
نگہت پروین
عورت کے سائبان، باپ، بھائی، شوہر، بیٹا، عورت کی نزاکت،اس کا وقار، عزت، احترام اوردرجہ دین میں مقررکردیا گیا ہے۔ٓعورت کے معنی چھپی ہوئی
چیز کے ہیں اگر عورت اپنے اس مقام کو خود پہچان جائےتو مرتبہ اوربھی بڑھ جاتا ہے۔قرآن میں ہمارااسلامی نظام اوراسلامی تعلیمات میں مرد کو قوام کہا گیا ہے اور عورت اس قوام کی ساتھی ہےاوروہ باپ ،بھائی ، بیٹا اور شوہر کی شکل میں ہوتا ہے، ان تمام صورتوں میں یہ سب عورت کے سائبان ہیں۔
لڑکی جب پیدا ہوتی ہے تو باپ کہتا ہے اللہ کا شکر میرے گھر رحمت آگئی۔ بھیا کہتا ہے کہ میری پیاری بہن آگئی اور پھر وہ ان دونوں کی محبت سمیٹتے ہوئے عمر کی منزلیں طے کرتی ہے ۔ اس کو گھر کا تحفظ ملتا ہے۔ ماں باپ کی پیاربھری آغوش اور بھائی کا لاثانی پیارملتا ہے۔ وہ ان محافظوں کی نگرانی میں جب جوان ہوتی ہے تو والدین اپنافرض نبھاتے ہیں اور بڑی دیکھ بھال کر کے اس کی شادی کر دیتے ہیں۔ وہ لڑکی خوابوں کے ہنڈولے میں بیٹھی پیاہ کےگھر چلی جاتی ہے۔ وہاں اسے پھر سائبان میسرآجاتا ہے اور وہ ہیں شوہر جو اس کی آرزو اور خواہشوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا ساتھی اوراس کے خوشی اور غم کا ساتھی ہے،اسے پرسکون سائبان میں رکھتا ہے۔
خوشگوار زندگی میں اللہ انہیں ایسی ہی نعمت سے نوازتا ہےجو اس لڑکی کو مکمل عورت بناتا ہے۔ اس کے وجود سے اس کا بیٹا جنم لیتا ہے اب یہ حیا کی پتلی مکمل عورت بن گئی۔ آج بہت خوش ہے۔ اللہ نے اسے ہر رشتے سے جوڑ دیا۔ عورت کے لیے باپ ،بھائی، شوہر اور بیٹے کی شکل میں یہ سائبان تحفظ کی ضمانت ہیں۔ محفوظ ہونے کازبردست احساس کے کہ اللہ نےمجھے چاروں طرف سے رشتوں کی شکل میں وہ فصیل مہیا کر دی کہ میں سکھ چین سے ہوں اور ان رشتوں سے پھر خاندان کا وجود ہوتا ہے اور خاندان وہ ادارہ ہے جو عورت کسی بھی صورت میں ہو ماں، بیٹی، بہن یا بیوی تحفظ کی چاردیواری نصیب ہوتی ہے پھر گھرکے افراد ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں اور یہ سارے سائبان مل کر عورت کو معاشرے کا ایک اہم ستون بنا دیتے ہیں۔





































