
لطیف النساء
سبحان اللہ، الحمد للہ کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے خصوصی کرم کیا اور ترسے ہوئے مسلمانوں کیلئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گویا ان کا چناؤ ہو گیا جتنا
بھی شکر کیا جائے کم ہے۔
دو سال سے جو ڈر خوف اور مایوسی کی فضا تھی وہ ختم ہوئی اور سبحان اللہ کہ آج شام پانچ بچے تک اتنارش ہو گیا یہ دیکھ کر بڑی ہی خوشی ہوئی۔تمام حجاج کرام پر اللہ پاک اپنا خاص رحم کرے۔
اتنی بڑی تعداد گویا انسانوں کا ٹھاٹے مارتا سمندر اور اس کا انتظام بہر حال ایک چیلنج ہے۔ سعودی حکومت کے انتظامات قابل تعریف ہی ہوتے ہیں۔ ماشا اللہ سے رب کی مہربانی سے سب کام آسان ہو جاتے ہیں مگر ہم سب کوبھی انکے لئے خصوصی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اے پاک پر ور دگا ر پتا بھی تیرے حکم کے بغیرنہیں گرتا اور تو ہی خالق مالک رازق ہے اپنے ان مہمانوں پر رحم کرنا اور اس مشقت طلب کام کو انکی ہر چیز کو آسان فرمانا۔ آمین اور خاص کر پاکستانیوں پر رحم کرنا انہیں ہدایت عطا فرمانا ان کے تقوے میں ہرلمحہ اضافہ فرمانا۔ آمین۔ وزارت حج و اوقاف کے بندوں کو اتنی انسانیت عطا فرما کہ وہ پاکستانیوں کیلئے رہنے سہنے، کھانے پینے اور ہوٹلز کے تمام انتظامات بہترین کریں اور خصوصی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اور علاج کی سفر کی بہترین سہولیات فراہم کریں بے شک اللہ کا گھر ہے اللہ ہی انکی مہمان نوازی فرمانے والے ہیں۔ ایک منظم طریقے سے رہنے کا نام ہی دراصل زندگی ہے ہرشخص کو اس کا احساس ہونا چاہئے جو لوگ ان حاجیوں کیلئے کام کر رہے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ سب اللہ کے مہمان ہیں لہٰذا ان دنوں ان کی بہترین قدر دانی کریں اور زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں،آسانیاں بانٹیں یہی انکی اہم ذمہ داری ہے گویا اُن کیلئے عبادت سے کم نہیں۔ اسی طرح جتنے بھی حجاج رب کی رضا سے وہاں پہنچے ہیں۔ انہیں بھی اور جو پہنچنے والے ہیں انہیں بھی انتہائی صبروضبط کا مظاہرہ کرنا چاہئے یہ تو ہےہی مشقت طلب کام! سوچیں آج سےسینکڑوں سال پہلے لوگ کس طرح حج کرتے ہون گے؟ کیسے سفر کرتے ہونگے؟ کیسے گرمی سردی کے دن گزارتے ہوں گے؟ کس طرح بی بی حاجرہ نے تنِ تنہا وہاں دن رات گزاریں ہوں گے؟ ہمیں تو ہر لمحے شکر میں ڈوبے رہنا چاہئے کہ ہمیں اتنی آسانیاں اور سہولیات دی گئی ہیں۔ سب ہی اللہ کے مہمان ہیں لہٰذا ہمیں اپنے حسنِ اخلاق، ہمدردی اور تعاون کو ملحوظ ِ خاطر رکھیں۔ کوئی غصہ جھگڑا، لعن طعن کو خاطر میں نہ لائیں کیونکہ یہ سب شیطانی افعال ہیں اور ہم کیسے اپنے اوپر شیطان کو طاری کر کے حج ادا کر سکتے ہیں۔ وہاں تو ذرا ذرا سی قدردانی قبول ہوتی ہے،اجر پاتی ہے۔ وہا ں تو معجزے دیکھے جاتے ہیں۔ان عظیم دنوں کی عبادات اور دعاؤں کو فوکس کریں۔ اس شکر گزاری کے ساتھ کہ رب نے اسکا موقع آپ کو عطا کیا، کروڑوں میں آپ کا چناؤ کیا اور اتنی عظیم حج جیسی عبادت کا آپ کو موقع دیا۔ ان دس دنوں کا ثواب اللہ اکبر! اگر شعوری طور پر انسان اس عبادت کے تمام ارکان پورے کرے بلا شکوہ شکایت، شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ تو کیا کہنے اس خوش نصیبی کے! اللہ تعالی دلوں کے راز اور آنکھوں کے اشارے تک جانتا ہے کیاوہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ کتنی خوش قسمتی ہے کہ ہزارہا مہنگائی اور کرائسس کے باوجود آپ وہاں موجود ہیں، صحت تندرستی اورمِحرم کے ہمراہ زادِ راہ سے بھی اہم آپ کا تقویٰ ہے۔ آپ کا اخلاص اور قربانی ہے اور اللہ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں وہ توصرف آپ کا اخلاص اور تقویٰ ہی دیکھنا چاہتا ہے۔
