
روشانہ جمیل
اگر لوگ اپنی حاجتیں، ضرورتیں تکالیف اورپریشانیاں آپ کوبتاتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کو سُنیں اورآپ کوسُنا کر انہیں راحت ملتی ہے۔
سوال کرنے کی ہمت نہیں رکھتے لیکن آپ کی زندگی کے رنگوں میں سے تھوڑی سی رنگینی،ذرا سی شیرینی چاہتے ہیں،آپ کی ذات ان کے ڈراؤنےاندھیرے میں جگنو جیسی ہےجس کی روشنی سےوہ راہ دیکھ کرمنزل کو تلاشتے ہیں۔آپ کے چند الفاظ ان کے حوصلے کو تقویت بخشتے ہیں۔
تو اُن سے بیزار مت ہوں ۔اُن سےہرگزنہ اُکتائیں۔ایسے لوگ بہت کم اپنی ذات کے لیے کسی کو قبول کرپاتے ہیں اور قبول کر لینے کے بعد وہ کھلی کتاب کی طرح اُس شخص کے سامنے کُھل جاتے ہیں،پھر جب انہیں تردید کا سامنا کرنا پڑے تو وہی لوگ خودسےہی ہارنےلگتے ہیں۔اپنے ہونے سے چِڑنے لگتے ہیں ۔بُرا توخیر ہوتا ہی بُراہے۔
ان کوپھر اچھا بھی بُرا ہی محسوس ہونے لگتا ہے۔اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسے آپ سے امید وابستہ کرتا ہے تو حتی الامکان اس کی امید کو ٹوٹنے سے بچائیں۔آپ مخلوق کو وقت دیں گے۔رب العالمین آپ کو وقت دے گا۔
آپ مخلوق کو سُنیں گے
رب آپ کو سُنے گا
آپ مخلوق سے محبت کریں گے
رب کریم آپ سے محبت کرے گا
آپ مخلوق کی مدد کریں گے تو رب آپ کی مدد کرے گا۔وہ بڑی باریکی سے تولتا ہے۔اپنےبندوں کے ساتھ برتا جانے والا ہر برتاؤ اور پھر اپنے عدل و انصاف کے ترازو کے ساتھ رحم ومہربانی کرتے ہوئے مکمل قدردانی سے بھی نوازتا ہے۔ یہ اللّٰه تعالیٰ کا فضل ہے آپ پر۔شکر کا مقام ہے کہ وہ ربّ آپ کو مقرّب بندوں میں شامل کرنا چاہتا ہے ۔آپ کو قُرب کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
ہر طرح سے جائز مدد اور خدمت کی کوشش کیا کریں اوراگر آپ کسی کی مدد نہیں کر پاتے تو پریشان مت ہوں۔جس اللّٰه رب العزت نے آپ کو اتنی اہلیت دی ہے کہ آپ پوری توجّہ اوراخلاص سے کسی کو سُن سکتے ہیں۔وہی اللّٰه تعالیٰ لوگوں کےدکھوں کا مداوا بننے کی توفیق بھی دے گا۔





































