
روشانہ جمیل
دنیا کے تمام مذاہب اور قوموں میں تہوار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں اور ہر ایک تہوار کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے لیکن جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے
کرتی گئی اور مہذب ہوتی گئی انسانوں نے کلچر اور آرٹ کے نام پر نئے جشن اور تہوار بنا لئے ہیں، ان میں سے ایک نئے سال کا جشن بھی ہے۔
در اصل یہ نئے سال کا جشن کفار عیسائیوں کا ایجاد کیا ہوا ہے، عیسائیوں میں قدیم زمانے سے نئے سال کے موقع پر جشن منانے کی روایت چلتی آرہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انکے عقیدے کے مطابق 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ، اسی کی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے۔
نئے سال کے جشن میں پورے ملک کو رنگ برنگی لائٹوں سے سجایا جاتا ہے اور 31 دسمبر کی رات میں 12 بجنے کا انتظار کیا جاتاہے اور 12 بجتے ہی ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ہے، کیک کاٹا جاتا ہے، ہر طرف ” ہیپی نیو ایئر “کی صدا گونجتی ہے، آتش بازیاں کی جاتی ہیں اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتا ھے، جس میں شراب و شباب اور ڈانس کا بھرپور انتظام رہتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے تفریح صرف دو چیزوں سے ممکن ہے اوّل شراب دوسرے عورت۔
آج ان کفار عیسائیوں کی طرح بہت سے مسلمان بھی نئے سال کے منتظر رہتے ہیں اور 31 دسمبر کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے، ان مسلمانوں نے اپنی اقدار و روایات کو کمتر اور حقیر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کر دیا ہے؛ جب کہ یہ عیسائیوں کا ترتیب دیا ہوا نظام تاریخ ہے۔مسلمانوں کا اپنا قمری اسلامی نظام تاریخ موجود ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے مربوط ہے جس کا آغاز محرم الحرام سے ہوتاہے ،یہی اسلامی کیلینڈر ہے؛ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر کو اس کا علم بھی نہیں ہو پاتا۔
آج مسلمان نئے سال کی آمد پر جشن مناتا ہے کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد پر اس کی زندگی کا ایک برس کم ہو گیا ہے؟زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمتی نعمت ہے اور نعمت کے زائل یا کم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا؛ بل کہ افسوس کیا جاتا ہے۔گزرا ہوا سال تلخ تجربات، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہتا ہے۔
سال ختم ہوتا ہے تو عارضی زندگی کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان موت کے قریب ہوتا رہتا ہے، اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا مواخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے ۔خلاصہ یہ ہے کہ ہر نیا سال خوشی کے بجائے ایک حقیقی انسان کو بے چین کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے میری عمر رفتہ رفتہ کم ہو رہی ہے اور برف کی طرح پگھل رہی ہے۔ وہ کس بات پر خوشی منائے؟ بل کہ اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ھو جائے کچھ کر لینے کی تمنا اس کو بے قرار کر دیتی ہے۔ اس کے پاس وقت کم اور کام ز یادہ ہوتا ہے۔
ہمارے لیے نیا سال وقتی لذت یا خوشی کا وقت نہیںبلکہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحاتِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم و ارادے کا نام ہے۔





































