
رانا خالد محمود قیصر
اقوام کی تہذیب اورثقافت کا زندہ رہنا تاریخ کی مرہونِ منت ہے۔ تاریخ کےمنابع و ماخذ تحقیق و تفتیش کےتابع ہوتے ہیں کہ ماضی میں پیش آنے
حالات اور واقعات شفافیت کے ساتھ رقم کیے گئے رہوں جو حال اور مستقبل میں سندکی حیثیت کے طور پرماخوذ ہے۔ تاریخ کا لفظ عربی زبان سے مشتق ہے اور اپنی بنیاد میں ”ارخ“ سے ماخوذ ہے۔ ارخ کے معانی دن، عرصہ اور وقت لکھنے کے ہیں۔ ا بن خلدون لکھتے ہیں کہ تاریخ ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات و واقعات کو موضوعِ بحث دیتا ہے۔ تاریخ نویسی کی ابتدا کے متعلق ہربرٹ اسپنر اور گرانٹ ایلن کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انسان حرف اپنے اسلاف کا شعور رکھتا تھا وہ اسلاف کی حقیقی اور فرضی کارناموں سے واقف تھا اور ان کو یاد کرتا رہتا تھا۔ برصغیر پاک وہند میں تاریخ نویسی اور تاریخی رجحانات کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن کے کیوس پر علامہ شبلی نعمانی کا نام نامی خود بخود آجاتا ہے۔ اس کے بعد عبدالسلام ندوی شعر الہند کے حوالے سے ممتاز نظرآتے ہیں۔
تاریخ نویسی اور ترجمہ نگاری کا رشتہ ایک دوسرے سے بہت گہرا ہے کیونکہ دیگر زبانوں سے آگاہی صرف اور صرف ترجمہ نگاری سے ہی ہو سکتی ہے۔ عطش درانی رقمطراز ہیں کہ”ترجمہ کسی زبان پر کئے گئے ایسے عمل کا نام جس میں کسی اور زبان کے متن کی جگہ دوسری زبان کا متبادل پیش کیا جائے۔“ برصغیر میں علوم کی ترویج و اشاعت سنسکرت، عربی اور فارسی کے تراجم سے اُردو میں در آئی ہے۔ قدیم داستانوں، قصوں، کہانیوں اور تاریخی واقعات سے آشنائی تراجم کے ذریعے سے ہوئی ہے۔ برصغیر میں فورٹ ولیم کالج کے تراجم اس کی بنیاد ہیں۔ سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی، دارالترجمہ عثمانیہ و دیگر اداروں کی خدمات بھی اس سفر کا حصہ ہیں۔ تاریخ ،ادب اور لسانیات میں ذخیرہ الفاظ تراجم کے ذریعے ہی اضافے کا سبب ہے۔
تاریخ نویسی اور ترجمہ نگاری کے میدان میں ہم نئی راہوں اورنئے میدانوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ شبلی نعمانی اور عبدالسلام ندوی کے درمیان اور بعد میں کتنے ہی بلند قامت اور نامور اہلِ علم کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت غالب اُردو ادب میں تاریخ نگاری کے حوالے سے فرماتے رہے اور ان کے بعد بھی بہت سے صاحبانِ فن حضرات نے تاریخ نگاری اور ترجمہ نگاری کی جانب توجہ مبذول کرائی جن میں ایک نام”ڈاکٹر محمد ایوب قادری بدایونی“ کا بھی ہے۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کو تعلق روہیل کھنڈ کےمردم خیز خط بدایوں سے تھا۔ بدایوں کےایک قصہ آنولہ کوڈاکٹر قادری کی جنم بھومی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ایوب قادری ۸۲ جولائی۶۹۹۱ءکو اسی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان شروع ہی سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ تاریخ النساب اور علوم دینیہ سے دلچسپی اس خاندان کا نمایاں وصف رہا ہے۔ قصہ”آنولہ“ ضلع بریلی کا ایک تاریخی شہر ہے بحر قنوج کے تاریخی قدامت کی ہمسری ہندوستان کا کوئی شہر نہیں کرسکتا۔ آنولہ کو روھیلہ حکومت کا پہلا دار لحکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس کے لیے پہلے فرمانبروا نواب علی محمد خان ۹۴۷۱ءتھے۔
