
روشانہ جمیل
گزشتہ نسلوں کے پاؤں ننگے اورامیدیں بلند تھیں، آج کی نسل کے جوتےمہنگے اور دماغ خالی ہیں۔آج کے صرف کچھ بچوں میں
ہی اسلاف کا عکس نظرآتا ہےکیونکہ ان کےماں باپ بھی ایسے ہی ہیں ۔سب تربیت کااثر ہے۔اپنی تربیت پر نظرثانی کریں ،پھر اولاد کا شکوہ کریں ۔
مہنگے جوتے، مہنگے اسکول، مہنگے ٹیچرومہنگےٹیوٹر، مہنگے کپڑے،اولاد صرف ان سے قابل و لائق و فرماں بردار نہیں بنتی، جو رات قبر میں گزرنی ہے وہ رات کبھی بسترپر نہیں آئے گی۔ اس لیے اپنے لیے خود ہی نیک اعمال کر کےجائیں،کیونکہ ہمارے مرنے کے ٹھیک ایک دو دن بعد ہمارے گھروں میں بریانیاں پکیں گی۔ مرغ پلاؤ بنے گی ،سب بھول جائیں گے کہ کون گیا ہے، اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجائیں گےاورمرنے والا اپنی قبرمیں دعاؤں کا انتظار کرےگاکہ کب کوئی میرے لیے دعا کرے۔
بیٹیاں ماں کا آئینہ ہوتیں ہیں،لہٰذااپنےاپنےآئینوں کو صاف ستھرارکھیں۔۔۔
انہیں دین کی تعلیم دیں کہ انہوں نے آگے جا کےنسلوں کی پرورش کرنی ہے۔ یہ نہیں کہ انہیں دوسروں کو گرانےکےحربے بتائیں کہ دوسروں کو کیسےنیچا دکھانا ہے۔ہر گزنہیں۔۔
انہیں محبت کرنا سکھائیں کہ رشتوں سےمحبت کیسےکرتے ہیں۔ گھرکیسےبسائے جاتےہیں۔ بیٹیوں کو بتائیں کہ عزت کیسے کی اور لی جاتی ہے یہی سب کچھ ہمارے اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔





































