
رانا خالد محمود قیصر
آج کل کے دور میں کوئی کبھی واقعہ وقوع پذیر ہونے سے پہلےہی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ سرگوشیاں سوشل میڈیا سے فروغ پاتی ہیں، سوشل میڈیا کے توسط سے
کوئی بھی افواہ یا کوئی بھی واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اگر واقعہ سچ ثابت ہو تو وی لاگر کا اعتبار بڑھ جاتا ہے ورنہ قیاس آرائی پر مبنی کہہ کر مٹی ڈال دی جاتی ہے، مگر اب شاید ایسا کرنا ناممکن ہوجائیگا کیونکہ حالیہ اصلاحات میں اس بات پر پابندی عائد ہورہی ہے کہ کوئی بھی خبر بلاتصدیق، بلاجواز اور بلا ثبوت نہ صرف سوشل میڈیا پر ممنوع ہوگی بلکہ اس کا اطلاق وی لاگرز پر بھی ہوگا اور یہ امر قابل گرفت اور واجب سزا قرار دیاگیا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو صحافت نام ہے کسی بھی خبر، واقعے یا اطلاع کو تحقیق اور تصدیق کے بعد صوتی، بصری یا تحریری شکل میں عوام تک پہنچانا۔ اس طرح صحافی حقیقت سے عوام کو باخبر رکھنا ہی بڑا کام ہے، دنیا کا پہلا اخبار 1605 میں شائع ہوا، سب سے پہلا انگریزی اخبار 1702 میں جاری ہوا اور یہ 1735 تک جاری رہا۔
ڈاکٹر محمد شاہد حسین (دہلی) لکھتے ہیں کہ ''صحافت خبر ہے، اطلاع ہے، جانکاری ہے۔ صحافت عوام کیلئے، عوام کے بارے میں تخلیق کیا گیا مواد ہے، دن بھر کے واقعات کو تحریر میں نکھار کر، آواز میں سجا کر اور تصویروں میں سمو کر انسان کی اس خواہش کی تکمیل کرتی ہے جس کے تحت وہ ہر نئی بات جاننے کیلئے بے چین رہتا ہے''۔ ثابت ہوا کہ صحافت اور سچائی لازم وملزوم ہیں۔ فی زمانہ صحافت کی اقسام میں ٹی وی اور ریڈیو جرنلزم، براڈکاسٹ جرنلزم، پرنٹ جنرلزم اور آن لائن جرنلزم، سائبر صحافت یا آن لائن صحافت جبکہ عصر رواں میں ڈیجیٹل صحافت سب سے جدید صحافت ہے۔ صحافی اور صحافت معاشرے کا عکاس اور معاشرے کی زبان کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ وہ خبر کو بغیر کسی تصدیق کے عوام تک نہیں پہنچاتا۔ ایک تخلیق کار یا صحافی جب کوئی فیچر یا رپورٹ لکھتا ہے وہ اپنے معاشرے کے مسائل کو زیربحث لاتا ہے، اپنی اس بحث میں اس کا مداوا، علاج اور حل بھی پیش کرتا ہے۔ اس پرخطر سفر میں بعض اوقات جب وہ کسی مافیا کیخلاف قلم اُٹھاتا ہے تو خود صحافی کی جان بھی خطرے میں ہوتی ہے۔ صحافت کا معیار اور اہمیت ہر ایک معاشرے کی ضرورت ہے، بس ضرورت اس امرکی ہےکہ اُسے معیار کی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے۔
صحافت کو علامتی اور استعاراتی طور پر ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔اگر صحافت صحیح معلومات بہم نہ پہنچا پائے گی تو ریاست کے باقی تینوں دستوری ستون باہمی روابط کھو بیٹھیں گے، اس طرح یہ ایک ادارہ بدگمانی کی فضا میں گردآلود ہی رہے گا۔ اس عوام اور حکومت کا باہمی رابطہ بھی منقطع ہوسکتا ہے جس سے بدگمانی مزید بڑھ سکتی ہے، حکومتی اہلکاروں کو عوام کے مسائل اور حکومت کے ارشادات عوام تک صحیح طور پر نہیں پہنچ پائیں گے۔
عصر جدید میں صحافت اور مؤثر قوت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی ہے،جدید سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور میں کوئی بھی صحافی کسی دفتر میں چلاجائے تو ایک لمحے کو سکوت طاری ہوجاتا ہے کیونکہ سرکاری اہلکاروں کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سی بات کی بھی خبر بن گئی تو ان کی خیر نہیں۔ اب یہ فرض سوشل میڈیا کا ہے کہ وہ مادرپدر آزادی اختیار نہ کرے کیونکہ اکثر یہی فری لانسر صحافی قیامت ڈھانے کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حرمت قلم کا پاس ہر حالت میں رکھیں۔ انسٹا گرام، فیس بک، ایکس پر باہمی تعاون والی جزئیات سے مکمل پرہیز کریں۔ بے جا اور فضول باتیں لکھ کر اذہان کو خراب کرنا وقت کا ضیاع بھی ہے اور عاقبت کی خرابی بھی۔ صحافی برادران جو بھی خبر بریک کریں اس میں بنی نوع انسان کی بھلائی اور من حیثیت القوم، قوم اور انسانیت کی بہتری اور معلومات بہم فراہم کرنے کی سعی میں مصروف رہیں۔
صحافی گوکہ کوئی شاعرہ، نقاد یا ادیب کے زمرے میں نہیں آتا مگر صحافت اور ادب دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے یا یوں کہہ لیجئےکہ ادب اور صحافت لازم وملزوم ہیں۔ عصر رواں میں ادب اور صحافت کی تعریف ختم ہوتی جارہی ہے۔ اُردو ادب میں بے شمار شاعر ونثرنگار ایسے ملیں گے جو صحافی بھی ہیں اور ادیب بھی۔ اب یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ادیب اور صحافی، صحافت اور ادب کے میدان میں مل جل کر کارہائے منصبی انجام دے رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو حکومتی ستون قرار دیا جاتا تھا مگراب اقدار بدل گئے ہیں۔ اب ریاست کا چوتھا ستون میڈیا یا صحافت ہے۔ اب یہ چاروں ستون ریاست کا بوجھ اُٹھائے کھڑے ہیں، یہ درست ہے کہ ریاست کے کسی بھی ستون میں کوئی کمزوری آجائے تو عمارت لرز اُٹھتی ہے۔ تو ضروری ہے کہ ہر ایک ستون کو مضبوط ومنظم کیا جائے اور باہمی تصادم سے بچ کر احترام کا رشتہ قائم کیا جائے۔ یاد رہے کہ اگر ریاست کے یہ چاروں ستون کسی کمزوری کا شکار ہو جائیں اور اس کا مداوا نہ ہوسکے تو ریاست کا وجود خطرات سے دوچار رہتا ہے۔ خدا کرے کہ مملکت خداداد پاکستان کے چاروں ستون مضبوط اور منظم ہوں۔




