ڈاکٹرمحمد ایوب قادری نےاردو کالج سے بی اے کیا اور ایم اے اردو کراچی یونیورسٹی سے ۲۶۹۱ءمیں پاس کیا۔ ستمبر ۲۶۹۱ءسے اردو کالج (حالیہ جامعہ اُردو) سے منسلک ہوئے۔ آخر دم تک صدرِ شعبہ اردو میں اُستاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ۰۸۹۱ءمیں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی زیرنگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ” اردو نثرکے ارتقاءمیں علماءکا حصہ“ شمالی ہند میں ۷۵۸۱ءتک مکمل کیا اور ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کی تحقیقی، تخلیقی اور ادبی سرگرمیوں میں تاریخ نگاری، سوانح نگاری،مکتوب نگاری اور ترجمہ نگاری کےساتھ ساتھ تحقیق تاریخ گوئی، شخصی خاکہ نگاری، مقدمہ نگاری،صحافت، حوالہ جاتی ادب، علم الرجال اور تنقید کے موضوعات شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد ایوب قادری نے بحیثیت ترجمہ نگار گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ آپ اردو اور فارسی پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ عربی زبان اور خطاطی سے بھی شغف رکھتے تھے۔ ڈاکٹر قادری کی ترجمہ نگاری کے شاہکار درج ذیل ہیںؒ

۱تذکرہ علمائے ہند
مولوی رحمان علی کی فارسی تصنیف ہے جیسے ڈاکٹر ایوب قادری نے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس پر مقدمہ ڈاکٹر سید معین الحق (ایم اے پی ایچ ڈی) نے تحریر کیا اور پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی بھی ۱۶۹۱ءمیں شائع کیا۔ کتاب میں ۹۴۶علماءکا تذکرہ دیا گیا ہے جبکہ ۴۲ مشاہیر کا اضافہ مع حواشی کیا ہے۔ کتاب ۸۰۷ صفحات پر مشتمل ہے۔
مجموعہ وعصایا اربعہ
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے اس رسالے کو قادری صاحب نےاردو میں ترجمہ کیا۔ اس پر ۷۲ صفحات پر مشتمل مقدمہ بھی ڈاکٹر ایوب قادری کا تحریرکردہ ہے۔ اس رسالے میں ۶۲ نصیحتیں ہیں نیزشاہ ولی اللہ کی آٹھ وصیتیں بھی ہیں۔ اس ترجمہ میں ۵۹۱ صفحات شامل ہیں۔ مندرجات میں اسلامی فقہی مسائل ہیں۔
وقائع عبدالقادر خانی
یہ کتاب تاریخی واقعات کا مآخذ ہے۔ ترجمہ اور حواشی ”علم و عمل“ کے نام سے پیش کیا۔
مآثر الامرا
صمصام الدولہ شاہ نواز خان کی فارسی تصنیف ہے جسے قادری صاحب نے مرتب اور اردو میں ترجمہ کیا۔ یہ تین جلدوں پرمشتمل ہے۔ مآثر الامراءسلطنت مغلیہ کے عہد اکبری سےعہد عالمگیری تک کے مغل امراءکی سوانح اور ان سے متعلق مصدقہ تاریخی تصنیف ہے۔ یہ تاریخی مآخذ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نصاب کومرکزی اردو بورڈ لاہور نےجولائی ۰۷۹۱ءمیں شائع کیا۔ حسب ضرورت حواشی بھی لکھے گئے ہیں تین جلدیں کم و بیش تین ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔
وقائع نصیر خانی
مرزا نصیر الدین کی فارسی تصنیف کا ترجمہ ہے یہ بھی تاریخی مآخذ کا درجہ رکھتی ہے۔
فرحت الناظرین
محمد اسلم پسروری کی فارسی تصنیف سے جسے انھوں نے ۴۸۱۱ءمیں تحریر کیا۔ اس کے ایک حصے میں شاہ جہان اور اورنگزیب عالمگیر کے زمانے کے علمائ، صوفیاءاور اصحاب مشیخت کا تذکرہ ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری نے ۶۷۹۱ءمیں فرحت الناظرین(شخصیات)کے نام سے اُردو میں منتقل کیا۔
