
روشانہ جمیل
.اللہ تعالی زبردستی کسی کو اپنے قریب نہیں کرتا ۔ وہ تو دین میں بھی زبردستی نہیں کرنے دیتا۔
لا اکرا فی الدین(دین میں زبردستی نہیں )
ابو طالب کےاردگرد اللہ کے دوست تھے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمپنی تھی لیکن اس کی اپنی چوائس اللہ سےدوررہنے کی تھی تو پھروہ واقعی اللہ سے دور کر دئیے گئے۔ہم سب کو بھی زندگی میں یہ چوائس دی جاتی ہے کہ یا تو اللہ کی دوستی اختیار کرلیں یا اللہ سے دور ہوں ۔
آپ اگراپنی زندگی میں اللہ سے دور ہیں تو سمجھ لیں کہ یہ آپ کی اپنی چوائس ہے،اس میں نہ لوگوں کا قصور ہے اور نہ ہی آپ کے ماحول کا کیونکہ جو اللہ کی طرف ایک قدم آتا ہے۔ اللہ اس کی طرف دس قدم آتا ہے ۔
جو چل کر اس کی طرف جاتا ۔وہ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہےجس ہستی سے سب سے زیادہ محبت کےبغیر ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا ۔
جسےصبح شام اٹھتے بیٹھتےیاد کرنا تھاجس کے ہمارے اوپراتنے احسان ہیں کہ اس کی وجہ سے ہم دنیا میں آئے،آج اگر ہم اس دنیا میں سانس لے رہے ہیں تو یہ بھی اس کی رضا سے ہے مگر جس کا ذکر ہر وقت ہماری زبان پر ہونا چاہیے تھا۔ اس کائنات کی سب سے عظیم ہستی کی جگہ لی بھی تو کس نے ۔
چند انچ کے موبائل نے جن کےہاتھوں میں اللہ کا کلام ہونا چاہیے تھا جس نسل نے اللہ کا دین پھیلانا تھا ۔اللہ کی آیات کےذریعے اللہ کے دشمنوں سے لڑنا تھا۔وہ نسل موبائلوں پر کاروٹوں سے لڑ لڑکر جہاد کر کے نڈھال ہورہی ہے۔یہ ناکارہ نسل نہ ہی ماں باپ کی بنے گی ۔نہ ہی اپنے پیدا کرنے والے رب کی بنے گی۔ اس نے جنت کا ، اللہ کی محبت کا سودا کیا بھی تو کس سے واہ رے شیطان تو نے کیسا کھلونا دیا ہےبنی آدم کے ہاتھوں میں۔





































