
رانا خالد محمود قیصر
ایک اخباری اورڈیجیٹل میڈیا کی خبرکے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے روس اور یوکرین جنگ میں مداخلت سےپرہیزکیا ہے
اور کہا ہے کہ روس کیخلاف جنگ نہیں لڑیں گے۔ اس سےتیسری جنگ عظیم کا خطرہ ہے گویا روس اب بغیر کسی خوف وخطر کے یوکرین کےخلاف جنگ جاری رکھ سکے گا۔ امریکہ نے روس سے اپنے خصوصی تجارتی تعلقات ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے ماسکو کو یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے تو روس کو اُس کی سخت قیمت چکانا ہوگی۔ ایک جانب امریکی صدر کا موقف ہے کہ وہ روس کےخلاف نہیں لڑیں گے دوسری جانب سخت قیمت کی دھمکی گویا امریکہ کا نیٹو ممالک کےساتھ یک جہتی کا دعوی ہے۔
جنگ کی صورتحال یہ ہے کہ روسی صدر نےجنگجوؤں کو لڑنے کی اجازت دےدی ہے، ان جنگجوؤں کا تعلق مشرق وسطی سے بتایا گیا ہے، روسی فوج ابھی تک یوکرین کے دارالخلافہ کیف کو فتح نہیں کرسکی اور روسی فوج کی پیش قدمی ہنوز جاری ہے۔ یورپی یونین اور جی سیون ممالک نے ملکر فیصلہ کیا ہے کہ روس پر معاشی پابندیاں بڑھائی جائیں، سو سب نے ملکر روس سے خصوصی وعمومی تجارتی تعلقات فی الفور ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح سے یہ اتحادی روس کو دنیا میں معاشی طور پر تنہا کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ روسی معیشت زبوں حالی کا شکار ہو جائے۔ اس طرح امریکہ اور اُس کے اتحادی روس کےساتھ تجارتی شراکت کو توڑ کر اُسے عالمی منڈی میں تنہا کر دیں گے۔ یاد رہےروس نے ابھی تک یورپی یونین کو تیل وگیس کی فراہمی پر پابندی نہیں لگائی۔ اس بارے میں روس کی حکمت عملی کیا ہوگی اس کا عالمی سطح پر انتظار ہورہا ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت 135یوایس ڈالر پر جاپہنچی ہے کورونا کے بعد دنیا کیلئے پیٹرول وائرس نہایت تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس سے ایک زبردست اور مہلک مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہے جسے مہنگائی کی سونامی بھی کہا جارہا ہے۔
عالمی معیشت کے فیصلے بعض اوقات الہام کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں، مثال کے طور پر امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور جی سیون کے ممالک نے روس سے تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے اور یہ فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ اگر روس یورپ کو گیس کی فراہمی بند کر دے تو ایک نیا بحران شروع ہوسکتا ہے جس سے نمٹنے کیلئے یورپی یونین کے پاس کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آرہا۔
یہ معاشی پابندیاں ایک جانب روسی معیشت کی کمر توڑدینےمیں ایک وار ثابت ہوگا تو دوسری جانب اس کے دو رُخ ہوں گے ایک یورپی کونین کو تیل کی فراہمی میں خلل اور دوسرا رُخ یورپی یونین اور برطانیہ کے عوام کو تیل کے حصول میں مشکلات اور اسی دوسرے رُخ کی منفی تصویر عوام پر مہنگائی کا بم جو ہر ایک کے روزمرہ کے بجٹ پر زبردست برا اثر ڈالے گا۔
دنیا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے الیکٹرک کار اور بیٹری پر چلنے والی ہائی برڈ کاروں کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے دنیا کے کئی ممالک میں سائیکل سواری کو فروغ مل رہا ہے، اس سے ایندھن کے استعمال میں کمی فضائی آلودگی میں کمی اور مہنگائی کے عفریت سے نجات میں مدد مل رہی ہے۔ امریکہ کے واضح اعلان کے بعد یوکرین کی مدد کو امریکہ یورپی یونین یا نیٹو وغیرہ نہیں آئیں گے البتہ انہوں نے روسی معیشت پر یہ قدغن لگائی ہے کہ روس پر اقتصادی، معاشی، کھیلوں اور ثقافتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ نے روس کے بڑے بنکوں کے تمام اثاثے اور کاروباری فنڈز بشمول اسٹاک فنڈز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اس سے دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اس معاشی بحران کےساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ روس اور یوکرین عالمی سطح پرگندم کی چالیس فیصد پیداوار کا مالک ہے اگر یہ جنگ جاری رہتی ہے اور گندم اقتصادی پالیسیوں کا شکار ہوجاتی ہے تو دنیا کو تیل کےساتھ ساتھ گندم کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے عالمی طور پر غذائی قلت کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس سے زیادہ متاثر وہ ممالک ہوں گے جن کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ نہیں ہوگا یعنی ترقی پذیر اور غریب ممالک یا وہ ممالک بھی جوبہت کم گندم پیدا کرتے ہیں اور ان کی غذائی ضرورت کا دار ومدار صرف اور صرف درآمدی گندم پر ہے۔
صدربائیڈن نے بڑی دور کی سوچھی ہے کیونکہ اگر امریکہ یوکرین کی مدد کیلئےامریکی افواج یانیٹو کی اتحادی افواج کو بھیجتا ہے تو یہ جنگ افغانستان اور عراق کے طور پر لمبی جنگ ہوسکتی ہے اور ہو نہ ہو یہی عمل تیسری جنگ عظیم کا باعث نہ بن جائے، امریکہ یہ سنگین جنگی الزام اپنے اوپر لینے سےہچکچا رہا ہےمگر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جنگی نہ سہی معاشی محاذ پر اس وقت روس دنیا میں سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا ملک بن گیا ہے اور روس اپنے اتحادیوں کےساتھ ان پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
جنگ کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق روسی افواج نے یوکرین کے شہروں لونسک اور ایوانو فرانکیوسک کو نشانہ بنایا ہے جبکہ روسی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ دبنیرو پر حملہ کیا گیا ہے گویا جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ تازہ ترین روسی دعوی کے مطابق روسی افواج کیف کی جانب مزید پانچ کلو میٹر قریب پہنچ گئی ہے۔ سنا ہے کہ روسی فوجی قافلہ چالیس میل طویل ہے۔ ظاہر یوں ہورہا ہے کہ روس یوکرین کو فتح کرنے کے عزم سے آگے بڑھ رہا ہے اور روس نے یوکرین کی اہم تنصیبات اور اہم حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
جی پی ایس کی اطلاع کے مطابق روسی بمباری سے کیف کے شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے,جبکہ پولینڈ میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل ہوچکے ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق روسی افواج یوکرین کے کئی شہروں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ مزاحمت کو روکا جاسکے۔ ایک اور اخباری اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مطابق یوکرین میں فوجی کارروائیاں اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک ماسکو کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔
روس کے مطابق یوکرین کی جانب سے آنےوالے مسلسل خطرات کی وجہ سے روس اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ یوکرین میں نازی نظرئےے کے تحت جاری قتل عام کو روکنا ہے۔
موجودہ جنگ کی صورتحال سے یہ بات واضح نظر آرہی ہے کہ روس یوکرین کی جمہوری حکومت کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہی دم لے گا اور یوکرین کو اپنے زیردست حکومت رکھے گا تاکہ یورپی یونین اور نیٹو کے خطرات کو روس سے مزید دور دھکیلا جائے گویا یہاں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جائے گی جو مکمل طور پر روسی پالیسیوں کے تحت ہوگی۔
یوکرینی صدر اب پسپائی اختیار کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور روس کے دونوں اہم مطالبات ماننے پر آمادگی ظاہرکرتے ہوئے مذاکرات کو جاری رکھنے کو مسائل کا حل قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحاد متنازعہ چیزوں اور روس کےساتھ تصادم سے خوفزدہ ہے ادھر روسی صدر جو ایک مردآہن کے روپ میں دنیا کے سامنے کھڑے ہیں کا موقف ہے کہ اگر یوکرین اس کے مطالبات مان لے تو جنگ ایک لمحے میں ختم ہوسکتی ہے اور دنیا ابھی تک کسی خاص فیصلے کی منتظر ہے۔




































