
لطیف النساء
آج کل تمام ہی والدین کا یہ مشترکہ مسئلہ ہے۔ اکثر ماں باپ کو میں نے یہی کہتے سنا ہےکہ آج کل تو بچے بالکل ہی اکھڑمزاج ہوگئےہیں کسی
کی سنتےہی نہیں۔ میں نے اپنے بیٹے سے سوال کیا کہ یہ بچے اتنے ضدی اورچڑچڑے کیوں ہیں؟ اتنا غصہ کیوں دِکھا تے ہیں؟ماں باپ تو ماں باپ، وہ تو اساتذہ، دادی دادا یا نانی ،نا نا، پھوپی، چاچا تک کو لفٹ نہیں کرواتے ایسا کیوں ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ امی اب زمانہ بدل گیا ہے۔ بچے اب وہ بچے نہیں رہے، ہم آپ لوگوں کی سن لیتے تھے مان لیتے تھے۔ ادب سے ہم گھر میں ہر بڑے کی تلخ سے تلخ بات تک برداشت کر جاتے تھے ہمیں ڈر بھی ہوتا تھا مگر آج کل کے بچے کسی سے نہیں ڈرتے! میں نے کہا ہاں لحاظ ہی ختم ہو گیا ہے نا۔ دراصل یہ لحاظ ہم نے خود ہی ختم کروا دیا ہے ہم بات مان لیتے تھے۔ وہ تھوڑا بڑے ہوکر منوانے لگے ہم بھی سمجھے کہ اب بڑے ہو گئے ہیں چلو کرنے دو تو وہ آگے چلتے گئے دنیاوی اعتبار سے بڑی ترقی کرلی۔ جو ہم نے پندرہ سالوں میں نہ کمایا وہ پانچ سالوں میں کما گئے ہر چیز مل گئی۔
بچوں کو بھی اتنی چھوٹ دی گئی کہ پوچھ پوچھ کر کھانے پینے کو دیا گیا نہ صرف یہ بلکہ پہننے اوڑھنے کے لئے بھی ان کی چاہت کے مطابق دیا گیا۔ کھلونے سے لیکر موبائل فون بلکہ آج کل تو اسمارٹ اسکرین تک انہیں سونپ دی گئی بغیر تحقیق کہ اس پر وہ کیاکھیلتے ہیں؟ کیا دیکھتے ہیں؟ کیوں اردگرد سے لا تعلق ہیں؟ اور کیوں انہوں نے محض آپ کی وجہ سے ایک الگ دنیا بسالی ہے؟ جس میں رہنا چاہتے ہیں؟ کیا خوفِ خدا ختم ہو گیا ہے؟ جہاں ایک تصوراتی دنیا میں انہیں ہر کسی کوبس ہرانا ہے۔ ماں با پ بھی تھوڑی بہت تفریح چاہتے ہیں۔،خود ان کے ساتھ وقت گزارنے کہ بجائے دوستوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔
بلکہ بسا اوقات اپنے لئے بھی ایسی مصروفیات پیدا کرلیتے ہیں جن سے وقت تو گزر جاتا ہے مگر اسکا حاصل اتنا مؤثر نہیں ہوتا جس سے تہذیب میں رنگ آئے بلکہ الٹازنگ لگنے لگتا ہے۔ مثلاً حقوق اللہ کواتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتے جتنی دینی چاہئے۔ یہاں مراد صرف اور صرف نماز کا باجماعت ادا کرنا ہی مقصد نہیں دیگر اور کئی معاملات ہیں۔ نشت وبرخاست کے آداب، کھانے پینے آ داب، مرغوبات اور کھیل تماشے ان کی ضرورت اور اہمیت اپنی جگہ مگر اعتدال اور حکم الٰہی کے مطابق ورنہ وہ خرافات کی طرف سرکتے سرکتے بہک جاتے ہیں بلکہ بھٹک جاتے ہیں۔ بس پانچ منٹ کی دیر ہے،بس تھوڑی سی تفریح ہے کرتے کرتے کیا کچھ ہو جاتا ہے۔ بس ایک کلک پر دنیا بدل گئی۔ ماحول ہمیں کیا کچھ سکھا دیتا ہم نے
ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ آجکل تو میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہر بچہ جو اسکرین کا استعمال زیادہ کرتا ہے کچھ شر میلا سالگتا ہے اگر اچانک کوئی بڑاآکر اس کی اس مصروفیات میں شامل ہو جائے یا تو اسکرین بند کردے گا یا آپ کو ساتھ دیکھنا پسندنہیں کریگا۔یہ کچھ بڑے بچوں کی بات نہیں سات آٹھ سال تک کے بچوں کا حال ہے تو سوچیں ایسا کیوں؟ جب سے کرونا ہوا ہے بچے جو تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے ڈرائینگ اور سائنس کی تصاویر بنانے میں نقشے بنانے میں لکھائی کرنے میں اپنا مثبت رحجان رکھتے تھے اور بڑے چست تھے ،اسمارٹ تھے۔ آن لائن نے آکر اسکا اوربھی بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اب تو وہ لکھنے پڑھنے سے بھی گئے۔ اسکرین ہے اور وہ ہیں اگر چہ ان کی معلومات کی دنیا بہت وسیع ہو گئی ہے مگر ادب کی دنیا تا ریک ہوگئی ہے۔ وہ اسکرین کو ہی ماں باپ سمجھنے لگے ہیں وہی دوست، وہی مؤنس ،وہی رفیق ہے ہم نے تو پڑھا تھا کہ
کیجئے دوستی کتابوں سے لیجئے روشنی کتابوں سے " اور اب اسکرین"اگرچہ آن لائن بھی کتابوں سے ہی پڑھتے ہیں اور بہت کچھ پڑھتے ہیں دوسری کلاس کے بچے تک سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ دیگر ممالک میں بجلی کے بل، لیپ ٹاپ اور اسکرین ٹائم کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر ہمارے ملک میں بجلی کا مسئلہ، لیپ ٹاپ، موبائل فون کا مسئلہ، غربت اور گیس پانی کے مسائل اور دیگر ادبی، دینی، اخلاقی روایتی تنگی اور بدحالی کا شکار والدین خود پریشان، غیر منظم اور اسٹریس کا شکار بچوں کو اتنی بھر پور توجہ نہیں دے پاتے تو ان کے مسائل اور بڑھ جاتے ہیں۔ وہ تعلیم کے ساتھ سا تھ ٹیوشن پڑھا کر یا معمولی نوکریاں کر کے کام چلاتے ہیں۔ بچے والدین سے ہی سیکھتے ہیں جن گھروں میں دین کا شعور رکھنے والے افرادہوتے ہیں ان کے بچے پھر بھی کنٹرول میں ہوتے ہیں شکر گزاری سے رہتے ہیں اور محبت ادب وآداب کا لحاظ رکھتے ہیں۔
بچے کومعزز اور اچھاشہری اچھا مسلمان بننا ہی کامیابی سمجھتےہیں۔ والدین بھی کیونکہ صابر شاکرہوتے ہیں اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہیں اور اپنے مسائل کو اپنے وسائل تک ہی محدود رکھتے ہیں اور اپنے وسائل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسائل کو قابو میں رکھتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں۔ مگر جن کو مفت کی منہ کو لگ جائے ہر چیز بلا فرمائش اور کوشش کے سامنے آجائے تو وہ بے وقعت ہو جاتی ہے تو یہی حال آجکل کے ان بچوں کا ہے جو در اصل میڈیا کی دنیا سے مرغوب ہو کربہک جاتے ہیں۔ والدین کے بھی سر پر سوارہو کراپنی منواتے ہیں اور نہ ہونے پر عدم برداشت کا شکارہو کروہ کچھ کرجاتے ہیں جن کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ماں کوغلام اور باپ کو اے ٹی ایم مشین سمجھتے ہیں کسی کی نہیں سنتے بس بڑوں کو غلام سمجھ کر انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ جو سنا تھا کہ" کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے" وہ والی بات درست ہے۔ سب کچھ دو مگر اتنا سر پر نہ سوار کرو کہ سر پر چڑھ بیٹھیں اصلاح کی خاطر جہاں سختی جائز ہے اس حکمت سے کریں کہ بچے اسٹریس میں نہ آئیں مگرمہذب رہیں ورنہ وہی والی بات کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بہ نصیب اللہ نہ کرے کہ ہمارے بچے ایسے ہوں جو کہ ہمارا کل سرمایہ ہیں دنیا وآخرت ہیں وہ کسی دشوار ی