سیدالعارفین
سکندر لودھی کے دور کےایک اہم عالم حامد بن فضل اللہ جمالی کی فارسی تصنیف ہے۔ اس نصف علماءو مشائخ کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔ ۶۴۴صفحات پر مشتمل ہے اس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمدایوب قادی نے ۶۷۹۱ءمیں کیا۔
طبقات اکبری
خواجہ نظام الدین احمد کی فارسی تالیف ہے۔ یہ تین جلدوں پر مشتمل ہے یہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو ۸۷۸۱ءصفحات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری نے اس کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ جس کا پہلا ایڈیشن۰۹۹۱ءمیں اردو سائنس بورڈ لاہور نے شائع کیا۔ مؤلف نے اس کا نام”طبقات اکبر شاہی“ رکھا ہے۔ اس کی تین جلدوں میں سے پہلی میں”از عہد غزنوی تا دور ابراہیم لودھی“ دوسری جلد میں ”از ماہر بادشاہ تا اڑتیسویں سال جلوس اکبری مع حالات اُمراءوعلماءو مشائخ و حکماءو شعرائ“ جبکہ تیسری جلد میں ”علاقائی سلطنتوں“ کے حالات شامل ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ طبقات اکبری کی تالیف کے بعد جس مورخ نے بھی ہندوستان کی تاریخ لکھی ۔اس نے طبقات اکبری سے بھرپور استفادہ کیا۔ ڈاکٹر قادری نے ۵۳ صفحات پر مقدمہ تحریر کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کی ترجمہ نگاری فارسی کے متن کے عین مطابق ہے اور ترجمہ نگاری کے اُصولوں پر پورا اُترتی ہے۔ انھوں نے ترجمہ نگاری میں اصول پرستی کی میزان تھامے کھوٹے اور کھرے کی پہچان بھی جاری رکھی۔ یہی ایک سچے اور ترجمہ نگار کی شناخت ہے۔ یہ تراجم تاریخ نویسی کے حوالے سے اردو تاریخ و تحقیق میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ مولانا غلام رسول مہر کے مطابق محمد ایوب قادری کو قدرت نے علمی نوادر کی کاوش و جستجو کا پاکیزہ ذوق عطا کیا ہے اور وہ قیمتی چیزیں فراہم کر کے اُنھیں حسن و ترتیب سے پیش کرنے کا خاص سلیقہ رکھتے ہیں۔
حضرت غالب کے خطوط میں اپنی محدود وسعت کے باوجود ادب کے شاہکار قرار دیئے گئے ہیں اس لیے مذکورہ خطوط میں تاریخ نگاری کا جوہر نمایاں ہے۔ جس لوح سے حالی کے اسلوب بیان میں سادگی، منطقیت اور بے تکلفانہ اظہار ملتا ہے اور شبلی کے اظہار میں ایمائیت، ایجاز اور اجمال کے ساتھ ساتھ شدید جذباتی انداز نظر آتا ہے ۔یہ ایں حالی کی سوانح عمریوں میں ادبی تحریک زیادہ کار فرما ہے۔ اگر ہم اس تناظر میں ڈاکٹر محمد ایوب قادری کے تاریخ نویسی کے رجحانات کا جائزہ لیں تو آپ ایک صاف، شفاف، بے باک مورخ نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جذباتی پن، تصنع یا نام و نمود یا کسی ادبی گروہ بندی نہیں ملتی جو بات لکھی ہے صاف اور مدلل انداز میں لکھی ہے۔ مفروضوں یا روایتوں کا سہارا نہیں لیا۔ آپ کا اسلوب اردو ادب کے اُفق پر ایک حکیمانہ انداز معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ایوب قادری کی تاریخی نویسی میں شامل ذیل کی کتب ہیں
تواریخ عجیب المعروف بہ کالا پانی
