
رانا خالد محمود قیصر
ڈاکٹرنثاراحمد نثارشعبہ درس وتدریس سے وابستہ رہے اور ایک قابل عزت گزٹڈ آفیسر کےعہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ آپ کا دوسرا شغف صحافت ہے،
روزنامہ جسارت کراچی سے وابستہ ہیں اور کراچی کی ادبی سرگرمیوں کی روداد حقیقت پر مبنی اور بڑے اہتمام سے لکھتے ہیں جبکہ آپ ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی ہیں۔ زیرمطالعہ کتاب نور الہدی صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر نثار کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس کے ہر ایک شعر میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ ”میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اس صنف سخن میں غلو موجب گناہ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وکمالات اور سیرت طیبہ کے بیان میں بخل سے بھی کام نہیں لینا چاہئے۔
شعری مجموعہ بڑے اہتمام اور دیدہ زیبی سے شائع ہوا ہے، کتاب کا انتساب خواجہ مستونگ سید شمس الدین محمد ابراہیم یک پاسیؒ کے نام کیا ہے، یہ بزرگ چھ سو سال پہلے سندھ وبلوچستان میں اسلام کی تبلیغ وترویج کے سلسلے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ قطعہ سال اشاعت صابر برادری نے تحریر کئے ہیں۔ منظوم تاثرات حضرت راغب مراد آبادی نے عطا کئے ہیں۔ تبصرہ نگاروں میں پروفیسر آفاق صدیقی، درخشاں ستارہ، پروفیسر منظرایوبی، جواں فکر شاعر پروفیسر انوار احمدزئی، مہکتے حروف قمر وارثی نورالہدی محمد، محمد اکرم کنجاہی، عاشق مصطفی اور مصنف ڈاکٹر نثار احمد نثار کا اظہاریہ شامل ہے۔ فلیپ ذی وقار پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان (حیدرآباد) اور بیک فلیپ پروفیسر ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ انڈیا اور پرروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی (ملتان) نے مرحمت فرمایا ہے۔ اتنے سارے اکابرین اُردو ادب کی رائے یہ ثابت کرتی ہے کہ نثار ایک اچھے خاصے متحرک شاعر ہیں اور ادبی حلقوں میں ایک اعتبار کے حامل ہےں۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خان لکھتے ہیں کہ کون مسلمان ایسا ہوگا جسے انور کے دربار میں حاضر ہونے کی تمنا نہ ہو۔ یہ تمنا نثار صاحب کی نعتوں میں جابجا نظم ہوئی ہے۔ اللہ پاک اپنے محبوب کے صدقے میں انہیں بار بار یہ سعادت نصیب فرمائے آمین۔ اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور ڈاکٹر نثار احمد نثار اپنے اہل خانہ کے ہمراہ حج بیت اللہ اور دربارِ رسالت میں حاضری کےلئے منتخب ہوئے اور خیر سے ارکان مکمل کئے۔ سچے دل سے پکار اور بزرگان کی دعا۔ ہمیشہ شرف قبولیت سے ہمکنار ہوتی ہے یہ دعا ڈاکٹر نثار کے کلام میں جگہ جگہ ملتی ہے ایک شعر ملاحظہ کیجئے۔
نہ جانے کب طواف گنبد خضری میسر ہو
غم فرقت میں ہم بھی دیدہ نمناک رکھتے ہیں
طواف گنبد خضراءایک عقیدت کا استعارہ ہےکہ عاشق مصطفی بار بار روضہ رسول اور گنبد خضریٰ کی زیارت کریں ورنہ طواف ارکان حج عمرہ تو صرف طواف بیت اللہ ہی ہے۔ بہر حال یہ ایک عقیدت کا معاملہ ہے۔
نثار کی نعتیہ شاعر جذبات، احساسات اور عقیدت مندانہ سرشاری سے بھرپور ہے وہ توصیفی، التجائی لہجوں میں جب اپنی دلی آواز عقیدت کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اپنی خوش فکری اور شائستگی کی بدولت حب رسول میں مدح سرائی کرتے ہوئے سرشاری میں یوں گویا ہوتے ہیں
نہ توقیر تھی میری اہل نظر میں
نہ حاصل تھی شہرت مجھے اہل فن میں
مگر میں ثنائے محمد کے صدقے ہوا
دھیرے دھیرے نمایاں نمایاں
اس نعت کی ردیف، نمایاں نمایاں، ایک خصوصی انفرادیت کی حامل ہے اس ردیف کا نبھانا اور مضامین نعت کو نمایاں کرنااور وہ بھی اس روانی سے کمال ہے
جاؤں میں لاکھوں بار بھی شہر نبی اگر
