
لطیف النساء
ہم خود والدین ہیں مگر ہمیں اپنی ہی غلطیاں سدھارنے کی کم توفیق ہوتی ہے۔ آخر ہمارے والدین نے بھی ہم پر بہت بھی زیادہ توجہ دے کر پالا ہوتا
ہے مگر وقت اور دیگر مشغولیات کے باعث ہم بہت سے اہم کرنے کے کام بھول جاتے ہیں یا کرتے بھی ہیں تو شعوری طور پر نہیں۔ میں سمجھتی ہوں ہمیں ہر وقت کیلئے ایک کام اور ہر کام کیلئے ایک وقت ضرور متعین کرنا چاہئے اور نیکی کی تلاش میں رہنا چاہئے چاہے اسکا محرک کوئی بھی ہو! دوست کے ایک میسج نے میری آنکھیں کھول دیں اور شکر ادا کیا کہ اب بھی وقت ہے خود سنبھلنے اور دوسروں کو شعوری طور پر مسلمان بنانے کی کوشش کا۔
ہمارے پیارے نبی ؐ"معلم الاخلاق" تھے اور ہیں توپھر ہمیں بھی ہر وقت با ادب ہی ہونا چاہئے نا؟ اس نے ایک معمولی واقعہ بھیجا کہ ایک صاحب جہاز میں سفر کر رہے تھے اُن کی دو برابر والی سیٹوں پر ایک تین سالہ بچی اور اسکی ماں بیٹھی تھی۔ سفر لمبا تھا جب کھانا آیا تو ان صاحب نے کھانا کھانا پسند نہ کیا مگر فرانسیسی محترمہ نے کھانالے لیا اور اپنی بچی کو کھانا کھلانے لگی۔ میں اگر چہ کتاب پڑھ رہا تھا مگر برابر والی سیٹ پر بیٹھی ماں بیٹی کی حرکات پر بھی توجہ تھی۔ اب اس طرح محترم فرماتےہیں کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ کسی طرح وہ فرانسیسی لڑکی اپنی بیٹی کو کھانا کھلا رہی تھی اور خود بھی کھا رہی تھی۔
اس نے اپنی بچی کے منہ میں چاولوں کا ایک لقمہ ڈالا جب بچی نے کھا لیا تو کہنے لگی Say Thank you چنا نچہ اس بچی نے کہا Thank you پھر دوسرا لقمہ دیا اورThank you کہلوایا۔ ہرلقمہ ڈالنے کے بعد ماں نےبچی سے Thank you یعنی 36بار شکریہ کہلوایا۔ اس طرح شکریہ کی عادت واقعی اسی کی گھٹی میں پڑ گئی۔ اب ساری عمر وہ شکریہ ادا کرنے والی بن جائے گی۔ یہ تو خالصتاً مسلمانوں کا طریقہ ہے، مگر میں نے ہم نے بھلا دیا اور غیروں نے اپنا لیا۔ اگر چہ بچپن میں اور ابھی بھی اکثر والدین چھوٹے بچوں کو بسم اللہ کہہ کر کھانا کھلاتے ہیں اور کھانے کے بعد الحمد اللہ بھی کہلواتے ہیں۔ بعض تو دعا بھی پڑھواتے ہیں مگر جیسے ہی بچے ذرا بڑے ہوتے ہیں چھوڑ ڈالتے ہیں کیونکہ خود نہیں بلند آواز میں پڑھتے۔
سچی بات یہ ہے کہ خود ہی بھول جاتے ہیں تو بچے تو پھر بچے ہیں سب کچھ سیکھنے کے بعد بھی بے عمل رہتے ہیں اسی طرح آپ جائزہ لیں کیسے ہمارے بچے بنا کہے سلام تک نہیں کرتے ہیں۔ بسا اوقات تو اگر دوسرا بندہ سلام کرے تو جواب تک نہیں دیتے کچھ لینے پر جزاک اللہ نہیں کہتے جو شکریہ سے بھی بڑھ کر ہے ہم خود اکثر نہیں کہتے مگر جزاک اللہ اس موبائل فون کا کہ اکثر و بیشتر پیغامات ایسے ہی مل جاتے ہیں، جن سے بھلایا سبق یاد آنے لگتا ہے اور غلطی کا احساس بھی ہوتا ہے اگر اس ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کیا جائے تو یقین جانئے جو آپ کا دل چاہے گا وہی آپ کو ملے گا اب یہ تو آپ کی نیت اور دل پر ہےکہ آپ اپنی قیمتی زندگی کے قیمتی لمحات کو کیسے گزارتے ہیں اور کیا سیکھتے ہیں۔