یہ مولوی محمد جعفر تھانیسری کی تصنیف ہے جس کے مرتب ڈاکٹر ایوب قادری ہیں جنھوں نے اس پر حواشی اور وقیع مقدمہ لکھا ہے نیز ۹۲ حضرات کا اضافہ کیا ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد جعفر تھانیسری کی خود نوشت سوانح عمری کی حیثیت رکھتی ہے۔ قادری صاحب نے کالا پانی کے کئی نسخوں کو سامنے رکھ کر متن کی تصحیح کی اور مبسوط مقومہ لکھ کر کتاب کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔
جنگ آزادی ۷۵۸۱(واقعات و شخصیات)
یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔جنگ آزادی کے گمنام مجاہدین اور ان کے مخفی کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔کتاب مذکورہ میں ایسی ایسی شخصیات اور واقعات کے متعلق ٹھوس معلومات فراہم کی گئی ہیں جن کا جنگ آزادی میں اہم کردار اور ناقابل فراموش خدمات اور کارنامے دنیاہے ابھی تک صیغہ راز میں تھیں۔ ۱۶ اشخاص کا حواشی میں ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کا تعارف مولانا غلام رسول مہر نے لکھا ہے جبکہ مقدمہ ڈاکٹر محمود حسین وائس چانسلر کرام یونیورسٹی کا تحریر کردہ ہے۔ اس کتاب کو پاک اکیڈمی وحید آباد کراچی نے جون ۶۷۹۱ ءمیں پہلی بار شائع کیا۔
مولانا فیض احمد بدایونی
ڈاکٹر ایوب قادری کی تحقیق کے موضوع پر شائع ہونے والی تاریخ نویسی کی یہ پہلی کتاب ہے۔ پاک اکیڈمی کراچی نے ۷۵۹۱ءمیں شائع کیا۔ اس کتاب میں آپ نے جنگ آزادی کے مجاہد مولانا فیض احمد بدایونی کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے اور مخفی گوشوں سے پردہ اُٹھایا ہے۔ آپ کی اس تصنیف سے آپ کے علمی ذوق، جذبہ تجسس اور تحقیقی مزاج کا پتہ چلتا ہے۔
مخدوم جہانیاں جہاں گشت
اس تصنیف کے لیے پاک و ہند کے مختلف شہروں کا سفر تھا۔ بعض جگہ حوصلہ شکن حالات پیش آنے کے باوجود ہمت نہیں ہارے نتیجتاً ڈاکٹر صاحب نے مخدوم صاحب کو مافوق الفطرت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عالم باعمل اور جلیل القدر اولیا کی صف میں پیش کیا ہے اور عقائد کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
مولانا محمد احسن نانوتوی
یہ کتاب شعبہ تحقیق کے حوالے سے نہایت اہم درجہ رکھتی ہے۔ اس میں مولانا محمد احسن نانوتوی کے ساتھ ساتھ نانوتے کے متعدد مشاہیر علما اور اہلِ قلم کے حالات و کوائف یکجا کر دیے گئے ہیں۔
تبلیغی جماعت کا تاریخی جائزہ
مذہبی نکتہ نگاہ سے یہ کتاب بے حد درجہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں تبلیغی جماعت کا تاریخی پس منظر، میوات میں اسلام کے داخلے کا ذکر، مسلم حکومت کے استحکام، میوات میں دینی انحطاط، میوات میں علما کی تبلیغی کوششیں، عیسائی اور آریہ سماج کی تحاریک، مولوی محمد اسمٰعیل کاندھلوی کے میوات سے نانوتے، مولانا محمد الیاس اور تحریکِ دعوت تبلیغ اور مولانا محمد یوسف اور تحریک کی وسعت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تبلیغی جماعت کے کاموں کی تفصیل پر موثر انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
۷۔ غالب اور عصرِ غالب
یہ کتاب حضرت غالب سے متعلق نو تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جو کہ غالبیات پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک قابلِ مطالعہ و قابلِ دادو تحسین اضافہ ہے۔ ا ن مضامین میں سے نہ صرف یہ کہ غالبیات بلکہ کلاسیکی ادب کی تاریخ و تہذیب کے چند نئے باب وا ہوتے ہیں۔
