
روبینہ اعجاز
عید الاضحی کےقریب ہر طرف بکروں کی میں میں اور گائےکی آوازیں ساتھ ساتھ بچوں کی مختلف آوازیں اوران کا جم غفیر ۔ یعنی آگے آگے
گائیےبکرے پیچھے بیچھے چھوٹے بڑے بچے۔ نوجوان یہ سب کچھ ماحول کو با رونق بنا رہے تھے۔میں یہ سب کچھ اکثراپنے گھر سے دیکھتی اور سوچتی شکرہے ہم ایک اسلامی ملک کے باشندے ہیں آزاد ہیں۔
بچوں اور بڑوں کی قربانی کے جانوروں کےساتھ محبتٓ ان کی خدمت گزاری دیکھ کر احساس ہوتا کہ شکر ہے رب کا کہ بچے بڑے اسلامی تہوار کس جوش وخروش سے منا رہے ہیں۔ یقیناً فلسفہ قربانی اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ اور اپنے والد سے محبت سےبخوبی واقف ہوں گےکہ باپ نے خواب سنایا اور بیٹا اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کو رضامند ہو گیا۔ خیرعیدالاضحٰی خیریت سے گزر گئی۔اب جانوروں کے گوشت پر لوگ ہاتھ صاف کر رہے تھے۔ طرح طرح کے چٹ پٹے پکوان ، نہاری، پائے،بریانی، پھرخاص الخاص تکہ پارٹیوں کے بغیر تو عید پھیکی پھیکی رہ جاتی ہے ان دعوتوں سے مہمانوں کی خاطر داری کی جاتی ہے۔
آج عید کا دوسرا دن تھا۔مجھے کافی شورشرابا محسوس ہوا۔ کان لگا کر سننے کی کوشش کی توبےہنگم غیرملکی گانے۔ساتھ ساتھ نوجوانوں کے قہقہوں کی آوازیں ۔ پر جوش بچےیقینا کہیں تکہ پارٹی ، موسیقی کے ساتھ جوش وخروش سے منائی جا رہی تھی۔ افسوس ہوا کہ وہی افراد جو ابھی تک سنت ابراہمیی کے جذبے سےسرشار تھے۔قربانی ہوتے ہی کس طرح زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونےکی خاطر اپنے ثواب ۔گناہ میں بدل رہے ہیں ۔اسلامی تہواروں میں غیراسلامی اقدار کو آگے لارہے ہیں۔ اصل میں
والدین جہاں سنت ابراہمیی ادا کرنے سےپہلےجانوروں کواپنے گھروں میں لاتے ہیں ۔وہاں بڑوں کا فرض ہے کہ ہر اسلامی تہوارسےپہلےاس کا فلسفہ خود بھی سمجھیں اور اپنےسے چھوٹوں کو بھی سمجھائیں کہ حقیقی خوشی و طمانیت اسی میں پنہاں ہےکہ اپنی اولادوں کو اسماعیل علیہ السلام جیسا بنائیں مگر تربیت بھی تو حضرت ابراہیم جیسی کرنی ہوگی۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی





































