
نگہت پروین
بارہ ربیع الاول آیا عمارتیں سجیں۔۔۔چراغاں بھی ہوا۔۔جھنڈے بھی لہرائے گئے ۔۔جلوس نکالےگئے۔۔عید میلاد النبی کے جلسے ہوئے۔۔۔ لہک لہک
کر نعتیں بھی پڑھی گئیں ۔خواتین کی میلاد کی محفلیں بھی سجیں ۔یہ سب نظارے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی عکاسی کررہے تھے۔
کیا یہ سب کچھ صحیح ہے؟اس میں کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دین کی دعوت ۔۔سنتوں ۔۔ احادیث کا عکس نظر آرہا تھا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ نے آخری نبی مبعوث فرمایا گیا۔ حضوراکرم جس دور میں تشریف لائے،وہ تاریکیوں اور جہالت کا زمانہ تھا۔ اس تاریکی اورجہالت کو رسول اللہ نےدین حق کو قائم کرکےمٹایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعیثت کا مقصد اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنا اوراپنے علم و عمل سےاچھے اخلاق کی تربیت دینااور اپنےمعاملات کودرست رکھنا تھا۔
اس دین کو قائم کرنے کے لیے کتنی مشکلات ؛کتنی تکلیف ۔کتنی مخالفت ،کتنی کشمکش اورکتنے برےحالات کا مقابلہ کیا،سگے چچا نےبھی نبی کریم کی بہت مخالفت کی مگر سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےپائےاستقلال میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی
رسول کریم نے اقلیتوں کا خاص خیال رکھا ،کہیں کسی کی حق تلفی نہ ہو،لسانیت کے فتنہ کو ابھرنےنہ دیا،حضور اکرم کی زندگی کےہر پہلو میں سادگی ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست کتنی صاف ستھری اور پاکیزہ تھی، جیسے آپ کے نماز روزہ اور دیگرعبادات پاکیزہ تھیں ،وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ کی دونوں ہی چیزیں فی سبیل اللہ تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےجب بھی کوئی وعدہ کیااس کی خلاف ورزی نہیں کی آپ نےدنیا کو یہ سبق دیا کہ ایمانداری،صداقت اورامانت داری جس طرح انفرادی زندگی میں انسان کے لیے خوبی ہے،اسی طرح سیاسی اور اجتماعی زندگی میں ان چیزوں کا وزن ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان کی سیرت اور ان کے کارہائے نمایاں کولکھنے بیٹھے تو قلم رک نہیں سکتامگردیکھنے اور سوچنے کا مقام تویہ ہے کہ آج ہم نبی کی محبت کے دعویدار تو بنتے ہیں ۔ ان کے عاشق توکہلاتے ہیں مگر جو دعوت انہوں نے دی ،جو اللہ کا پیغام لے کر وہ آئے،کیا وہ ہم نے قبول کیے ؟جس دین کو انہوں نے نافذ کیا ہے کیا ہم نے بھی اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کیا ؟کیا اخلاقیات اور معاملات میں اللہ اوراس کے رسول کا حکم مانا ؟کیا سیاست کی پاکیزگی کا حق ادا کیا ؟ کیا ہمارے لیڈروں نے جو عوام سے وعدے کیے تھے وہ پورے کیے ؟اپنے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صداقت ایمانداری اور امانت داری کا لحاظ کیا ؟ کیا اجتماعی زندگی میں دین کے خلاف کچھ ہوا تو اٹھ کر کھڑے ہوئے ؟نہیں بالکل نہیں ۔۔پھر بھی ہم عشق رسول اور محبت کے دعویدار ہیں۔
دین کو نافذ کرنا تو درکنار ہمارے لیڈر تو قرآن بھی صحیح سے نہیں پڑھ سکتےبلکہ ہماری قومی اسمبلی کے ممبران کی اجتماعیت میں دین کے خلاف ""ٹراانس جینڈر بل پاس کیا جو ہمارے ایمان اور دین کے متصادم ہیں ،پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم عاشق رسول ہیں ؟ہمارے نبی کی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید ،رسالت اور آخرت پر مبنی ہے ۔
ہم نے ان تینوں پہلوؤں پر کبھی غور وخوص کیا اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی۔ اس پر عمل پیرا ہونے کی جدوجہد کی۔ ہم تو بس نبی کی محبت کے دعویدار ہیں ؟ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو چھوڑ کرامریکہ کی دعوت قبول کی ۔ اس نے قرضہ دینا بند کر دیا اور کہا کہ تم جہاد کے خلاف کام کرو گے۔ فحاشی اوربے حیائی عام کرو گے تو ہم قرضہ دیں گے،ورنہ نہیں بس ہم نے فورا سرجھکا ۔
آج کا پیغام تو یہ ہے کہ جلسے جلوس چراغاں کام نہیں آئیں گے بلکہ ایمان داری اور امانت داری ،صلح اور فلاح اختیار کرکے ہماری آخرت کا توشہ بن جائے گا۔
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( اداری رنگ نو )





































