
لطیف النساء
کیسا عنوان ہے؟ ہر کسی کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے! مگر صرف انہیں جنہیں واقعی خاندان جیسی نعمت کی قدر ہو! ایک بچہ دنیا میں کتنے حسین
رشتے اپنے ساتھ لاتا ہے۔ سبحان اللہ ماں باپ،دادا دادی، نانانانی، چچی، پھوپھی، تائی ماں اور بہن بھائی گنتے چلے جاؤ یہی تو رب کی عطا ہے یہ تو ہماری مرضی اور اختیار میں نہ تھے۔
اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے،قدر دانی ہے کہ ہمیں چاہنے والے محبت کرنے والے اور دل و جان نثار کرنے والے رشتے ناطے دیئے توہمیں کتنا خوش ہونا چاہئے کہ یہ سب اللہ کے عطاکئے ہوئے رشتے ہیں اور انکا احترام اور قدر دانی، بلکہ فرمانبرداری اللہ کی ذات کے بعد ہم پر فرض ہے۔ پھر اس کے بعد ہی دیگر لوگ اسکول، کالج، مدرسہ اور اہل محلہ، ہم وطن اوردیگر لوگ بھی ہمیں تقویت دیتے ہیں مگر ہمیں جن رشتوں سے محبت اور سکون ملتا ہے ایک قوت ملتی ہے وہ ہے ہمار اخاندان اور خاندان میں سب سے اہم بات ہے کہ ہم اپنے اندر جذبے سچے اور نیک رکھیں ورنہ یقین جانئے نیک جذبوں اوراحساس سے خالی خونی رشتے بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
رشتہ در اصل ہے ہی نیک نیتی اور قدر دانی کے احساس کا نام جس سے محبت کی جاتی ہے اس کیلئے ہر تکلیف تو گوارہ ہو جاتی ہےمگر اس کی تکلیف نہیں سہی جاتی! تو پھر یہ کیسی رشتہ داری ہے جو احساس سے عاری ہے؟ اگلے کی تکلیف کا پریشانی کا مداوا تو دور کی بات احساس تک نہیں؟ کتنے لوگ ہمارے مشاہدے میں اور خود ہمارے خاندان میں نظر آتے ہیں جنکے بارے میں بولتے لکھتے ہوئے بھی جی ڈرتا ہے کہ یہ غیبت ہے! مگر ساری باتوں کی ایک بات آپ کتنا کھا لو گے، پی لو گے پہن لو گے یا عزت پا لو گے؟ مگر قلبی سکون اور دل کا اطمینان کہاں سے لاؤ گے؟ اور آخر کار کہاں جاؤں گے؟ آخر کار اللہ کی پکڑ میں تو آؤ گے نا؟بس یہی ہم بھولے ہوئے ہوتے ہیں کہ میں اور میرا اور مجھے کے علاوہ بھی کچھ ہے! اشفاق احمد مرحوم نے کیا خوب بات کہی ہے کہ "اگر لوگ اپنی گفتگو سے غیبت اور تہمت بہتان کو نکال دیں تو باقی صرف خاموشی رہ جاتی ہے جو ایک بہترین عبادت ہے! واقعی کیا بات کہی ہے زبان کی مار اور کاٹ کتنی تباہی ہے جو دلوں کے بغض کو نکال کر دنیا میں آگ لگا دیتی ہے اورکیسی آگ؟ جو نسلوں تک چلتی ہے ،ہمیں اسی آگ پر تو قابو پانا ہے ورنہ سب سے پہلے برائی کی اس آگ میں ہم خود ہی جلتے ہیں بلکہ سلگتے رہتے ہیں اور یوں دوسروں کو بھی سلگاتے رہتے ہیں۔
میری والدہ مرحومہ کہتی تھیں اور وہی بات میری ایک طالبہ نے بھی جنکی امی کا ابھی ڈیڑھ، دو ماہ پہلے انتقال ہوا ہے کہتی ہے کہ بیٹا بڑوں کو جواب نہ دینا، اندازدھیمہ رکھنا، عاجزی رکھنا کسی بات سے طیش میں کبھی نہ آنا، جواب دینے میں جلدی نہ کرنا یہ چھوڑے ہوئے تیر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بیٹا! بیٹا شکر کر و صبح ہوئی! ایک نئی زندگی ملی!