
لطیف النساء
اتنےبھی بے حس نہ بنیں کہ حق کا ساتھ بھی نہ دے سکیں،خالی خالی باتیں بنانے لوگوں کوٹالنے اور فضول کے لالی پاپ
دینےسے منافقت اور دشمنی ہی جنم لیتی ہے۔ کیا حکومت اور کیا حکومتی ادارے؟ انہیں عوام کےدکھ درد تکلیف کا احساس ہی کیوں ہوگا جو خود انہیں تکالیف دینے پرتُلے ہوں۔ کوئی بھی توسکون چین اور امن کے کام ان سے انجام دیئے جا رہےہیں۔ عوام مستقل تکالیف سہہ سہہ کرادموہی ہوئی جا رہی ہے،کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی!۔
ظاہر ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے توکیا ہوتا ہے؟ پریشرککر بھی پھٹ ہی جاتا ہے۔ صبر کی بھی انتہا ہوتی ہے!اتنے دنوں سے لوگ سڑکوں پر موسم کی سختیوں، تنگیوں کے باوجود دھرنا دیے ہوئے ہیں اپنا سکھ چین قربان کر کےکیا چاہ رہے ہیں؟ حق کی خاطر، ظلم کی خاطر بھی نہ نکلو گے،نہ ساتھ دو گے تو کیسے معاملات سدھریں گے؟کیسے مسائل حل ہوں گے؟ کیوں ہم اپنوں کا دکھ درد نہیں سمجھتے؟دکھ تو سب ہی کے سانجھے ہوتے ہیں۔ ہم کیسے لوگ ہیں؟ کہ ہمیں حق کا ساتھ دینے والوں کا بھی ساتھ دینا مشکل لگ رہا ہے؟ ۔
حکومتی ادارے بے حس بنےہوئے ہیں خودحکمران طبقہ اپنی مراعات،سہولیات کو کسی صورت چھوڑنے کو تیارنہیں۔ جان جائےمگرعوام کو ریلیف دینے کو بالکل تیارنظر نہیں آتے، کیا مذاق سمجھا ہوا ہے؟ پاگل بنا دیا ہےعوام کو! عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگا لگا کر ظلم کررہے ہیں۔آئے دن اموات کا سبب کہیں گیس نہیں،بجلی کے بل اور کہیں ڈاکٹروں کی فیس ادویات کے خرچےاورنہ جانے کیا کیا۔ کرائے تو پوچھے ہی نہیں، پیٹرولیم مصنوعات مستقل عذابِ جان بنی ہوئی ہیں تو اوپر سے رہی سہی کسر ٹوٹی پھوٹی اجڑی سڑکیں، گڑھے اور پتھریلے دشوارگزار راستوں نے لوگوں کا جینا بھی اجیرن کردیا ہے تو ساتھ ہی رکشہ ٹیکسی ڈرائیورز اپنی گاڑیوں کی ریڑھ لگوانےپر اپنی زندگیوں سے خفاہیں، کسی کا تو لحاظ کر لیں!۔ ظاہر ہے حق تلفی اور نا انصافی پر کیا بندہ خوش ہوگا؟ نوکریاں نہ ہی ملنے کے لیے حکومت کوئی صورتحال پیش کر رہی ہے۔
آگے بھی کوئی بھلے اقدامات نظر نہیں آرہے۔وزیروں کے تو کیا ہی کہنے، ترقی اور سیاسی استحکام لانے کے لیے کتنی ہی تگ و دو کرنی پڑتی ہے، نہ کہ گھسی پٹی کہانیاں دہرا دہرا کرعالمی مالیاتی فنڈ اورآئی ایم ایف کا ہی رونا رویا جائے؟ہر غیر آئینی طریقے مراعات یافتہ لوگ اپنائیں اور سزا پائیں عوام،کتنی ستم ظریفی ہے۔مصنوعی قیادتیں کبھی بھی عوام کو حقیقی معنوں میں کبھی بھی کوئی ریلیف تو کیا دیں انہیں صرف عوام کو لوٹنے ہی کی فکر ہوتی ہے!اور وہی تو ہورہا ہے نہ نوکریاں کھل رہی ہیں ،نہ ادارے فعال ہیں۔ نہ تحفظ ہے،نہ امن وامان ہے۔ ایک بے سکونی اور بے قراری کی فضا ہے ہر بندہ پریشان خوفزدہ اورغیر مطمئن!کیونکہ اتنےچکروں میں الجھایا ہوا ہےکہ پسے ہوئے عوام کو صرف روٹی، کپڑے اورمکان کے تو کیا لالے پڑنے تھے ۔ تالے پڑے نظر آرہے ہیں! ترقی کے جھوٹے دعویدار خود ہی بے نقاب ہوئے چلےجا رہے ہیں۔
