
روشانہ جمیل
آٸیےبچوں کی چھٹیاں قیمتی بنائیے
بچےآپ کا سرمایہ ہیں انہیں اچھی تربیت دینا والدین کی اولیین ذمہ داری ہے۔ اپنے بچوں کےمسقبل کی فکرکیجئے۔ انہیں دین سے جوڑیئے اس
پرفتن وقت میں ہم والدین بچوں کی ویسی تربیت نہیں کرپارہےجیسی ہونی چاہیے۔
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب علیہ الرحمۃ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنے والدمحترم حضرت مولاناحافظ محمد احمد صاحبؒ اور قرآن مجید سے متعلق ایک نہایت بصیرت افروزاور سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے۔اس واقعہ کو قاری طیب صاحبؒ کے الفاظ میں تلخیص کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
مولانا لکھتےہیں:کہ ’’میرے والد ماجد (مولانا محمد احمدؒ) نے وفات سے تقریباً پندرہ بیس دن قبل مجھےدارالعلوم دیوبند کےدارالمشورہ میں خلوت میں طلب فرمایا۔میں حسب الحکم حاضر ہوا۔مجھے دیکھتے ہی غیرمعمولی طور پر آبدیدہ ہوگئے۔ حتیٰ کہ وفورِ گریہ کی وجہ سے چند منٹ تک بات بھی نہ کرسکے… مجھے یہ پریشانی ہوئی کہ کہیں مجھ سےتو کوئی ناگواری پیش نہیں آئی۔ میں نے اس کا ذکر کیا تو فرمایا نہیں بلکہ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور بہت تھوڑا وقفہ باقی رہ گیا ہے۔مجھے اس وقت یہ واقعہ سنانا ہے کہ جب میں قرآن کریم کا حافظ ہوچکا تو حضرت والد ماجد حضرت محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند بےحد مسرورتھے۔
ختم قرآن کی خوشی میں شہرکےعمائد اوراعزہ واحباب کےایک بڑے مجمع کی لمبی چوڑی دعوت کی۔تقریب سے فارغ ہوکرمجھے خلوت میں اسی طرح طلب کرکے فرمایا:" میاں احمد! خدا کا شکر ہے کہ تم حافظ ہوگئے۔ ایک وقت آئے گا تم عالم بھی ہوگے،تمہاری عزت بھی ہوگی۔ ملک میں تمہاری شہرت بھی ہوگی اورتمہیں دولت بھی میسرآئے گی لیکن یہ سب چیزیں تمہارے لئے ہوں گی۔ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے’’مجھے فراموش نہ کرنا‘‘
فرمایا کہ وہ وقت ہےاورآج کا دن ہے۔میرا یہ دوامی عمل ہے کہ میں ہمیشہ دوپارے یومیہ حضرت قبلہ والد صاحبؒ کوایصال ثواب کی نیت سے پڑھتا ہوں، جو اللہ کا شکر ہےکہ آج تک ناغہ نہیں ہوئے۔
مولانا لکھتے ہیں: یہ واقعہ سنا کر مجھ سے فرمایا کہ طیب! خدا کا شکر کہ تم حافظ و عالم ہو چکے ہو۔ وقت آئے گا تمہاری عزت بھی ہو گی،شہرت بھی ہو گی اور حق تعالیٰ تمہیں دولت بھی بہت کچھ عطا فرمائے گا لیکن یہ سب کچھ تمہارے لئے ہو گا… یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے۔ لہٰذا مجھے فراموش مت کرنا۔ چنانچہ حضرت قبلہ والد صاحبؒ کی وفات کے بعد آنے والے مہینے کی پہلی ہی تاریخ سے میں نے حضرت کی نصیحت بلکہ وصیت کے مطابق مغرب کے بعد اوابین میں ایک پارہ یومیہ پڑھنے اور حضرت مرحوم کو ایصال ثواب کرنے کا معمول بنا لیا ہے جو بفضل الٰہٰی آج تک جاری ہے"۔
(چراغ راہ از مولانا محمد رضوان القاسمی)حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ نے اپنے والد محترم اور اپنے دادا جان کے جس طرز عمل اور قرآن مجید سے والہانہ محبت و شغف اور تعلق وشوق کو بیان کیا ہے، اس میں ہمارے اورآپ سب کے لئے عبرت اورنصیحت کے بہت سےپہلو پوشیدہ ہیں۔
آئیے! ہم سب بھی طے کریں اور تہیہ کریں کہ ہم بھی اپنی اولاد کواسی جذبہ سے حافظ قرآن بنائیں گےاورخلوت میں بلا کر ان سےکہیں گے کہ بیٹا یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے۔ مجھے فراموش مت کرنا اورہم میں سے جوحافظ قرآن ہیں۔ وہ خاص طوراورجو حافظ قرآن نہیں ہیں۔ وہ عام طور پر روزانہ اپنے والدین کے نام قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ایصال ثواب کیلئے ضرور تلاوت کریں۔





































