
روشانہ جمیل
موت نہ عُمر دیکھتی ہے،نہ بیماری،نہ کسی سبب کی محتاج ہے۔کبھی آجائےتو اچانک آجائے،انسان باتیں کرتا کرتا رخصت ہوجاتا ہے۔۔
ہر انسان ناواقف ہے کہ اُس کی موت کیسے آئے گی۔ کب آئے گی؟؟؟۔ اب اپنی ذات پررکھ کردیکھا جائےتو کیا عمل ہو کہ موت آئے تو وہ موجود ہو؟؟؟ ۔ نماز کاسوچا جائے تو بہت اعلٰیٰ ہے کہ انسان نماز میں ہو یا سجدے میں ہواورموت آجائے لیکن ہر وقت نمازمیں ہونا ممکن نہیں۔
انسان قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہے یا تسبیحات سے زبان تر رہے لیکن یہ بھی ہر وقت ممکن نہیں۔۔ ظاہر بات ہے کہ اپنی ضروریات کےتحت کبھی انسان بازار ہوتا ہے۔ کبھی روزگار کی جگہ پر،کبھی سفر میں۔۔۔پھر کونسا عمل ہوسکتا ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ ہو،کبھی تعطل نہ آئے؟؟؟ ایک عمل ایسا ہے جو یہ سعادت عطا کرسکتا ہے کہ موت اُس کے ہوتے ہوئے آ جائے۔یہ عمل وضو کا عمل ہے۔ یعنی انسان ہر وقت باوضو رہے۔ حوائجِ ضروریہ کے لیے گیا تو وضو کرلیا۔جب وضو ٹوٹ جائے تو پھر وضو کرلیا،اس سے دیگر اعمال بہت آسان ہوجایا کرتے ہیں۔
نماز کا وقت آیا تو انسان پہلے سے باوضو ہوگا، مسجد میں وضوخانہ کےرش سے بچ جائےگا۔۔۔نوافل پڑھنےکو دل کرے تو پہلے ہی وضو ہوگا۔ نوافل پڑھنا آسان ہوگا ۔ویسے نماز کے لیے جانا ہو تو دو کام ہوا کرتے ہیں۔ وضو اور پھر نماز۔۔۔۔ ساتھ ساتھ اس طرح ایک عمل رہ جائے گا جو نفس کے لیے بھی مزید آسان ہوگا۔۔۔
قرآن پاک کی تلاوت کرے گا یا تسبیحات کرے گا تودہرا اجر کہ باوضو بھی ہے۔رات کو سوتے ہوئے وضو کرلیا توجاگنے تک عبادت میں رہنے کاثواب ملے گا ۔سات آٹھ گھنٹے تو اسی میں نکل گئے یعنی دن کا تیسرا حصہ اور آج کامرکزی نکتہ کہ جب موت آئے، اللہ کے حضور پیش ہونے کا موقع آئے،اس دنیا سے جانے کا موقع آئے تو انسان ایسی حالت میں ہو۔۔۔
کام مشکل لگتا ضرور ہے لیکن موثرہے۔موت کا خوف ہم سب کے اندرموجود ہے۔اچانک موت سے انسان مزید ڈرتا ہے۔اچانک موت سے پناہ بھی مانگنی چاہیے۔۔۔لیکن وضو کی اس عادت سے نہ صرف ہمارے معمولات آسان ہوجائیں گے بلکہ موت کے وقت بھی اس سعادت کے ساتھ موجود ہونگے کیونکہ چوبیس گھنٹے اہتمام ممکن ہے۔ رات وضو کرکے سونے سے پوری رات عبادت کا ثواب۔۔مجھے،آپ کو ہمت کرنے کی ضرورت ہے، کوشش اور باقاعدگی ہر چیز کو آسان کردیا کرتی ہے۔





