کاروانِ رفتہ
پیدائش اور وقیات بھی تاریخ نویسی کا ہی حصہ ہیں۔کاروانِ رفتہ کا تعلق ڈاکٹر قادری کے ذاتی ذوق و تجسس اور اسلاف سے محبت کا جینا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کتاب میں مورخ نے ۶۲ شخصی اور سوانحی خاکوں کی صورت میں مشاہیر کے حالات و خدمات رقم کیے ہیں۔ تمام کی تمام تحاریر مرحومین سے متعلق ہیں۔ ان میں مذہبی، علمی وادبی شخصیات شامل ہیں۔ فراہم کردہ معلومات آپ کے مزاح کے مطابق سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
اُردو نثر کے ارتقاءمیں علماءکا قصہ(شمالی ہند ۷۵۸۱ءتک)
یہ ضخیم اور تحقیقی مقالہ آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میںصراحت و تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ۷۵۸۱ءسے پہلے شمالی ہند میں کن کن علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے کون کون سے کتابیں اُردو نثر میں لکھیں۔ کس موضوع پر لکھیں کس کی تحریک و تجویز سے لکھیں اور کس جذبہ و عاطفہ کے تحت لکھیں نیز کن کن کتابوں کا کن بزرگوں نے کس زبان سے اردو میں ترجمہ کیا اور اس ترجمے کے کیا محرکات و و جوہ تھے۔ یہ کتاب ڈاکٹر محمد ایوب قادری کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جسے ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی زیر نگرانی پایہ تکمیل کو پہنچایا اور ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ بلاشبہ یہ تحقیق اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو ادب میں سند کا درجہ رکھتی ہے۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری کے گرانقدر تراجم و تاریخ نویسی پرمشاہیر کی رائے
ڈاکٹر ابوالیث صدیقی
آپ کی علمی خدمات کا اعتراف کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ شاگرد کواُستاد اپنے ہی ہاتھوں سےمسند پر بٹھاتے ہیں۔ تاریخ بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ، اس کے علماءصوفیائ، بزرگانِ دین کی سیرت وسوانح ان کا خاص موضوع تھا اور بے شک کم لوگوں کو اسماءالرجال پر اتنی قدرت ہو گی جتنی مرحوم کو تھی اور خودمیں نے ان کے بعض حوالوں سے استفادہ کیا ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی
ایوب قادری جیسا محقق روز روز پیدا نہیں ہوتا اب تنا ریاض اور محنت کون کرے گا،زندگی کی آسائشوں کو چھوڑ کر بارگاہِ علم وادب میں کون معتکف رہے گا۔
مشفق خواجہ
قادری صاحب گزشتہ ربع صدی سے علم و ادب کی خدمت کررہے ہیں ان کی علمی لگن کو دیکھ کر وہ علمائے سلف یاد آتے ہیں جنھوں نے ہر طرح کی آسائشوں سے بے نیاز ہو کر خدمت علم ہی کو اپنا اصلی کام سمجھا۔
تذکرہ نگاری تاریخ نگاری ترجمہ نگاری ایک دوسرے کے ساتھ ہم سفر رہتی ہیں۔ قادری صاحب کا کام اتنا اہم ہے کہ ان کو معاصرین و متاخرین میں ایک اہم مقام پر دیکھتے ہیں۔ آپ کے خاص موضوعات تاریخ، سوانح، تراجم، ادب وفن اسماءالرجال اور حوالہ جاتی ادب تھا۔ ڈاکٹر ایوب قادری متاخرین و معاصرین کے حالاتِ زندگی اور محاسن گنواتے گنواتے ۵۲ نومبر ۳۸۹۱ کوایک حادثے کی معرفت خود بھی کاروان رفتہ میں شامل ہو گئے۔




