ظاہر ہے ماں باپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالیں،خود سلام کرکے، شکریہ ادا کرنے کی عادت ڈا لیں۔ جب ہم ہی نے بچے میں یہ عادات بچپن سے ہی نہ ڈالی تو آپ انکے لئے کچھ بھی کر لیں، یہ بچہ نہ باپ کا شکریہ اد کرتا ہے اور نہ ماں اور نہ کسی اور کا۔ مثلاً بہن بھائی دوست احباب اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ ذرا سا غصہ آیا تو یہ رسم، رسم کیایہ تو حسن اخلاق ہے کہ سلام کرنا، جواب دینا شکر یہ کہنا،جزاک اللہ کہنا ہم اتنے اکڑجاتے ہیں کہ ہم اگلے کو نہ سلام کرتے ہیں نہ جواب دیتے ہیں۔نہ ہاتھ ملاتے گلے لگاتے ہیں بلکہ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں، یاد رکھیں جو بندہ اپنے رب کا شکر گزار نہ ہو وہ تو بندوں کا شکر گزار کبھی نہ ہوگا۔ یعنی صاف نا شکرے بن جاناکتنی بڑی برائی ہے اللہ ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنائے رکھے آمین۔ ظاہر ہے یہ غلطی کس کی تھی؟ ماں باپ کی، ماں کی زیادہ کیونکہ اسکا بچوں کے ساتھ وقت زیادہ کٹتا ہے۔
ابتدا ہی سے بچوں کو عادت ڈلوائیں، کپڑے پہناتے وقت، کھلاتے وقت۔ جب انہیں کچھ دیں ان کا کوئی کام کروائیں، بچے کو کچھ کھلائیں پلائیں یا دلائیں تو کہیں کہ بیٹا مجھے جزاک اللہ کہو اور اسی طرح بچہ اگر آپ کا کوئی کام کرتا ہے۔ آپ کو کچھ دیتا ہے تو بھی آپ بھی اسے جزاک اللہ کہیں تاکہ دو طرفہ محبت و خلوص کا رشتہ آگے بڑھتا رہے جب ہی تو پتا چلے گا کہ میں نے شکریہ ادا کرنا ہے یہ اچھی عادت بچے کے اندر خود بخود پختہ ہو جائے گی۔
میرا پوتا جب بھی اسکے بابا اس کی پسندکی چیز کھلوا کر لاتے ہیں تو گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ کہتا ہے تھینک یو بابا۔ یقین جانئے مجھے پھر یاد آتا ہے اور میں بھی کہتی ہوں جزاک اللہ بیٹا جب کہ وہ چھوٹا سا ہے مگر ہم کسی وقت بھی اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ ساتھ ساتھ بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہئے کہ کسی کی دل آ زاری کبھی نہ کریں کہ یہ گناہ ہے اللہ کو بالکل نہیں پسند، نیکیوں میں بڑی نیکی ہے۔ تم نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دینا تکلیف نہیں دینا۔