بس اپنا آج اچھا بناتے رہو جو کل سے جو گزر چکا ہے ہر حال میں بہترہو! مطلب اس میں اپنے جذبے، اعمال روئیے سب سے اچھے رکھو، اپنے تمام کام بخوبی احسن طریقے سے انجام دو، کسی کا دل نہ دکھاؤ اگر کسی بڑے نے بھی غلطی کر دی تو بھی اس کی بے عزتی نہ کرو، اگر چھوٹے سے کسی نے بھی رشتہ دار نے تمہیں تکلیف دی ہے تو بھی ذرا صبر سے تحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے دل بڑا کر لو، چند سیکنڈ کی بات ہوتی ہے وہ اپنا تا ثر ضرور چھوڑ جاتا ہے غلطی کرنے والے کو خود ہی احساس ہو جاتا ہے اور جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے تو سمجھو آپکے برے روئیے، برے الفاظ اور بُری گالی سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے سمجھو وہ زخمی بھی ہو جاتا ہے مگر انکار نہیں کر سکتا یعنی ساتھ ہی مجبور بھی ہو جاتا ہے مگرا گر وہ پلٹ آئے اورآپ سے معذرت کر لے تو اسے فوراًمعاف کردو کیونکہ کیا تم نہیں چاہتے کہ ہمار ا رب ہماری غلطیوں کو معاف کر دے؟ رشتے ہر حال میں بنائے رکھو کہ اس میں عزت، محبت، مزہ، لطف، برائی اور سکون ہی سکون ہے گویا اللہ کی دی ہوئی عظیم نعمتوں کا شکر ادا کر رہے ہو، اپنا حق ذمہ داری سے ادا کر رہے،ورنہ خواری کے سوا کچھ حاصل نہیں، یہی تو آداب زندگی ہے۔ ہر جگہ پر رشتہ ایک الگ ہی آزمائش کے سا تھ موجود ہوتا ہے۔ برتنا ہمیں ہے۔ بے عیب تو اسی دنیا میں کوئی نہیں سوائے رب کی ذات کے، لیکن اگر آپ لوگوں میں عیب دیکھ کر جھگڑتے رہے، کٹتے رہے تو پھر تو آپ تنہا ہی رہ جاؤ گے کچھ نہ کر پاؤ گے!اگر ہم بڑے ہیں اورچھوٹوں کا خیال نہیں کر رہے انکا حق ادا نہیں کر رہے تو پھر ہم کیا کر رہے ہیں؟ ان سے محبت شفقت کے ساتھ ان کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوششیں کرتے رہے تو اللہ تعالی آسانیاں ہی آسانیاں دے گا۔
اسی طرح بڑے ہر وقت اپنا حق اداکریں اور چھوٹےصرف ناجائز فائدہ ہی اٹھاتے رہے بلکہ انہیں اپنا غلام ہی سمجھ لیں! اور خود چودھری بن گئے نہ عمردیکھی نہ حلیہ جو جی چاہے من چاہی کرنے لگے، نرمی، شفقت اور لحاظ کا غلط فائدہ اٹھایا تو سمجھو! ایسی منہ کی کھائی کہ خود اپنی ہی ذات میں، اپنی ہی نظر میں اتنا گر گئے کہ دنیا و آخرت ہارنے کے مترادف، جاندار تو جاندار مطلب انسان یعنی رشتہ داروں اور لوگوں کے ساتھ ہی محض اچھا برتاؤنہ کریں بلکہ جانوروں تک کاحق ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی دُعائیں، کتنے طریقے اور کتنی مثالیں اور انعامات بتائے ہیں کہ رشتہ داروں سے کیسے تعلقات یا دوستی کو مضبوط اور مستحکم رکھنا ہے؟سلام کو عام کریں گو ہر کسی کیلئے جب سلامتی چاہو گے تو خود بھی سلامتی میں رہو گے، بلاتخصیص سب کو سلام کریں،بڑھ بڑھ کر انکا کام کریں، انکا بھر پور خیال رکھیں، ان کی عزت مقدم رکھیں، کسی مشکل میں ہوں تو مدد کریں اوروہ بھی ایسے کہ جتائیں نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی اوررضا کے لئے نہ بدلے کی توقع نہ شکریہ کی چاہت! تب ہی مستحکم خاندان اور دوستی مضبوط رہے گی۔ وہ بھی مرتے دم تک،یہ دوستی بے لوث اور بے غرض ہونا چاہئے ورنہ رشتے ناطے، لالچ، برباد اور خودغرضی کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ پھر جب احساس ہی مر جائے تو پھر ہر رشتہ بے معنی سا ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس لیےرشتے اور خاندانی دوستی ہمیشہ یاد رکھیں قربانی بلکہ بے پناہ قربانی چاہتی ہے۔ قربانی سے یاد آیا کیا خوب دن آنے والے ہیں انشاء اللہ! اگر ہم ابھی سے ہی نیت کر لیں کہ نیک کام میں دیر نہیں کرنی بچپن سے سنا ہے نا کہ" لڑائی لڑائی معاف کرو۔ اللہ کے گھر کو صاف کرو " تو پھر سب کو معاف کرکے اپنی دوستیاں بحال کر لیں۔ یہ پوری قطعہ زمین اللہ کا گھر ہے اس پر اس مادر زمین پر ہمیں پیار محبت سے امن سے ہی رہنا ہے۔ اس پر بسنے والی ہر شے قابل قدر ہے لہٰذا اس سے بھی ہماراگہرا رشتہ اور تعلق ہے۔
ماحول دوست رہنما ہی اس کا حق اداکرتا ہے۔یہ بھی توایک عظیم خاند انی رشتہ ہے،ماں کی طرح مضبوط اسی میں مرنےکے بعد بھی سکون اورعزت پانا ہے تو اسی پر ظلم اور نا انصافی اسے کبھی پسند نہ آئے گی۔ لہٰذا اس کو بھی پاک صاف رکھیں۔پھر خاندانی رشتوں کی دوستی کو مضبوط بنانے کیلئے قربانی دیجئے، مال کی، کردار، اہلیت کی، محبت اور محنت کی، جب تک تکلیف نہ اٹھاؤ گے قربانی نہ دو گے، کچھ نہ پاؤ گے، ایک دوسرے کو تحفہ تحائف دیں، دکھ سکھ بانٹیں، اچھے مشورے، اچھی کتابیں، اچھی کتابیں اچھی ترکیبیں بتائیں، اچھی دینی، مذہبی محفلیں رکھیں، قرآن سے جڑے رہیں اور انہیں بھی جوڑے رکھیں سب کچھ اللہ کیلئے کریں اور دل سے کریں دکھاوا نہیں، محبت کا اظہار کریں، ایکٹنگ نہیں!دل جیتے جاتے ہیں بہت کچھ نہیں بسا اوقات سب کچھ برداشت کر کے اللہ کیلئے جس نے رشتے بنائے نفس کو مارنا پڑتا ہے۔ خواہشات کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے۔
رب کے ساتھ جسے تعلق کو قائم رکھنے کیلئے دل کو مار کررونا پڑتا ہے تو ہی سکون ملتا ہے اسی طرح کتنی دفعہ ہم ٹوٹتے ہیں بکھرتے ہیں مگر وہی بات کہ " گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے "یہ گھر (زمین) صرف چند افراد سےلیکر خاندان اور پھر ہماری دنیا ہی ہے، مگر فی الحال اپنے رشتوں کی دوستی کو سلامت رکھنے کیلئے ٹوٹنا بھی پڑے بکھرنا بھی پڑے مگر پر امید اوررب سے بندھے رہے تو وہ ضرور ہمیں سمیٹ کر اتنا مضبوط کر لیتا ہے کہ ہمیں اپنے رشتہ داروں کو یا کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ہمارے لئے دعا کریں بلکہ اُن کے دل سے خود دعا نکلتی ہے یعنی وہی بات کہ بقول شاعر
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے جدا ''
دوستی تو پھر وہی ہوئی ناکہ
اپنے لئے جینا تو کوئی خاص نہیں ہے
خود مٹ کے کسی اور کو مٹنے سے بچالو
اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے خاندان کو دوزخ کی آگ سے بچائے اور پڑھنے، لکھنے،سننے دیکھنے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین





































