
رانا خالد محمود قیصر
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت 7اپریل کو عالمی صحت کا دن قرار دیا گیاہےجسے آج پوری دنیا میں اس عزم کےساتھ منایا جارہا ہےکہ صحت
کی سہولیات ہر ایک ذی روح کا حق ہے۔ بنی نوع انسان کےلئےصاف ہوا، صاف پانی اورمناسب اورصحت مندانہ خوراک سب سےاہم ہیں۔ عالمی ادارے کا وژن بھی یہی ہے کہ ماحولیات کو بہتر بنا کر انسانیت کی خدمت کی جائے تاکہ انسان ایک صاف ماحول میں سانس لے سکیں۔
عصر رواں میں کورونا ایک عفریت کے طور پر سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کووڈ19 کی نہ تو کوئی ویکسین تھی اور نہ کوئی دوا، بہرحال احتیاط کا دامن تھاما گیا اور دنیا نے کووڈ19 کا مقابلہ کیا، اس میں چھ ملین لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق کورونا کی شرح 70.55 کی شرح تک آگئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پاکستان میں کورونا سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔
کورونا کےساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایڈز، آلودگی، کینسر، دمہ، ٹی بی اور دل کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کا سامنا ہے۔ پاکستان میں ان بیماریوں کےساتھ عوام ہپاٹائٹس کا شکار ہورہی ہے جس میں ہپاٹائٹس بہت مہلک اور جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔ اس وقت ڈبلیو ایچ او کے مطابق تیرہ ملین اموات آلودگی کی وجہ سے ہورہی ہیں جس کا سبب غیرمعیاری اور غیر صحت مند معاشرہ ہے۔ بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی ممالک کےلئے مفید تو ضرور ہے مگر صنعتوں سے اخراج ہونےوالی گیسز ماحول کو انتہائی آلودہ کررہی ہیں۔ زمین پر درجہ حرارت تیزی سے تغیر پذیر ہورہا ہے اور دن بدن کرہ¿ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے دنیا کو موسمی تغیر کا بھی سامان کرنا پڑ رہا ہے۔
عالمی صحت کے دن کا منانا اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی ادارے لوگوں کی صحت کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جوکہ وقت کی اہم ضرورت اور غریب عوام کی دل کی آواز ہے۔
پہلی مرتبہ عالمی صحت کے دن کو 1950 میں منایا گیا تھا یہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے منشور کا حصہ ہے ان کا تھیم یہ ہے کہ ”ہمارا سیارہ ہماری صحت“ عالمی ادارے کا خاص مقصد ہے کہ انسانوں اور سیارے کو صحت مند رکھنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس وقت پوری دنیا کا صحت کے حوالے سے جو بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ 9.388 بلین امریکی ڈالر ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا اپنا منظور شدہ بجٹ 5.84 بلین امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان میں صحت کابجٹ 21.7بلین پاکستانی روپے ہے ایک اعلامئے کے مطابق یہ بجٹ گزشتہ کے مقابلے میں 50فیصد زیادہ ہے جو خوش آئندہ ہے، اس میں مزید بہتری کےلئے کوشاں ہیں۔
پاکستان نے جوں جوں اپنی تعلیمی اصلاحات پر توجہ دی ہے اب خواندگی کی شرح 58سے 70فیصد تک ہے اس وقت 22ملین طلباءاسکولز اور کالجز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت مردوں میں تعلیمی خواندگی کی شرح 72.05فیصد اور خواتین میں 51.8فیصد ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق چین اپنی صحت کے شعبے میں 7.2 ٹریلین یوآن خرچ کر رہا ہے۔ ہندوستان اپنی جی ڈی پی کا ایک فیصد اپنے عوام پر خرچ کررہا ہے، پاکستان بھی صحت پر کم خرچ کرنےوالا ملک ہے یہ پاکستانی جی ڈی پی کا 3.20فیصد ہے جس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ پاکستان چین میں صحت کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے اور ایک حد تک اُس کی تقلید بھی، چین کے اختیار کردہ اقدامات اور حاصل شدہ نتائج کی ترویج اور حب الوطنی، حفظان صحت پر زور، تہذیب کی تعمیر اور صحت کو اہمیت دےکر ایک مضبوط صحت مند اور مضبوط ثقافتی ماحول بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
پاکستان میں شہروں سمیت دیہات میں بھی صحت کی سہولیات ناکافی ہیں، جدید ہسپتال کی شدید کمی ہے فی ہزار افراد پر ڈاکٹرز کی دستیابی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ دیہاتی اور شہری سہولیات نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ شہر کے ہسپتالوں میں شہری مریضوں کا رش تو پہلے ہی ہوتا ہے مگر دیہات اور چھوٹے شہروں کے لوگوں کو جب علاقائی ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات نہیں ملتیں تو وہ مجبوراً شہروں کے بڑے ہسپتالوں کی جانب رخ کرتے ہیں، اس سے بڑے ہسپتالوں پر دباو¿ بڑھ جاتا ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک اور ریاستی اخراجات بھی مریض اور تیمارداری کرنے والوں کی کمر توڑ دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہاتی سطح پر رورل ہیلتھ سنٹرز کو فعال کرنے پر زوردیا جائے۔ بہتر رورل اور بیسک ہیلتھ سینٹرز کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں اور اُن علاقے کے میڈیکل کے طلباءڈاکٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ کم از کم تین سال اپنے دیہاتی علاقوں میں طبی خدمات انجام دیں گے۔
ضلعی سطح پر طبی سہولتوں کا فقدان ہے ، ضرورت ہےکہ ہسپتالوں میں سہولیات کا اضافہ کیا جائے اور ان متعلقہ اور ضلعی اسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
رورل ہیلتھ سینٹرز، بیسک ہیلتھ یونٹس میں لیبارٹری کی سہولیات، ایکسرے مشین کی سہولیات پر مزید توجہ دی جائے۔
کراچی، حیدرآباد، سکھر میں سرکاری سطح پر میڈیکل کالجز بنائے جائیں تاکہ وہاں کے قریبی علاقوں کو طبی سہولیات، ہاو¿س آفیسرز کی خدمات، نرسز کی خدمات اور جدید تحقیق سے استفادہ کا موقع مل سکے۔
پاکستان بھی عالمی یوم صحت منا رہا ہے مگر اس موقع پر صحت کی سہولتوں کے فقدان کو اُجاگر کرکے گاو¿ں، دیہات، شہروں کی سطح پر طبی سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔
ہاو¿س آفیسرز ڈاکٹرز کو مناسب وظیفہ دیا جائے جو اس وقت بہت کم ہے تاکہ ڈاکٹرز اپنی استعداد بڑھا سکیں اور دل جمعی سے عوام کی خدمت کرسکیں۔ عالمی صحت کے اداروں کی توجہ مبذول کرائی جائے تاکہ بروقت اور حقیقی طبی امداد عوام کو میسر آسکے۔ یوں ان اقدامات سے ہم صحت کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور عالمی یوم صحت کی اہمیت کو بھی اُجاگر کر سکیں گے۔




