بچے عموماً ایک دوسرے سے جلدی جھگڑتے ہیں، جذباتی ہوجاتے ہیں تو عموما ًبے حِس ہوجاتے ہیں ہیں۔ جب آپ سکھائیں گے کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا، دل نہ دکھانا تو یقین جانئے آہستہ آہستہ بچے کے دل میں بھی اہمیت آئے گی، محبت آئے گی۔ یہ سب سے بڑی بیماری ہے دل آزاری کرنا۔ بعضی اوقات خواتین واقعی ایسی باتیں کر دیتی ہیں کہ دوسرا بندہ جس کا دل دکھتا ہے اور اتنا وہ بندہ ٹوٹتا ہے کہ تنہائیوں میں جاکر روتا ہے کیونکہ دل خانہ خدا ہے جس کوتوڑنا جرم سے کم نہیں۔ اس عمل کو اللہ اور صرف اللہ دیکھتا ہے اب یہ اسکا ظرف ہے وہ دل دکھانے والے کو معاف کر دے یا اللہ کے سپرد کردے یا بدلے کیلئے کوشش کرے اور خود بھی نقصان اٹھائے اور بدلہ لیکر معاشرتی برائی کا حصہ بنیں!! ضروری نہیں کہ بچے ہی کسی کادل دکھائیں۔ بڑے بھی بسا اوقات ایسی حرکات کر جاتے ہیں محبت میں آکر یا شاید بدلے میں آکر انہیں احساس بھی ہوتا کہ اتنی سی پشت پناہی یا طرف داری جو منفی رجحان رکھتی ہے اسے تو ممکن ہے کہ آپ اچھا سمجھتے ہوں اور وقت پرصبرنہ کر کے بچے یا بڑے کی غلطی کو ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہوں، حکمت سے کام نہ لیں تو بھی معاملہ الٹا ہو جاتا ہے دوسرا بندہ جو ماں باپ، بچہ بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی بھی ہو سکتے ہیں۔
بری طرح دل آزاری کا شکار ہوتے ہیں جنہیں آپ محسوس بھی کرتے ہیں مگر نظرانداز کر جاتے ہیں، یہی چھوٹی چھوٹی باتیں حق تلفیاں کہلاتی ہیں جو دل آزاری کا باعث بنتی ہیں۔ بعد میں پچھتانے کا کوئی فائد نہیں ہوتا! کیونکہ بچے اس سے بھی زیادہ آگے بڑھ کر اس غلطی کو ایک اوربڑا منفی رنگ دینے میں کسر نہیں اٹھاتے، اگر چہ یہ سب ہمیں معلوم ہے مگر ہم بھول جاتے ہیں نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں سے کروانے کا موقع دیتے ہیں۔
اسی طرح ہمیشہ بچوں کو اپنی تمام چیزوں میں دوسروں کو حصہ دینے کی عادت ڈلوائیے۔کتابیں، کھلونے، کھانے پینے کی اشیاء، مشربات، گیمزمیں ہی نہیں ہر ہر چیز میں۔ شیئرنگ کی عادت ڈالیں کہ یہی کیئر نگ ہے۔ دوسروں کا تعاون آپ کوکبھی مل نہیں سکتا جب تک آپ دوسروں سے بھر پور اور پر خلوص تعاون نہ کریں۔غرض کے بندے نہ بنیں،فرض کے بندے بنیں۔ ہمیشہ وسروں کا بھلا سوچیں۔ خود غرضی سے ہزار درجہ بہتر ہے بے غرضی،بے لوثی کیونکہ اسی میں خوشی ہے، سکون ہے، عزت جبکہ دوسری طرف بد تہذیبی خود غرضی بندے کو نہ صرف چڑ چڑا کر دیتی ہے بلکہ اندر سے اکیلا کر دیتی ہے اور وہ باوجود ہزاروں میں رہتے ہوئے بھی غمگین اور اکیلا ہی رہتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ عاجزی انکساری، پیار محبت اور خلوص اور محنت کو اپنا شعار بنائیے کہ زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔





































