
روبینہ اعجاز
کراچی پاکستان کاسب سےبڑا شہر،سندھ کا دارالحکومت اوردنیا کاچھٹابڑاشہر ہےجس کی حیثیت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ
کراچی تجارتی ،صنعتی اورتعلیمی لحاظ سے پاکستان میں سب سے زیادہ آگےہے۔ کراچی کا ہوائی اڈا اور بندرگاہ ملک میں سب سے بڑی ہیں۔ کراچی کی زمین ناصرف رقبہ کےحساب سے وسیع ہےبلکہ اس کے اندر اتنی وسعت ہے کہ یہاں ہر قومیت، ہرزبان ہرنسل ہرپیشے کے لوگ آکر آباد ہیں اوراس نے ان کو اپنے دامن میں پناہ دی ہے۔ کراچی سب کو سہارا دینے والا روزی مہیاکرنے والا شہر ہے۔
ماضی میں کراچی کو روشنیوں کا شہرکہا جاتا تھا۔ یہاں کی سڑکیں صاف ستھری اورکشادہ تھیں۔ یہ ایک پررونق اورپرسکون شہرتھا، مگر اب کچھ سال سے یہاں کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ روشنیوں کے شہر میں اندھیروں کا راج ہے۔ شہر کی یہ حالت زارہے کہ معمول سے زیادہ بارشوں میں یہاں کی تمام سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پورا شہر ندی نالوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہاں کا سکون بے سکونی میں تبدیل ہوچکا ہے ۔گلی محلوں میں چھینا جھپٹی اورمختلف وارداتیں ہوتی ہیں چوری، ڈاکہ زنی سے یہاں کے شہری پریشان ہیں۔جا بجا گندی کےڈھیر نظر آتے ہیں۔سو یہ ایک گندہ اورغیر محفوظ شہر بن چکا ہے۔یہاں تک کہ باغات کو ختم کر کے رہائشی علاقے بنا دیے گئے ہیں۔آبادی بڑھتی جارہی ہے اور وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔ شہر میں درختوں کی کمی کی وجہ سے ہریالی بہت کم نظر آتی ہے۔ سرکاری اسپتال، سرکاری یونیورسٹیاں یہاں کی آبادی کے لحاظ سے کم ہیں لہٰذا نجی تعلیمی ادارے اور اسپتال قائم کیے گئے ہیں جس میں یہاں کے شہری بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔آخرکراچی کےساتھ یہ نا انصافی کب تک ہوتی رہے گی۔اس کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ کیوں اپنایا جا رہا ہے۔ان ابتر حالات میں شہر پکار پکار کر کہہ رہا ہے۔وہ شکوہ کناں ہے کہ:
کس سے دل کی بات کرو ں کون سننے والا ہے
یہاں تو جھوٹی اناؤں نے قد نکالا ہے
آخر کب تک یہاں کی پڑھی لکھی، باشعور عوام خاموشی سے یہ تماشہ دیکھتی رہے گی ۔آخر حق کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے کہ کراچی کو اس کا حق دیں۔ اس کو پہلے جیساپر سکون۔ شہر بنا ئیں۔ یہاں کی عوام کو ہر طرح کی سہولیات دیں۔
یہاں کی عوام کو بھی سمجھ جانا چاہیے کہ ہمارے لئے کون بہتر ہے کون ہمارے برے وقت میں ساتھ دیتا ہے ۔ کون ہماری مشکلوں کو آسان کرتا ہے۔
مستقبل میں شہر کی بہتری کیلئے ابھی سےلانحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ پہلے جیسا شہر بن جائے۔۔





