ہوگی نہ دید طیبہ کی خواہش کبھی تمام
کچھ نہ پوچھو کیا سرور وکیف کا منظر تھا وہ
جلوہ گاہِ مصطفی جب تھی نظر کے سامنے
پروفیسر آفاق صدیقی کی رائے میں ڈاکٹر نثار احمد نثار دہلوی کو علم عروض سے بھی واقفیت ہے جیساکہ نعتوں کے اوزان وبحور سے واضح ہوتا ہے بعض مشکل بحروں میں اُن کے اشعار موجود ہیں اور غالب کی زمینوں میں بھی کئی اچھی نعتیں انہوں نے کہی ہیں۔ ایک نعت جس کی ردیف صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ نعت پانچ مطلعوں پر مشتمل ہے اور ہر مصرع میں 13بار فقلن استعمال کرکے انہوں نے ایک نیا وزن ایجاد کیا ہے جو قابل قدر بات ہے۔ یہ ان کی سخنوری کی عمدہ مثال ہے جو اُردو وشاعری میں کم ہی ملتی ہے۔ لیکن ماہرین، عروض اور محققین کو ایسے اشعار کے مطالعہ پر نوحہ دینی چاہئے جن میں انفرادیت جھلکتی ہو۔
نثار احمد نثار نے اپنی نعت گوئی میں شریعت کی باریکیوں کو سامنے رکھا ہے وہ لفظوں کی معنویت اور شعر کی بنت میں مہارت رکھتے ہیں اور رموز نعتیہ شاعری میں آداب کے حصار میں رہ کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں نعتیہ شاعری میں نثار نے حرمین شریفین کے ذکر کےساتھ مسلمانوں کےساتھ دنیا بھر میں پیش آنےوالے واقعات کو بھی نظم کیا ہے جو اُن کی وسیع المطالعہ شاعر ہونے کی دلیل ہے۔
پروفیسر منظر ایوبی کے مطابق ڈاکٹر نثار کی نعتوں میں مجھے کسی جگہ بھی مبالغہ آرائی نظر آئی نہ کسی شعر میں غلو یا اغراق کا کوئی پہلو، گویا ابلاغ کے معاملے میں انہوں نے نہایت محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود کو ایک باشعور نعت گو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ میں نورلہدی کے مطالعے کے دوران یہ بات خاص طور پر محسوس کی کہ ڈاکٹر نثار نعت گو کے منصب سے بطریق احسن آگاہ ہیں انہوں نے ہر جگہ حفظ مراتب اور عبد ومعبود کے رتبے کو پیش نظر رکھا ہے ساتھ ہی فنی نزاکتوں باالخصوص نعت کی تکنیکی ضرورتوں سے کہیں اغماض نہیں برتا۔
پروفیسر انوار احمدزئی نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے اس مسودے کے مطالعہ کے دوران یہ بات محسوس کی ہے کہ نثار لفظیات وتراکیب کا خاص خیال رکھتے ہیں اور ان سے رعایت کاکام لینا انہیں خوب آتا ہے۔ دقت پسندی ان کی شاعرانہ مزاج کا حصہ ہے۔ نثار نے مشکل زمینوں مشکل قافیوں اور مشکل ردیفوں میں بھی شعر کہے ہیں۔
نثار کے بیانئے میں آئینے کو اہم مقام حاصل ہے، اس ضمن میں مختلف الجہات مفاہیم نکالے ہیں جو قابل غور ہیں کہ ان سے دلی عقیدت کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔
وہ درس گاہ سید کونین ہے نثار
پتھر بھی آئینے بنے جس درس گاہ میں
صاحب لولاک ہیں وہ نور پیکر آئنہ
زندگی بنتی ہے جن کے پاؤں چھو کر آئنہ
قمر وارثی کی رائے میں ڈاکٹر نثار کی نعتیہ شاعری میں چونکہ شائستگی اور سادگی کا رنگ نمایاں ہے اسلئے معجزانہ کشش رکھنے کےساتھ ساتھ ان کا طائر فکر اپنے قاری کو پلک جھپکنے میں ابلاغ کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے۔
نہ دولت کے وسیلے سے نہ اظہار شجاعت سے
دلوں میں گھر بنایا مصطفی نے اپنے سیرت سے
در خیرالوری کا ہر گداگر
امیر وقت سے بھی معتبر ہے
صبح ہجرت دشمنان دین حق کے روبرو
حیدر کرار ٹھہرے ترجمان مصطفی
فرط جذبات اور سرشاری کے عالم میں کہے گئے اشعار عام فہم، سادہ اور سلیس ہوتے ہیں اور وہ یکدم دل ودماغ کو متاثر کرتے ہیں نثار کی نعتیہ شاعری کا یہ بھی کمال ہے وہ شگفتگی سے بڑے مضامین بے باکی و برجستگی میں کہہ جاتے ہیں جیسا کہ ذیل کے شعر میں برجستہ اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اللہ قبول فرمائے
در محبوب عالم کی گدائی مجھ کو مل جائے
تو میں سمجھوں گا میں نے زندگی میں پا لیا سب کچھ




