کا سامنا کریں بلکہ نہیں ہمیشہ مشقت میں رکھیں چاہے آپ کتنےہی آسودہ کیوں نہ ہوں؟ انھیں محنت کا،اسکی عظمت کا اور نعمتوں کی قدر دانی کا بھر پور احساس کروائیں اورہر کسی سے بھلائی اورخیر کا سبق دلوائیں۔ ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرنے کا درس اپنی ہی مثال سے سکھائیں۔ ان سے شائستہ اور نرم لہجے میں گفتگو کریں۔ اپنے کردار کو بلند رکھیں اور اعتدال کے دامن کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں لغویات ، فحش گفتگو اور ماحول سے مستقل پرہیز رکھیں، عزت چاہتے ہیں تو ان کی عزت بھی کریں۔ سیدھی سادی زندگی گزاریں اپنی حیثیت کے مطابق شکر گزاری کا احساس دلاتے ہوئے کھلائیں، پلائیں ،گھمائیں، پھرائیں اور نعمتوں کی قدردانی اور شکر گزاری کو فضل ربی قرار دیں تاکہ ان کے اندر "میں " پیدا نہ ہو اور وہ اتنے بے باک نہ ہوں کہ ہمیں خود سے ہی شرم آئے۔ خود کو بھی کنٹرول میں رکھیں تکبر کبھی نہ کریں کیونکہ یہ صرف اللہ کو زیب دیتا ہے جو خالق آپ کوسب کچھ دیکر نہال کر دیتا ہے ایک ذرا ساتکبر اسے واپس لیکر آپ کو بدحال اور بے جان کر سکتا ہے کسی کو یہ کہنا نہ پڑے کہ
تو کسی اور سے نہ ہارے گا
تجھ کو تیرا غرور مارے گا
والدین جب اپنے بچوں کی خا طر بڑی باتوں٫ برے رویوں اوربری کمائی اور اخراجات سے رکیں گے۔ خود معتدل اور مہذب با اخلاق ہونگے تو یقین جانئے اللہ ضرورہمیں اولاد کے فتنے سے بچائے گا اور ان کیلئے تہجد میں دعائیں کریں ہر لمحہ رب کی مدد چاہیں کہ یہ نیک صالح اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہم ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں تو انشا ء اللہ ہم کبھی نا کام نہ ہوں گے دنیا تو ہے ہی امتحان کی جگہ بیٹا " نعمت "ہے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائیگا اور بیٹی "رحمت "تو رحمت تو سجدے میں گرنے اور شکر گزاری کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی دین کم ہے کہ آپکو صاحب اولادبنایا تو پھر کیا مسئلہ؟ خود برداشت کیجئے اولاد کی عد م برداشتگی کاعنصر خود بخود جاتا رہے گا۔ شکر کریں وہ بیمار نہیں اپاہج نہیں۔ذہنی مریض نہیں تو پھر کتنا شکر کرنا چاہیے۔"کر بھلا ہو بھلا "انسان کو وہی کچھ ملے گاجس کیلئے وہ کوشش کرے گا۔ بسم اللہ پڑھ کر کام شروع کریں، رزق حلال کھلائیں،حلال کام کریں انشاء اللہ بچوں میں خود ہی سکون اور اطمینان آجائیگا اور والدین کو دنیا اور آخرت کا سکھ چین مل جائیگا۔ نیت صاف منزل آسان اپنی نظر آخرت پررکھیں دنیا سے زیادہ انکے دین اور آخرت کی فکر کریں۔زبردستی نہیں حکمت سے آگے بڑھیں۔ انہیں ہمیشہ خوش رکھیں مگر رب کی خوشی کے ساتھ تو انشاء اللہ سب خیر ہی خیر ہے۔ اس دعا کے ساتھ کہ :
یہ میری دعا ہے یہ دل کی صدا ہے
تیری زندگی میں کبھی غم نہ آئے
کیونکہ آج کے بچے کل کے والدین ہیں ہمارا سکھ چین ہیں۔





