ایسے میں ہمیں بھی شعوری طور پراپنے حق کےلیےاٹھنا ہوگا۔مسائل کا حل صرف سمجھداری میں ہے،بیداری میں ہے۔ آپ سب کےسامنے ہے کتنےمتحرک تحریکی کارکن اپنی حیثیت کے مطابق کام کر رہے ہیں ،انہیں سب کے تعاون کی سپورٹ کی اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔تنکےیکجا ہوجائیں تو مضبوط جھاڑو سےکام آسان صفائی آسان اور بُرے نظارے بُری چیزوں بیکاراشیاء سےماحول خود بخود صاف ہو کر نئی جہد کے لیے تیار ہو جاتا ہے ،لہٰذا ہم سب کو ہی اپنی اورآنے والی تکالیف کا بخوبی اندازہ ہے۔ہمیں اپنوں کے ساتھ مکمل ہمدردی اور تعاون سے دلی اور جذباتی وابستگی رکھتے ہوئےملک کی بقا، امن،خوشحالی اور سلامتی کے لیے دھرنوں کو سپورٹ کرنا ہوگا، یہی واحد حل ہونا چاہیے پوری قوم دھرنے کی پشت پناہ بنی ہوئی ہےاور مستقل سدھار کی کوشش کر رہی ہے لیکن شاید حکومت کو عوامی طاقت کا اندازہ بھی نہیں ہو رہا۔
قابلِ عمل باتوں کو مذاق سمجھا ہوا ہے! کیسے مسائل کا حل نکلےگا اور کون نکالے گا؟ کیا یوں ہی ملک آگے چل سکتا ہے؟ سب لوگ مل جل کر خصوصا ًحکمران طبقہ اور اس سے متعلقہ تمام سرپرست ادارے اور مخیر حضرات سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالیں اور عوام کو مزید مشکلات اور اذیت کا نشانہ نہ بننے دیں،ورنہ تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہر بندہ آن لائن ہے ۔
اللہ سے رحم مانگیں اس کا انصاف بڑاہی شدید اوروہ جلدہی پکڑنے والا ہے۔اپنےعہدوں کا اور اختیار کا مؤثر اور پرامن استعمال ہی پاکستان کا امن اور سلامتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کوبہترین طریقے سےادا کرنے اورایک سچے پکے مسلمان کی تمام تر صفات نبھانے کی توفیق دے آمین۔
اپنی نیتیں درست کریں دعاؤں کے ساتھ اپنی سکت کے مطابق تعمیری کردار ادا کرتے رہیں تو اللہ تعالی کی ذات بڑی قدردان ہے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، رات کتنی ہی تاریک ہو صبح روشن ہی اس کا انجام ہے۔ اللہ تعالی اس دھرنے سے امید کی جو نئی کرن جھلکی ہے اسے مکمل اور منور کر دے، پاکستان جس مقصد کے لیےبنایا گیا تھا ہم اسے وہ مقصد دے کردونوں جہاں میں سرخرو ہوسکیں آمین۔ ہمارے مسلمان فلسطینی ہم سے کبھی مایوس نظر نہ آئیں۔اگرچہ بڑی ہی کوتاہیاں ان کےحق میں ہم نے بھی کی ہیں مگر اللہ ہمارے دکھی اورمغموم دلوں کی پکاربھی سن لے اور ہمیں اس کا حق ادا کرنے کے معجزاتی مواقع فراہم کر دے ۔آمین۔ جب ہم اپنے ملک میں امن چاہیں گےمسلمان اور انسانیت کے لیے امن کے خواہاں ہوں گےتو یقیناً اللہ بھی ہمارا ساتھ دے گا حق تو پھر حق ہے اس کی ہر جگہ جیت ہے:
ایک ذرا تھوڑا انتظار کرو
حق ہی جیتے گا ظلم ہارے گا
تو کسی اور سے نہ ہارے گا
تجھ کو تیرا غرور مارے گا
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیلات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































