سےبڑے ایونٹ فیفا کے ذریعےساری دنیا خصوصاً یہود ونصاریٰ کویہ پیغام دیا کہ اسلام نافذ ہونےکےلئےہےاوراسلامی اقدار کو برقرار رکھنے کے لئے کسی دنیا وی، آقا کی نہیں بلکہ صرف اللہ کی آقائی چاہیے۔ اگر اللہ کی وحدانیت پر نماز کا عملی نمونہ اتنے بڑے اسٹیڈیم میں ہوتا ہے تو دنیا حیران ہے قطر کےحکمرانوں پر،ان کی جرات پر، توان کوان کی جرات ان کے ایمان نے، دی،نا،،
قرآن میں آگیا ہے کہ حق آکررہےگا اورباطل مٹ جائے گا تو پھر قطرکےحکمران کیوں ڈرتے،جب اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہےتو پھر قطر کے حکمران کیوں ڈرتے۔ غیر مسلموں نے دیکھا ہماری نماز، ہمارا رکوع، ہمارا سجدہ ، ایک ایسی ہستی کے لئے ہے جو نظر نہیں آتی تومسلمان کس قدر اپنے معبود کی وحدانیت پرایمان رکھتے ہیں ۔
قطر کے حکمرانوں نے صاف کہہ دیا کہ اسلام کسی کے پیچھے چلنےکےلئےنہیں بلکہ ساری دنیاکےتمام انسان اس اسلام کے پیچھےچلنے کے لئے ہیں۔ پھر بل بورڈ، پینافلیکس پر بھی قرآنی آیات اور تراجم کے ساتھ لگائے گئے ہیں ،ان آیات کے ساتھ بھی تو ملکی مصنوعات کی تشہیر کی جا سکتی تھی جس سے بہت آمدنی ہوتی مگر قطری حکمرانوں اللہ ان کواجرعظیم سےنوازے ۔ تمام مسلم ممالک اورمسلم سربراہان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے تو آمدنی کی پروا نہیں۔
غیرملکی کھلاڑیوں نےکہا کہ یہ ایونٹ قطر میں نہیں ہونا چاہیےکیونکہ وہاں بہت گرمی ہوتی ہے ۔ ہم کھیل نہیں سکتے ۔ انہوں نے پوچھا کتنا ٹیمپریچرچاہتے ہو ہم مہیا کریں گےجو انہوں نے بتایا ان کی چاہت پوری کردی ۔ اتنے ایئرکنڈیشنڈ لگائے کہ وہ قطر، کی گرمی بھول گئے ۔اسلام میں شراب حرام ہے سو،شراب نہیں ملے گی عورتیں چست لباس میں اسلام کی جو بے ہنگم تصویر پیش کرتی ہیں اس پر پابندی لگا دی۔ مسلم علماء کو دعوت تبلیغ دی گی تاکہ یہ ایونٹ غیر مسلموں کو بتادے کہ ہمارا دین ہمہ گیر ہے۔
یہ ایونٹ28 دن رہے گا ،قطر نے کہا کہ ہم 28 دن کے لیےاپنا دین نہیں بدلیں گے۔یہ وہ پیغام ہے جس سےساری دنیا حیرت میں ہے کہ قطر کہ حکمران دنیا میں کسی بڑی طاقت سے نہیں ڈرتے۔
اس لیے کہ اللہ نے امت محمدیہ کوامت وسط بناکر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ دےکراپنی مدد کا وعدہ کیا ہےاور قرآن میں کئی واقعات ہیں جہاں اللہ کی مدد کیسے کیسے آئی تو کیا باقی مسلم حکمران اورممالک قرآن میں اللہ کے وعدے اور قطر کے حکمرانوں کی اس ایونٹ کے ذریعے اسلام کے قیام کی جھلکیوں کو آئندہ اپنے اپنے ملکوں میں دین حق کے لیے دنیاوی آقاؤں کو چھوڑ کریا حی یا قیوم کو پکڑ کر لیں گے؟۔
کیا قطر کے حکمرانوں کے اس پیغام کو ہم سمجھیں کہ جیسےعوام ہوگی ویسے ہی ان کے حکمران ہوں گے ۔۔۔ بحیثیت عوام دین کا قیام اوراسلامی حکومت چاہتے ہیں تو رب سے ڈریں۔۔۔ ڈرنے کا حق رب کے سوا کسی سے نہیں دنیاوی آقاؤں کے بجائے اس رب کی فکر کریں جس نے اپنے غیبی مدد کا وعدہ کیا ہے ۔ ایک قدم چلنے پر دس قدم آگے بڑھ کر ہمیں سنبھالتا ہے ہم چلتے ہیں تو وہ توبڑھ کر ہمیں سنبھال لیتا ہے۔۔۔اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ اللہ کا سہارا ہی راہ نجات ہے۔





