تمام حجاجِ کرام کو منظم اور پاکیزہ رہنے کا جذبہ رکھنا چاہنے کوئی غلط کام، کوئی شیطانی حرکت اور بد تہذیبی، بد عملی کا مظاہرہ کر کے اپنے آپ کو اور اپنی امت مسلمہ کو اپنے ملک کو شرمندہ نہ کریں اسکا عہد کر لیں اور اس کیلئے دعائیں کریں، ہم سب بھی انکے تقوے کیلئے دعائیں کریں اور ان دس دنوں میں لڑائی جھگڑے سے دور رہ کرصبر و برداشت سے اللہ کی خصوصی عبادات میں جُتے رہیں، تسبیح، کلمہ، تہلیل اور استغفار سے زبان سدا تر رکھیں۔
مخصوص دعاؤں کو مانگتے رہیں ہر مسلمان اپنے لئے اپنے ا ہل و عیال کیلئے حاجیوں کے لئےبلکہ کل امت مسلمہ کیلئےشعوری طور پر دعائیں مانگیں، روزہ رکھیں۔ صدقہ خیرات کریں اور قربانی دیں اور تمام مستحقین کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں تاکہ رب ہم سے راضی ہو جائے اور کتنی اہم بات کہ جب اتنا سا نہ نظر آنے والا وائرس "کرونا" کی شکل میں پوری دنیا کا منہ بند کرکے لاک ڈاؤن کر سکتا ہے تو پھر اشرف المخلوقات، زمین پر اللہ کے خلفاء اپنی یکجہتی سے اپنے کردارسے اپنے حسنِ اخلاق سے متحد اور منظم رہ کر دنیا کا نقشہ کیسے نہیں بدل سکتے؟ ہم سے جو بھی غلطیاں ہوئیں جو کوتاہیاں ہوئیں اسی وجہ سے ہمارا سکون غارت ہوا ہے اور ہم ٹکرے ٹکرے ہوئے ہیں کیونکہ انسان کو خود معلوم ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیسے جی رہا ہے کیوں منتشر ہے؟ ہم اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں اپنے بد اعمال سے! ورنہ اگر نیت صاف ہو اور خوفِ خدا ہو تو پھر ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو، اپنا رنگ لائے خاص کر عرفہ کے دن کی دُعا اور اس کی فضیلت سمجھ کر ادا کرتے رہیں تو پھر سمجھیں کہ روشنی ہی روشنی ہوگی انشاء اللہ۔ میں نے آج جب اتنے حجاجِ کرام کا مجموعہ دیکھا تو دل بہت متاثر ہوا، دل سے دعا نکلی کہ اتنے سارے حجاج کرام! اللہ تعالی ان کو اتنی توفیق عطافرما اتنی ہدایت عطا فرما کہ وہ جب واپس اپنے اپنے ممالک میں جائیں تو ان کے کردار روشنی کی طرح بکھرے اور جہالت کے اندھیرے مٹادیں، کردار کی وہ خوبصورتی ہر جگہ پھیلے کہ دنیا پر چھا جائیں۔ آمین۔ اے رب تو تو قادر مطلق ہے کہ وائرس سے اتنا متاثر کیا دنیا کو تو پھر ہمیں بھی وہ دل اور وہ تقویٰ اور کردار عطافرما کے دین ودنیا میں عافیت ہر مسلمان کو ملے۔جب یہ حجاج کرام حج کرکے خیر و خوبی سے واپس آئیں تو جو کچھ جا کر مانگا ہے مرتے دم تک انہیں اس پر چلنے اور قائم رہنے کی توفیق بھی دینا، ہم واپس آکر دنیا میں دوبارہ نہ کھو جائیں کسی کو یہ کہنے سننے کا کبھی موقع نہ ملے کہ:
کہنے کو ہر شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھوتو کہیں نام کوکردار نہیں ہے۔
اے میرے مسلمان ساتھیوں اپنے حقوق کو پہچانو، اپنی نفرتوں کو دفن کرکے صرف اورصرف بھلائی سے کام کر یں، اصلاح کے کام کریں۔اگر کسی کی خوشیوں میں اضافہ نہیں کر سکتےتو انہیں دکھ بھی نہ دیں۔ ایسے کام سے تو بہ کرلیں جس سے انسانیت شرما جائے۔ اپنی فطرت پر چلیں۔ ہمیں زندگی امتحان کیلئے دی گئی ہے اور اسی زندگی میں ہمیں پاس ہو کر حیاتِ جاویدانی حاصل کرنی ہے۔ یہ زندگی تو محض ایک چھوٹا سا وقفہ ہے اتنی مختصر کہ ادھر اذان ہوئی کان میں اور اُدھر نماز جنازہ!سوچیں کیسی اچانک موتیں اور بندہ بے خبر!! کیسے گزری زندگی؟
رُکے رُکے سے چند قدم اورزندگی کا سفرختم
ہم وضو بھی کر نہ پائے تھے، لوگ پڑھ چلے فاتحہ قل، ختم
بس اتنی سی زندگی کیلئے بے ایمانی ہمیں کبھی زیب نہ دے گی لہٰذا زندگی کےاس موقع کو آخری جان کرایسی عبادت اور استغفار کریں کہ رب راضی ہو جائے! کیونکہ رب راضی تو سب راضی۔ آمین





































