
ایک فکرانگیز تحریر
روشانہ جمیل
لاء آف اٹریکشن کا کہنا ہے کہ ہر چیزپلٹ کر آتی ہے،وہ منہ سےنکالا گیا لفظ ہی کیوں نہ ہو۔ اچھا بولیں گ اچھا سنیں گے.برا بولیں گے. لوٹ کرآئے
گابرائی سن لیں گے۔ ایسے ہی جو برا کریں گے۔ہوہی نہیں سکتاکہ وہ برائی پلٹ کرنہ آئے۔ اس لیےاپنےالفاظ، خیالات اوراعمال پرنظر رکھیںِ۔ہر چیزواپس پلٹ کرآتی ہے اور جو چیز بھی پلٹ کر آئے۔ اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارے اعمال بھی پلٹ کر ہماری اولاد میں عکس بن کر آتے ہیں کیونکہ ہمارے بچے ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں،جیسے کہ دروازے پردستک ہوئی۔
باپ نے بیٹے سے کہا،جاؤ باہر جا کر کہو۔۔بابا گھر میں نہیں۔۔۔آنے والےکو نہیں پتا چلا کہ بچہ جھوٹ بول رہا ہےمگراللہ دیکھ رہا ہے.... بچے کو سبق ملا غلط بیانی اور جھوٹ بولا جا سکتا ہے.
آج ڈنر کا پروگرام تھا، ابھی گھرپرہی تھےپھوپھو کا فون آگیاکہ وہ آناچاہ رہی تھیں
مگر ماں نے کہا ہم گھر پر نہیں ہیں۔ پھوپھو کو نہیں پتا چلا مگر اللہ تودیکھ رہا ہے ناں ۔
بچے کو سبق ملا رشتوں سے زیادہ اہم اپنی ذات اپنی خواہشات ہیں۔ بہو کے میکے میں شادی تھی وہ جانا چاہ رہی تھی۔.ساس نے بیٹے سے کہا،تم نہیں لے جا سکتے ضروری میٹنگ کا بہانہ کر دینا اور خود تسبیح پرذکر کرنےلگی.۔بہو کو نہیں پتا چلا مگر اللہ تو دیکھ رہا ہے....
بیٹےکو سبق ملا جھوٹ بول کر دنیا والوں کو مطمئن کرلو۔۔اللہ سے بے خوف ہو جاؤ.
ہمارے روزمرہ کےمعاملات ایسے ہی جھوٹ فریب اور ہیراپھیریوں پرمبنی ہوتے ہیں۔
بچے وہ سب دیکھ سن اور سمجھ رہےہوتے ہیں جو بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں ،یہی بچہ جب بڑا ہوگا گانے سنے گا فلمیں ڈرامے دیکھے گا ناجائز دوستیاں کرے گاماں باپ کا گستاخ ہو گا، رشتوں کو توڑے گا، رشوت لے گا،حرام کمائے گا اور ظلم کرے گااوراس وقت ماں باپ کہیں گے کہ ہم نے اس کی اتنی اچھی تربیت کی،مگر یہ اللہ سے ڈرتا نہیں۔دین پر چلتا نہیں۔۔۔ سچائی اور عمل صالح کی بنیاد خوف خدا پر ہوتی ہےاور اس خوف کو دل سے نکالنے والے آپ خود ہیں۔ آپ نے ہی اسے یہ سکھایا ہے ۔
لہٰذا ہمیں اپنا محاسبہ تزکیہ اوراصلاح کرنا ہو گی اور ایسےاعمال کرنا ہوں گے کہ ان کا ری ایکشن پازیٹو ہو۔





































