
رانا خالد محمود قیصر
پاکستان کے ارباب اقتدار آج کل عظیم دوست چین کے دورے پر ہیں۔ مزید تیس معاہدوں پردستخط ہوئے ہیں، یوں ایک بیانیہ سامنے آرہا ہے جسے سی پیک کا دوسرا مرحلہ قرار
دیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے پر جانے سے قبل سی پیک کے پہلے مرحلے کے ثمرات ہمارے سامنے ہیں۔
سی پیک کی پیش رفت میں سیکورٹی معاملات سب سے اہم ہیں، تمام منصوبوں پر جاری کام جہاں غیر ممالک سے آئے ہوئے ماہرین سرانجام دے رہے ہیں، وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کتنے ہی واقعات پیش آچکے ہیں جس میں چینی ماہرین کی اموات بھی ہوچکی ہیں۔ ایک ملکی جامعہ میں اساتذہ پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں تین یا چار اساتذہ اپنی جان سے گئے۔ یہ تمام واقعات سی پیک کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ غیر ملکی ماہرین کی بے چینی اور عدم تحفظ کی فضا میں سی پیک کی رفتار اپنی مقرہ رفتار سے کم رہی ہے۔ دوسرا اہم اثر انداز ہونیوالا پہلو یہ ہے کہ وہ کم پیداوار دینے والی زمین اگر سی پیک روٹ پر آرہی ہیں تو زمین مالکان نہایت عدم تحفظ کا شکار ہیں، ان کا موقف یہ ہے کہ مغربی روٹ جہاں سے گزر رہا ہے وہاں زمین کی قیمت کوڑیوں میں ہے۔ دیکھا جائے تو زمینوں کی قیمت کا معاملہ باہمی گفت وشنید سے حل ہو سکتا ہے۔
سی پیک کے آغاز میں ہی اسے خاص طور پر پاکستان کیلئے گیم چینجر کا درجہ دیا گیا تھا اور آثار یہ بتا رہے تھے کہ سی پیک کی مددسے ملکی معاشی صورتحال بہتر ہوگی روزگار میں اضافہ ہوگا۔ اضافہ ہوا تو ہے مگر عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہ عدم تحفظ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ باربر (حجام) بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں سی پیک کے پہلے مرحلے سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں۔ ابتداء ہی میں وسیع تر بیلٹ اینڈ روڈ کی مدد سے یہ توقع تھی کہ مزدور طبقہ کو روزگار ملے گا اور ملک کے وسیع وعریض قصبات اور شہروں سے لوگوں کو سی پیک کے ذریعے روزگار میسر آئیگا۔ مگر یہ بھی عدم تحفظ کے زیر اثر ہی رہی۔
اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سی پیک کے پہلےمرحلے میں پاکستان کی توانائی کی استعداد بڑھی ہے جس سے گوادر تک روڈ کی تکمیل سے تجارت کے بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کا جال وسیع تر ہوتا جارہا ہے جس سے تجارتی سامان کے نقل وحمل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ان کے سو فیصد ثمرات سیکورٹی معاملات کی وجہ سے حاصل نہیں کئے جاسکے۔
اب مرحلہ درپیش سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ہے۔ کیا ہم اس سے بھرپوراندازمیں مستفید ہوسکیں گے؟ کیا سیکورٹی معاملات میں بہتری آئے گی؟ کیا زمینی حقائق کو فوقیت دی جائے گی؟
ایک رپورٹ کے مطابق سی پیک کا دوسرا مرحلہ 2020 میں شروع ہو کر 2025 میں اختتام ہونا تھا مگر اس کا حقیقی آغاز تو اب ہو رہا ہے۔ ان پانچ سالوں میں سی پیک کے نو (9) اقتصادی اور صنعتی زون کا قیام تھا۔ یہ مقامی زون ابھی تک تکمیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ یہ مکمل ہوں گے تو چینی سرمایہ کاری ان زونوں میں نظر آئے گی۔
یہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ ماضی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد آگے بڑھے گا۔ یہ امور طے کرنے کیلئے پاکستان کی سیاسی وعسکری وفود چین کے دورے پر ہیں۔ اس دورے میں پاکستان کی صنعت کے بنیادی ڈھانچے، شاہراہوں کا جال، بندرگاہ، ریلوے کا نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی شنید ہے کہ ہوائی آمد ورفت کو بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ریلوے اور شاہراہوں کے نظام میں اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین جو مفاہتی یاداشتوں (ایم او یو) پر دستخط ہوئے ہیں اس سے پاکستان کے انفرااسٹرکچر اور اقتصادی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ ملک میں روزگار میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور پاکستان کے عسکری میرکارواں جنرل عاصم منیر کا خیال ہے کہ قرض کی بجائے کاروبار اور ملکی ترقی پر توجہ ہونی چاہئے۔ سیاسی وعسکری اکابرین کی اس توجہ سے پاکستان اور چین کے باہمی منصوبے سی پیک ٹو کا مرحلہ کامیاب وکامران ہوگا گوکہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے مگر اُمید ہے کہ اس میں کامیاب ہوں گے۔
اقتصادی ترقی ملکوں کی بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام تو ہو رہا ہےمگر اندرونی اور بیرونی خدشات وخطرات اس رفتار کو دھیما کر دیتے ہیں۔ ملکی حالات، سرحدوں کا تناؤ اور علاقائی سالمیت جیسے مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج کی ترقی دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اقتصادی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین ملک ہے۔
چین اور پاکستان کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی کیونکہ بغیر تحفظ کے کوئی بھی ماہر کسی جگہ پرجانے سے خوف میں مبتلا ہوگا۔ سیکورٹی معاملات پر قابو پانے کیلئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ زمین کے حقیقی مالکان کا تحفظ بھی ہو، ان کو روزگار بھی ملے اور ان کا معیار زندگی بھی بلند ہو۔ اُمید ہے کہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت چین سے ملکر باہمی مشاورت سے سی پیک ٹو سے بھرپور فائدہ اُٹھائے گی تاکہ ملکی معاشی، سیاسی اور سماجی حالت میں بہتری آسکے۔




































